آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ کے لیے اپنی تجاویز وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کو بھجوا دی ہیں اور ان پر تفصیلی تبادلہ خیال کے لیے ملاقات کی درخواست بھی کی ہے۔
توانائی کے شعبے سے متعلق تجاویز:
1 . صنعتی شعبے کے لیے 9 سینٹ فی یونٹ کی علاقائی مسابقتی بجلی نرخ کو یقینی بنایا جائے۔ 2. دیگر شعبوں کو دی جانے والی 100 ارب روپے کی سبسڈی ختم کی جائے۔ 3. ٹائم آف یوز (ٹی او یو) ٹیرف نظام کو ختم کرکے یکساں ٹیرف نافذ کیا جائے۔ 4. سی ٹی بی سی ایم یا کسی اور نظام کے تحت بی ٹو بی (کاروبار سے کاروبار) بجلی کے معاہدوں کی اجازت دی جائے۔
گیس کے شعبے سے متعلق تجاویز:
1 . کو جنریشن صارفین کو صنعتی پراسیس گیس ٹیرف میں دوبارہ شامل کیا جائے۔ 2. گرڈ ٹرانزیشن لیوی کی درست حساب کتاب کی جائے تاکہ اصل نرخ اور لاگت کی عکاسی ہو سکے۔ 3. شفاف اور مسابقتی بولی کے ذریعے تھرڈ پارٹی ایکسس کے تحت گھریلو گیس کی بی ٹو بی خریداری کی اجازت دی جائے، اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو اپنی ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔
ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم سے متعلق:
1 . اسکیم کو جون 2024 کے فریم ورک پر بحال کیا جائے اور مقامی سپلائی پر زیرو ریٹنگ نافذ کی جائے۔ تاہم، آئی ایم ایف کی جانب سے اس پر رضامندی نہیں دی جا رہی۔ 2. اس صورت میں یارن اور فیبرک جیسے خام مال کی درآمدات کی منفی فہرست نافذ کرنا ہی واحد قابلِ عمل حل ہے۔
کارپوریٹ انکم ٹیکس:
برآمدی آمدنی پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کیا جائے تاکہ برآمد کنندگان صرف معمول کے پیشگی اور متوقع ٹیکس نظام کے تحت ٹیکس ادا کریں۔
سیلز ٹیکس نظام:
بھارت کے ماڈل کی طرز پر تدریجی سیلز ٹیکس نظام رائج کیا جائے جس میں ویلیو چین کے ابتدائی مراحل پر کم نرخ ہوں اور حتمی مصنوعات پر زیادہ، تاکہ ٹیکس کی تعمیل میں بہتری، چوری میں کمی، اور مسابقتی پیداواری لاگت حاصل ہو۔
بقایاجات اور ریفنڈز:
1 . صنعت کو ریفنڈز کی مد میں شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے؛ تمام بقایاجات فوری طور پر ادا کی جائیں۔
سرمایہ کاری اور برآمدات میں سہولت:
1 . ڈی ایل ٹی ایل، برآمدی ریبیٹ اسکیمز، اور ٹیکس ریلیف جیسے مراعاتی اقدامات متعارف کروائے جائیں۔ 2. برآمدی صنعت میں نئی سرمایہ کاری پر ٹیکس کریڈٹ دیے جائیں۔ 3. نئی مصنوعات اور نئے بازاروں کی برآمدات کے لیے اہدافی مراعات فراہم کی جائیں۔ 4. ایگزم بینک کے تحت ٹی ای آر ایف اور ایل ٹی ایف ایف جیسے فنانسنگ اسکیمز کو مؤثر بنایا جائے۔
صنعتوں کی ماحول دوست ترقی:
1 . توانائی کی بچت، شمسی توانائی اور فضلہ صاف کرنے کے اقدامات پر سستے قرضے اور ٹیکس مراعات دی جائیں۔ 2. تمام نئی برآمدی فیکٹریوں میں گرین بلڈنگ اسٹینڈرڈ لازمی قرار دیے جائیں، جن میں مرکزی یوٹیلیٹیز جیسے ای ٹٰ پیز اور سولر چھتیں شامل ہوں۔ 3. گرین کمپلائنس فیسلیٹیشن سینٹر قائم کیے جائیں تاکہ صنعتوں کو سرٹیفکیشن (ایل ای ای ڈی, ای ڈی جی ای) اور خریداروں سے روابط میں مدد ملے۔
دیگر برآمدی سہولیات:
1 . پیوریفائیڈ ٹیرفتھالک ایسڈ پر کسٹمز ڈیوٹی صفر کی جائے تاکہ پی ایس ایف پر بھی ڈیوٹی میں کمی ممکن ہو۔ 2. ایک ہزار گارمنٹس یونٹس پر مشتمل صنعتی زون قائم کیے جائیں جن میں چینی و دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ جوائنٹ وینچر کو ترجیح دی جائے۔ 3. سمندری بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے قریب فری کمرشل زونز قائم کیے جائیں تاکہ لاجسٹکس میں آسانی اور لاگت میں کمی ہو۔ 4. ٹریس ایبیلیٹی (قابل سراغ پیداوار) کو قانون کے ذریعے لازمی بنایا جائے، خاص طور پر زراعت اور جننگ کے مراحل میں۔ 5. مقامی سطح پر ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کی سہولیات میں کمی اور غیرملکی سرٹیفکیشن کے اخراجات کی وجہ سے برآمدکنندگان کو مشکلات ہیں؛ اس مسئلے کے حل کے لیے سہولتیں دی جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.