وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز برطانیہ میں مقیم معروف سماجی اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کاروباری شخصیت بلال بن ثاقب کو بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کے امور پر اپنا معاونِ خصوصی مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان کو عالمی کرپٹو نقشے پر لانے کی ایک جرأت مندانہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، بلال بن ثاقب کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا ہے۔ وہ ڈیجیٹل اثاثہ جات کے لیے قومی حکمتِ عملی کی تشکیل، کرپٹو کرنسی کے قواعد و ضوابط کی تیاری، بٹ کوائن مائننگ کے آپریشنز کے قیام، اور زمینوں کے ریکارڈ اور عوامی مالیات جیسے شعبوں میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے انضمام کی کوششوں کی قیادت کریں گے۔
بلال بن ثاقب اس وقت پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اور حال ہی میں انہیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا چیف ایڈوائزر بھی مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی نئی ذمہ داری سے پاکستان کی ڈیجیٹل اثاثہ جاتی دنیا میں شمولیت کے عمل میں نمایاں تیزی آنے کی توقع ہے۔
یہ تقرری حکومت کی اُس پالیسی کے تسلسل میں کی گئی ہے جو اتوار کے روز سامنے آئی، جس کے تحت بٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2,000 میگاواٹ بجلی مختص کی گئی ہے۔
ساتھ ہی وزارت خزانہ نے پاکستان ڈیجیٹل ایسٹس اتھارٹی (پی ڈی اے اے) کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو ایک نیا ریگولیٹری ادارہ ہوگا۔ یہ ادارہ کرپٹو کرنسیوں کے لیے قانونی فریم ورک تشکیل دے گا، اثاثہ جات کی ٹوکنائزیشن کی نگرانی کرے گا، اور پاکستان کی تقریباً 300 ارب ڈالر مالیت کی غیر رسمی کرپٹو مارکیٹ کو ضابطے میں لائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اتھارٹی فِن ٹیک سیکٹر کو فروغ دینے، سرمایہ کاری لانے، اضافی توانائی کے استعمال اور نوجوانوں میں اختراعات کی حوصلہ افزائی میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ پاکستان کی 70 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
پاکستان پہلے ہی دنیا میں کرپٹو کرنسی اپنانے کی شرح کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھتا ہے، جہاں 5 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں۔ بلال بن ثاقب کی تقرری اس تیزی سے ترقی کرتے ہوئے شعبے کو باضابطہ شکل دینے اور اس میں شفافیت لانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
بلال بن ثاقب لندن اسکول آف اکنامکس سے فارغ التحصیل ہیں اور انہوں نے کورونا وبا کے دوران برطانیہ میں ”ون ملین میلز“ مہم کے ذریعے قومی صحت کے عملے اور کمزور طبقات کے لیے 100,000 سے زائد کھانے فراہم کیے۔ اس مہم پر انہیں برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے ایم بی ای ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ ملکہ الزبتھ دوم اور میئر لندن کی جانب سے بھی ان کی خدمات کو سراہا گیا۔
پاکستان میں وہ ”طیبہ“ نامی ایک سماجی ادارے کے بانی ہیں، جس نے دیہی علاقوں میں پانی بھرنے کے لیے ”ایچ 2 او ویل“ جیسا مفید آلہ متعارف کرایا۔
بلال بن ثاقب کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے، ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق پالیسی سازی، اور کرپٹو ایکو سسٹم میں عالمی سطح پر پاکستان کو مقام دلانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے موزوں شخصیت قرار دیا جا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.