سندھ طاس معاہدے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ریڈ لائن ہے، وزیراعظم کی ایرانی وزیر خارجہ سے گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ”ہتھیار“ کے طور پر استعمال کی کسی بھی کوشش کو پاکستان کے لیے ریڈ لائن تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان پہلگام واقعے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یہ بات انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہی، جو سرکاری دورے پر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شریف نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت کا طرزِ عمل اشتعال انگیز رہا ہے اور بغیر کسی قابلِ اعتبار ثبوت کے پاکستان کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے مطالبہ دہرایا کہ واقعے کی تحقیقات بین الاقوامی، شفاف اور غیر جانبدار انداز میں کی جانی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے جموں و کشمیر کے تنازعے سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا میں سنسنی پھیلائی ہے، حالانکہ یہی مسئلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی اصل جڑ ہے۔
انہوں نے بڑھتی ہوئی دشمنی کے خطے پر وسیع تر اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان نے حالات کے جواب میں بالغ نظری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
ملاقات کے آغاز میں وزیراعظم نے بندر عباس میں حالیہ دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا، جس میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ انہوں نے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے دعا بھی کی۔
وزیراعظم نے ایران کے ساتھ تعلقات کو تاریخی اور برادرانہ قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کی تہران کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تجارت، توانائی، سرحدی تحفظ اور علاقائی رابطے سمیت مختلف شعبوں میں جاری تعاون کا ذکر بھی کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو رواں سال کے دوران تہران کے دورے کی دعوت بھی دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.