بانی سے ملاقات نہ کروائی تو آئی ایم ایف معاہدے پر ساتھ نہیں دینگے، علی امین گنڈا پور
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے واضح کیا کہ جب تک پارٹی کے بانی عمران خان کو پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، ان کی حکومت آئی ایم ایف معاہدے کے لیے وفاقی حکومت کا ساتھ نہیں دے گی۔
اچڈیالہ جیل کے باہر سابق وزیرِاعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے مطالبہ کیا کہ پانچ سے چھ سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ آئندہ مالی سال کے لیے خیبر پختونخوا کے بجٹ کو حتمی شکل دی جا سکے۔
یہ اہم الٹی میٹم ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور اسلام آباد پاکستان کی کمزور معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے اور اہم معاہدے کی تلاش میں ہے۔
علی امین گنڈا پور نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا،اس کے ازالے کے لیے آئین کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کا قیام ناگزیر ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف زیر التوا مقدمات پر فوری عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا اور عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ ان کیسز پر حتمی فیصلے سنائے اور عمران خان کی فوری رہائی یقینی بنائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین مذاکرات کے لیے تیار ہیں ۔
بجٹ کے حوالے سے علی امین گنڈا پور نے پُراعتماد انداز میں دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے اپنے کارکردگی کے اہداف مکمل کیے، اور وعدہ کیا کہ آنے والا اب تک کا بہترین بجٹ ہوگا۔
وفاقی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے، علی امین گنڈا پور نے دوبارہ خبردار کیا کہ اسلام آباد کی قیادت اگر خیبر پختونخوا کے تئیں اپنا رویہ تبدیل نہیں کریگی تو کے پی آئی ایم ایف مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کر دے گا۔
40 ارب روپے کے مبینہ کرپشن اسکینڈل کے حوالے سے، علی امین گنڈا پور نے سابق وزیر اعلیٰ محمود خان اور سابق وزیر خزانہ تیمور خان جھگڑا پر سخت تنقید کی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے اب تک 20 ارب روپے کی واپسی کر لی ہے اور باقی رقم بھی واپس لینے کا عزم رکھتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.