وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے توانائی کے ضیاع کی روک تھام کے لیے بلڈنگ کوڈز کے نفاذ میں تعاون حاصل کرنے کی غرض سے صوبائی وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال سے باضابطہ رابطہ کیا ہے۔
اویس لغاری نے منصوبہ بندی کے وزیر اور تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ارسال کردہ خطوط میں یکم جنوری 2025 کو ارسال کیے گئے اپنے سابقہ مراسلے کا حوالہ دیا جس میں ”انرجی بلڈنگ کوڈ 2023 کے نفاذ“ کا ذکر کیا گیا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ عمارتوں کا شعبہ قومی توانائی بحران میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے، جو ملک کی مجموعی توانائی کھپت کا 60 فیصد سے زائد حصہ استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، گرمیوں کے مہینوں میں کولنگ لوڈز کی وجہ سے اس شعبے کی توانائی کی طلب میں شدید اضافہ ہوتا ہے، جس کی بنیادی وجہ روایتی عمارتوں کے ڈیزائن ہیں جن میں توانائی کی بچت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ وزیرِاعظم نے یکم فروری 2023 کو توانائی کی بچت سے متعلق ایک اسٹریٹجک روڈ میپ اجلاس میں نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا) کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان کے بلڈنگ کوڈ (انرجی پروویژنز 2011) کو ازسرنو ترتیب دے۔
اس ہدایت کے تحت ترقیاتی اداروں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے بلڈنگ بائی لاز میں توانائی کی بچت سے متعلق اقدامات شامل کریں۔ نظر ثانی شدہ انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ (ای سی بی سی-2023) کو وفاقی کابینہ نے 9 اگست 2023 کو منظور کیا جبکہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے بھی تمام صوبوں کو اس کے نفاذ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وزیر توانائی نے کہا کہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے میں عمارتوں کا کردار نہ صرف عوامی بلکہ نجی شعبے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ہونے والی سرکاری سرمایہ کاری اور میونسپل اداروں کے تحت ہونے والی نجی ترقیات توانائی کی بچت کے فروغ کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔
اویس لغاری نے اپنی تجویز کا اعادہ کیا کہ ای سی بی سی-2023 کو پی ایس ڈی پی منصوبوں میں شامل کیا جائے اور پلاننگ کمیشن کے دستی کتابچوں (پی سی-1 سے پی سی-5) میں توانائی کی بچت کا تجزیاتی حصہ شامل کیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ انفراسٹرکچر سے متعلق پی ایس ڈی پی منصوبوں کی منظوری کو روایتی ڈیزائن کے مقابلے میں کم از کم 50 فیصد توانائی کی بچت سے مشروط کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.