1,700 میگاواٹ سستی بجلی کی بندش پر نیپرا کا اظہار تشویش
- چیئرمین نیپرا نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور گڈو 747 کے اسٹیم ٹربائن یونٹ کی طویل بندش پر خدشات کا اظہار کیا ہے
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دو سرکاری پاور پلانٹس سے 1,700 میگاواٹ سے زائد سستی بجلی کی مسلسل بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث صارفین پر مالی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپرا کے باخبر ذرائع نے بدھ کے روز بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے یہ خدشات متعلقہ اسٹیک ہولڈر کو تحریری طور پر پہنچائے ہیں۔
چیئرمین نیپرا کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (این جے ایچ پی پی) کو پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور ایندھن پر انحصار کم کرنے کے مقصد سے تعمیر کیا گیا تھا، لیکن کمیشننگ کے بعد سے اس منصوبے کو متعدد مسائل کا سامنا رہا، جن میں دو بڑے شٹ ڈاؤن بھی شامل ہیں۔ پہلا شٹ ڈاؤن 5 جولائی 2022 سے 6 اگست 2023 تک جاری رہا، جبکہ دوسرا شٹ ڈاؤن یکم مئی 2024 سے تاحال جاری ہے۔
پراجیکٹ کی موجودہ بندش کی وجہ ہیڈریس ٹنل میں پریشر کی مسلسل کمی ہے، جبکہ معائنے کے دوران ٹنل کی دیواروں کے گرنے، سلٹ جمع ہونے، انفرا اسٹرکچر کو نقصان، پانی کے رساؤ اور دیگر تکنیکی مسائل کی نشاندہی ہوئی، جس کے باعث منصوبہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔
چیئرمین نیپرا کے مطابق 2008 سے 2018 کے درمیان کے الییکٹرک کے سوا باقی تمام بجلی صارفین سے نیلم جہلم سرچارج کی مد میں فی یونٹ 0.1 روپے اضافی وصول کیے گئے، جس سے مجموعی طور پر تقریباً 75.484 ارب روپے جمع کیے گئے، جو اس منصوبے کی تعمیر کے لیے استعمال کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبے کی طویل غیر اعلانیہ بندش کے باعث یہ منصوبہ قومی گرڈ میں مکمل بجلی فراہم نہیں کر پا رہا، جس کے نتیجے میں سسٹم آپریٹر کو مہنگے پلانٹس چلانا پڑ رہے ہیں۔ اس سے بجلی صارفین کو ہر ماہ اوسطاً 0.54 روپے فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔ یہ اضافی مالی بوجھ اس منصوبے سے متوقع فوائد نہ ملنے کی وجہ سے ہے اور مستقبل قریب میں اس کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) کے مطابق، پراجیکٹ کی بحالی کے لیے کنٹریکٹ ایوارڈ کے بعد درکار مرمتی کام مکمل ہونے میں تقریباً دو سال لگ سکتے ہیں، جو نہایت تشویشناک بات ہے کیونکہ اس دوران صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑتا رہے گا۔ یاد رہے کہ صارفین نے اس منصوبے کی تعمیر کے لیے تقریباً دس سال تک مالی حصہ دیا ہے۔
اس کے علاوہ، گڈو 747 کے اسٹیم ٹربائن یونٹ کی طویل بندش پر بھی نیپرا نے ماضی میں کئی بار تشویش کا اظہار کیا تھا۔ یہ یونٹ جولائی 2022 میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد سے بند ہے۔
چیئرمین نیپرا نے ایک بار پھر زور دیا کہ گڈو 747 پلانٹ مقامی گیس پر مبنی، موثر ترین پلانٹس میں شامل ہے اور اقتصادی میرٹ آرڈر میں اس کا بلند مقام ہے۔ تاہم، اس یونٹ کی بندش کے باعث گڈو کمپلیکس کی پیداواری صلاحیت نمایاں حد تک متاثر ہوئی ہے، اور پلانٹ کو اوپن سائیکل آپریشن پر چلانا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے سسٹم کو مہنگے اور کم موثر پلانٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس بندش کی وجہ سے اب تک صارفین کو تقریباً 127 ارب روپے (453 ملین ڈالر) کا نقصان ہو چکا ہے، اور یہ نقصان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
چیئرمین نیپرا نے یہ بھی کہا کہ گڈو کمپلیکس کی بجلی پیداواری تنصیبات سسٹم میں استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں، خاص طور پر ری ایکٹیو پاور (ایم وی اے آرز) کی فراہمی کے ذریعے۔ تاہم، طویل بندش کے باعث پلانٹ مطلوبہ ایم وی اے آرز فراہم کرنے سے قاصر ہے، جس سے بجلی کا نظام غیر مستحکم ہو رہا ہے اور بڑے بریک ڈاؤن کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
آخر میں چیئرمین نیپرا نے زور دیا کہ دونوں منصوبوں کی بحالی انتہائی اہم ہے کیونکہ ان کی بندش سے نہ صرف مالی نقصان ہو رہا ہے بلکہ صارفین پر بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ گڈو 747 اسٹیم ٹربائن یونٹ اور نیلم جہلم منصوبے کی بحالی کا کام جلد از جلد مکمل کیا جا سکے، تاکہ مزید مسائل سے بچا جا سکے اور صارفین کو اضافی بوجھ سے نجات مل سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.