یقیناً حکومتیں ایک کام بہت اچھے طریقے سے کرتی ہیں، اور وہ ہے معمولی کامیابیوں پر خود ستائشی، جو درحقیقت گہرے ساختی مسائل پر پردہ ڈالتی ہے۔ اکنامک سروے 25-2024 سے ایک براہِ راست اقتباس پیش ہے: ”بالواسطہ ٹیکسوں کے مقابلے میں براہِ راست ٹیکسوں میں اضافے سے حکومت کے ٹیکس نظام کو زیادہ ترقی پسند اور منصفانہ بنانے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔“ یہ جملہ سننے میں امید افزا لگتا ہے، لیکن حقیقت اتنی خوش کن نہیں۔
ہم جتنا بھی پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کی بات کرتے ہیں — ان کی فوری ضرورت اور ان کی عملی عدم موجودگی — اور جتنا بھی آئی ایم ایف جیسے اداروں سے حکومت کو ٹیکس اصلاحات پر مشورے ملے ہیں، ہمارا ٹیکس نظام اب بھی بنیادی خامیوں کا شکار ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ نہ صرف کم ترقی پسند بلکہ کم منصفانہ ہوتا جا رہا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے فیڈرل ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 8 سے 10 فیصد کے درمیان ہی گھومتی رہی ہے۔ مالی سال 25 میں یہ شرح بمشکل 10 فیصد سے کچھ اوپر گئی — جو کہ مالی سال 24 کی 8.8 فیصد شرح سے معمولی بہتری ہے۔ لیکن یہ بھی اس وقت ممکن ہوا جب ٹیکس وصولیوں کا ہدف ہی حاصل نہ کیا جا سکا۔ جب آمدن پہلے سے محدود بجٹ کو بھی پورا نہ کرے تو ناگزیر اخراجات میں کٹوتی کرنی پڑتی ہے، اور یہی کچھ اکثر ترقیاتی پروگراموں (پی ایس ڈی پی) کے ساتھ ہوتا ہے۔
مالی سال 25 میں ترقیاتی اخراجات جی ڈی پی کے صرف 2.5 فیصد کے برابر تھے۔ اس کے مقابلے میں سود کی ادائیگیوں نے ٹیکس آمدن کا 7.9 فیصد حصہ نگل لیا۔ حکومت کے مالی وسائل کی گنجائش نہایت تنگ ہے، جو اسٹیٹ بینک کی مالی معاونت اور بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی پر کھڑی ہے۔
ٹیکس نظام کے مسائل حکومت اور ایف بی آر دونوں کے علم میں ہیں۔ ٹیکس چوری، ناقص تعمیل، اور کمزور نفاذ جیسے مسائل تسلیم شدہ ہیں۔ ان مسائل کے باعث آمدن میں کمی آتی ہے، اور ٹیکس کا بوجھ ان پر منتقل ہو جاتا ہے جن پر ٹیکس لگانا آسان ہوتا ہے — یعنی صارفین۔
مالی سال 25 میں بالواسطہ ٹیکسوں کا کل ٹیکس آمدن میں حصہ 57 فیصد رہا، جو مالی سال 24 کے 51 فیصد سے بڑھ گیا ہے۔
سال 2000 سے لے کر اب تک، بالواسطہ ٹیکسز کا اوسط حصہ 62 فیصد رہا ہے، جبکہ براہِ راست ٹیکسز کا حصہ اوسطاً 38 فیصد رہا۔ اس عرصے کے دوران، اگرچہ براہِ راست ٹیکسز کی شرح نمو زیادہ رہی — 17 فیصد کے مقابلے میں بالواسطہ ٹیکسز کی شرح نمو 14 فیصد — لیکن یہ بحث طلب ہے کہ آیا اس رفتار سے نظام زیادہ منصفانہ اور ترقی پسند ہوا یا نہیں۔
دو اہم اعداد و شمار خاص توجہ کے مستحق ہیں۔ پہلا یہ کہ براہِ راست ٹیکسوں کی اکثریت انکم ٹیکس پر مبنی ہے — گزشتہ 40 سال کے دوران اوسطاً 96 فیصد۔ اور ان انکم ٹیکسز میں سے زیادہ تر ود ہولڈنگ ٹیکسز کی صورت میں وصول کیے جاتے ہیں — گزشتہ دہائی میں اوسطاً 68 فیصد۔ یعنی زیادہ تر انکم ٹیکس دراصل اندازے کی بنیاد پر وصول کیے جاتے ہیں، جہاں مختلف اقسام کی ٹرانزیکشنز پر مختلف شرحیں لاگو ہوتی ہیں — جیسے درآمدات، معاہدے، منافع، اور یوٹیلیٹی بلز وغیرہ۔
ملازمین کی تنخواہوں پر کٹوتی کے ذریعے جمع کیے جانے والے ٹیکسز، کل ود ہولڈنگ ٹیکس وصولیوں کا صرف 10 تا 12 فیصد بنتے ہیں۔ کئی معاملات میں یہ ٹیکس حتمی ہوتے ہیں، خاص طور پر نان فائلرز کی بڑی تعداد کی وجہ سے، جس کا مطلب ہے کہ حکومت کو اصل آمدن کا اندازہ لگانے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ۔۔ ایک اہم مقالے میں، ایف بی آر کے سابق چیئرمین اشفاق احمد نے ودہولڈنگ ٹیکس کے رجحان کو نہایت مناسب انداز میں ریاست کی جانب سے ”اندھا دھند معاشی سرگرمیوں پر قبضہ“ سے تعبیر کیا، جو کہ مفروضہ ٹیکسیشن (Presumptive Taxation) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق، ٹیکس کی ترقی پسندی — یعنی افراد سے ان کی ادائیگی کی صلاحیت کے مطابق ٹیکس لینا تاکہ زیادہ آمدنی والے افراد اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ بطور ٹیکس ادا کریں — سب سے پہلی قربانی ہوتی ہے جب ٹیکس نظام ودہولڈنگ پر منحصر ہو جائے۔
