طویل تاخیر کے بعد ریگولیٹر — نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) — نے بالآخر بجلی کی سہولت فراہم کرنے والے واحد نجی ادارے کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر توانائی کی جانب سے نیپرا کے اُس فیصلے پر تنقید کے بعد جس میں کراچی الیکٹرک (کے الیکٹرک) کو ریکوری لاسز شامل کرنے کی اجازت دی گئی، میڈیا میں خاصی ہنگامہ خیزی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم اس تنازع میں الجھنے سے پہلے یہ بات اجاگر کرنا ضروری ہے کہ یہ فیصلہ درست سمت میں ایک قدم ہے کیونکہ اس سے کے الیکٹرک کی مالیت اس کے شیئر ہولڈرز کے لیے واضح ہو سکے گی۔
یہ فیصلہ نہ صرف موجودہ شیئر ہولڈرز کے درمیان تنازعات کے خاتمے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ کمپنی میں مطلوبہ سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے گا جو کراچی جیسے معاشی مرکز اور کروڑوں کی آبادی والے شہر کو بلا تعطل اور پائیدار بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔
مزید برآں یہ فیصلہ بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کی بنیاد رکھتا ہے — جو توانائی شعبے میں ترسیل و تقسیم کے نظام کی دیرینہ اور ضروری اصلاحات کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ اب تک اصلاحاتی کوششیں زیادہ تر صرف بجلی کی پیداوار تک محدود رہی ہیں۔
بدقسمتی سے موجودہ بحث کا مرکز صرف کے الیکٹرک کو ریکوری لاسز پر معاوضہ دینے تک محدود ہے۔ دستاویزی طور پر، کے ای کے ریکوری لاسز چند دیگر ڈسکوز کے مقابلے میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ نام نہاد ”بہتر کارکردگی دکھانے والی“ ڈسکوز میں مالی سال 2024-25 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران 0 سے 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین سے وصولی 100 فیصد سے بھی تجاوز کرگئی جبکہ زیادہ یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کی ریکوری 80 فیصد کی سطح پر گرگئی۔
کے الیکٹرک کا رجحان بھی کچھ حد تک ایسا ہی ہے تاہم اس کی مجموعی ریکوری کی شرح نسبتاً کم ہے — 0 سے 200 یونٹس والے صارفین کیلئے اوسطاً 80 کی دہائی میں جب کہ زیادہ یونٹس والے صارفین کیلئے یہ شرح 70 کی دہائی کے وسط میں ہے۔ یہ اعدادوشمار ایک طرف دیگر ڈسکوز کی جانب سے اوور بلنگ کی نشاندہی کرتے ہیں تو دوسری جانب کے الیکٹرک کی وصولی کی کمزور کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کو یہ اخراجات مختلف صارفین پر منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
تاہم اس مالی بوجھ کو ایماندار صارفین پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے جبکہ دیگر ڈسکوز بھی یہی طریقہ اپنائے ہوئے ہیں مگر وہ اسے بغیر کسی شفافیت کے کر رہی ہیں۔
پی ایچ ایل سرچارج (فی یونٹ 3.23 روپے) جو ملک بھر کے تمام بجلی صارفین بشمول کے الیکٹرک کے ادا کرتے ہیں، ماضی کے ریاستی ملکیتی ڈسکوز کے نقصانات کا ورثہ ہے۔ یہ سرکاری ادارے اپنے مالی نقصانات کے ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جاتے بلکہ یہ لاگتیں بدنام زمانہ سرکلر ڈیٹ میں شامل کر دی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، کے الیکٹرک کے شیئر ہولڈرز خود نقصانات اٹھاتے ہیں اور اپنی لاگت کی واپسی کے جائز حقوق رکھتے ہیں۔
آگے کا راستہ کے الیکٹرک کے نقصانات کم کرنے اور دیگر ڈسکوز کی اوور بلنگ ختم کرنے پر مرکوز ہونا چاہیے۔ میڈیا کی نگرانی کے ذریعے کے الیکٹرک کو اپنی وصولیوں کو بہتر بنانے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔
نیپرا کی منظوری سے کے الیکٹرک کے مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات 2009 میں 43.2 فیصد سے کم ہوکر آج 20.3 فیصد تک پہنچ چکے ہیں اور 2030 تک اسے 15.3 فیصد تک لانے کا واضح ہدف مقرر ہے۔ پاور ڈویژن کی تنقید درحقیقت موجودہ انتظامیہ کے خلاف تحفظات پر مبنی ہے جب کہ نیپرا نے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول پاور ڈویژن سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے۔ اگر کوئی اعتراض تھا تو اسے مشاورتی عمل کے دوران ہی اٹھانا چاہیے تھا۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ کراچی ایک پیچیدہ شہر ہے اور نجی آپریٹر نے گزشتہ 15 سال میں اپنے نقصانات آدھے کردیے ہیں، اگر دیگر ڈسکوز نے بھی ایسے نتائج حاصل کیے ہوتے تو ملک کو نمایاں مالی بچت ہوتی۔
نقصانات آئندہ 7 سال میں کم کئے جائینگے — اور یہی معیار دیگر ڈسکوز پر بھی لاگو ہونا چاہیے،تاہم یہ ممکن بنانے کیلئے سرمایہ کاری اور ماہر انتظامیہ ضروری ہے۔ بغیر کارپوریٹائزیشن اور نجکاری کے ایسے نتائج ممکن نہیں۔ آگے بڑھنے کیلئے ڈسکوز کو اپنے نقصانات کا جوابدہ بنایا جائے اور بہتر کارکردگی پر انعام دیا جائے۔ انہیں اپنے ملٹی-ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) اور نجی سرمایہ کاری تک رسائی کی ضرورت ہے —جو پاکستان کے وسیع اور ترقی پذیر پاور سیکٹر کیلئے مفید ثابت ہوگی۔ کے الیکٹرک کی ایم وائی ٹی منظوری اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.