BR100 Decreased By (-0.58%)
BR30 Decreased By (-0.82%)
KSE100 Decreased By (-0.45%)
KSE30 Decreased By (-0.42%)
BAFL 56.37 Decreased By ▼ -0.10 (-0.18%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.98 Decreased By ▼ -0.14 (-0.46%)
CNERGY 12.79 Decreased By ▼ -0.19 (-1.46%)
DFML 18.05 Increased By ▲ 0.56 (3.2%)
DGKC 185.55 Decreased By ▼ -1.67 (-0.89%)
FABL 93.39 Decreased By ▼ -0.32 (-0.34%)
FCCL 51.04 Decreased By ▼ -0.61 (-1.18%)
FFL 14.44 Decreased By ▼ -0.05 (-0.35%)
GGL 18.88 Decreased By ▼ -0.16 (-0.84%)
HBL 301.88 Decreased By ▼ -1.90 (-0.63%)
HUBC 198.20 Decreased By ▼ -0.76 (-0.38%)
HUMNL 9.85 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.05 Decreased By ▼ -0.12 (-0.46%)
MLCF 89.50 Decreased By ▼ -1.73 (-1.9%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 34.90 Decreased By ▼ -0.34 (-0.96%)
PIBTL 14.32 Decreased By ▼ -0.39 (-2.65%)
PIOC 235.99 Decreased By ▼ -3.63 (-1.51%)
PPL 219.00 Decreased By ▼ -2.36 (-1.07%)
PRL 91.70 Increased By ▲ 0.48 (0.53%)
SNGP 90.64 Decreased By ▼ -0.23 (-0.25%)
SSGC 23.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.48 Decreased By ▼ -0.13 (-1.71%)
TPLP 12.20 Decreased By ▼ -0.36 (-2.87%)
TRG 55.33 Decreased By ▼ -0.46 (-0.82%)
UNITY 8.00 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ازبکستان-افغانستان-پاکستان (یو اے پی) ریلوے لائن منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

573 کلومیٹر طویل ریلوے لائن، جو تاشقند سے کابل اور پھر پشاور تک جاتی ہے اور گوادر اور کراچی بندرگاہوں سے منسلک ہوتی ہے، کی لاگت تقریباً 4.8 ارب ڈالر تخمینہ کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ وسطی ایشیا کی زمین سے محروم معیشتوں کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے والا ایک اہم ذریعہ بننے جا رہا ہے، جو اقتصادی تعلقات کو تیز رفتاری سے فروغ دے گا اور علاقائی رابطے کو گہرائی فراہم کرے گا۔

دفترخارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرا نے یو اے پی ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی اہمیت پر اتفاق کیا، جو اس بنیادی ڈھانچے کے وژن کو مستحکم کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب اسحاق ڈار نے حال ہی میں ازبکستان کے وزیرخارجہ سے منصوبے کی آئندہ دستخطی تقریب کے حتمی امور پر کوآڈینیشن کے لیے بات کی تھی۔

انفرااسٹرکچر سے بڑھ کر اس فون کال نے سفارتی تعلقات میں بھی ایک نئے باب کی نشاندہی کی۔ افغانستان کے امیر خان متقی نے پاکستان کے حالیہ اقدام کو سراہا جس میں کابل میں اپنے سفارتی مشن کو چارچ افیر سے سفیر کی سطح تک بڑھایا گیا ہے—اور کابل نے بھی بدلے میں اسلام آباد میں اپنے سفیر کی تعیناتی کا اعلان کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط عدم اعتماد اور تنازعات کی وجہ سے سفارتی تعلقات محدود رہ کر چارچ افیئرز کی قیادت میں رہے ہیں۔

امیر خان متقی کے مطابق یہ ایک نہایت مثبت پیش رفت ہے ۔ دونوں ممالک کی جانب سے سفارتخانوں کی سطح میں بہتری چین اور متحدہ عرب امارات کے مشابہ اقدامات کی پیروی ہے، جو طالبان حکومت سے سفیر قبول کرنے والے پہلے ممالک میں شامل ہیں اور یہ افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ عالمی سطح پر محتاط مگر واضح تعلقات کی جانب اشارہ ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اپریل میں اسحاق ڈار کے کابل کے دورے کے دوران طے پانے والے متعدد معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا، اور خطے میں تاریخی طور پر موجود جغرافیائی کشیدگی کے باوجود باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.