ٹیکس چوری روکنے کیلئے نیشنل ٹارگٹنگ سسٹم متعارف
وزیر اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں سات دہائیوں کی بدانتظامی پر شدید تنقید کرتے ہوئے فوری اصلاحات کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے ٹیکس نظام کو جدید ترین ڈیجیٹل اور خودکار نظام میں تبدیل کرنے پر زور دیا تاکہ اربوں روپے کی وصولی یقینی بنائی جاسکے۔
وزیراعظم نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ پرانے طریقے ترک کر کے مصنوعی ذہانت کو شامل کریں اور اشیاء پر ٹریکنگ ڈیوائسز نصب کریں۔
وزیراعظم نے سخت لہجے میں کہا کہ پرانی روایتیں اب ختم ہوچکی ہیں، انہوں نے ایف بی آر کی اصلاحات کو فوری اور موثر انداز میں نافذ کرنے کے ساتھ خودکار نظام اور ڈیجیٹلائزیشن کی تیز رفتار نفاذ پر زور دیا۔
انہوں نے ایماندار ٹیکس دہندگان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکس چوری کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
اجلاس کے دوران سیلز ٹیکس کی چوری روکنے کے لیے نیشنل ٹارگٹنگ سسٹم متعارف کروایا گیا، جو ٹرکوں میں ای-ٹیگز اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کو مؤثر طریقے سے مانیٹر کرے گا، جبکہ ایف بی آر کے نیٹ ورک میں مربوط ای-بلٹی سسٹم اس عمل کو مکمل سہولت فراہم کرے گا۔
محکمہ کے حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بڑی شاہراہوں اور شہر کے داخلی راستوں پر ڈیجیٹل نگرانی کے نظام نصب کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد اسمگلنگ کو روکنا اور مسافروں کے سفر کے وقت کو کم کرنا ہے۔
مزید برآں، جلد ہی بندرگاہوں اورائرپورٹس پر کسٹمز ٹارگٹنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا جو درآمدات اور برآمدات کی خودکار نگرانی کرے گا۔ یہ نظام اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی ڈیٹا بیسز سے منسلک ہوگا تاکہ اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔
ایف بی آر نے جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے اپنے عملے کی تربیت کا آغاز کر دیا ہے جس کا مرحلہ وار نفاذ ایک بڑے شہر میں پائلٹ پراجیکٹ کی صورت میں کیا جائے گا۔
بریفنگ کے مطابق سیمنٹ، ہچریز، پولٹری فیڈ، تمباکو اور مشروبات جیسے شعبوں میں سیلز ٹیکس کی نگرانی سخت کی جائے گی۔ شوگر انڈسٹری میں پہلے سے استعمال ہونے والے ٹریکنگ میکانزم کو تمباکو، مشروبات، اسٹیل اور سیمنٹ کے شعبوں تک بھی وسعت دی جائے گی۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ یہ تمام اقدامات فوری، مؤثر اور پائیدار طریقے سے نافذ کیے جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.