یہ تبدیلی اتفاقاً نہیں ہوئی۔ حکومت کے پاس نہ تو یہ صلاحیت نظر آتی ہے اور نہ ہی محرک، کہ وہ لوگوں کی اصل آمدنی اور ادائیگی کی صلاحیت کو جانچ کر صحیح ٹیکس بیس متعین کرے۔ ودہولڈنگ میکانزم کے ذریعے ٹیکس وصولی کے اس طریقے نے دراصل براہِ راست ٹیکسوں کو بالواسطہ بنا دیا ہے، جہاں آمدنی کی سطح کی پرواہ کیے بغیر تمام ٹرانزیکشنز پر یکساں شرح لاگو کی جاتی ہے۔ اس عمل سے ”انصاف“ کا مفہوم ہی مسخ ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ گزشتہ چند سالوں میں براہِ راست ٹیکسوں کی شرحِ نمو بالواسطہ ٹیکسوں سے زیادہ رہی ہے، لیکن محض وصولی کے طریقہ کار کی بنا پر یہ ٹیکس ترقی پسند نہیں کہلا سکتے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکومت ایک بہت بڑی اور مسلسل بڑھتی ہوئی ممکنہ آمدن سے دستبردار ہو رہی ہے۔ ٹیکس اخراجات — یعنی مخصوص شعبوں کو دی گئی چھوٹ اور رعایتیں — مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کا تخمینی طور پر 5.5 فیصد تھیں، جو کہ وفاقی ٹیکس وصولیوں کے کل حجم کے 63 فیصد کے برابر ہے۔
ٹیکس اخراجات کی شرح نمو بھی ایف بی آر کی اصل ٹیکس آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔ موازنہ کے لیے، 2011 سے 2024 کے درمیان ٹیکس آمدن کی اوسط شرح نمو 15 فیصد رہی، جبکہ اس دوران چھوٹ دیے گئے ٹیکسز کی اوسط شرح نمو 32 فیصد تھی۔
یہ بات واضح ہے کہ ٹیکس مراعات بذات خود کوئی غلط چیز نہیں۔ کئی ممالک سرمایہ کاری یا برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جو ممالک زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں وہی زیادہ فراخ دل بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ اس سخاوت کے متحمل ہو سکتے ہیں! پاکستان، جو مستقل کمزور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح (8 سے 9 فیصد) کے ساتھ چل رہا ہے، ایسی فیاضی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس کا موازنہ کریں ایشیا پیسیفک کے 20 فیصد اور او ای سی ڈی کے 33 فیصد کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب سے — جہاں ٹیکس اخراجات جی ڈی پی کے صرف 3 سے 4 فیصد کے قریب ہوتے ہیں۔
پاکستان میں ٹیکس چھوٹ کی سطح ان تمام خطوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ایک بڑے غیر رسمی معیشت اور بے لگام ٹیکس چوری کے تناظر میں، یہ چھوٹ ناقابل برداشت ہی نہیں، بلکہ غیر منصفانہ بھی ہے۔
صاف بات یہ ہے کہ ٹیکس آمدن میں اضافہ، خاص طور پر براہِ راست ٹیکسوں سے، نہ تو ترقی پسندی کی طرف کسی ساختی تبدیلی کا اشارہ ہے اور نہ ہی کسی منصفانہ نظام کا۔ بلکہ، یہ صرف ایک عارضی بندوبست کو ظاہر کرتا ہے — جو بالواسطہ لیویز اور مفروضہ ٹیکسنگ کے ذریعے مالی خسارے پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
پاکستان میں جو کچھ ”اصلاحات“ کہلایا جاتا ہے، اس نے ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنانے کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔ بااثر طبقے ٹیکس کے نظام میں واضح طور پر موجود ہوتے ہوئے بھی محفوظ ہیں، جبکہ اس نظام کا اصل بوجھ ہمیشہ انہی لوگوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی زیرِ بار ہوتے ہیں۔ حکومت جو کچھ اور کہتی ہے، وہ سراسر جھوٹ ہے۔






















Comments
Comments are closed.