عالمی بینک کا پاکستان کی معیشت سے متعلق تازہ ترین جائزہ نہ تو حد سے زیادہ مایوس کن ہے اور نہ ہی غیر حقیقی حد تک پُرامید — لیکن یہ ایک واضح انتباہ ضرور دیتا ہے۔ اگرچہ معاشی نمو میں کچھ استحکام اور مہنگائی میں کمی کے آثار نمایاں ہیں، تاہم معیشت کے سب سے متحرک شعبوں سے مؤثر طریقے سے ٹیکس وصول نہ کرنے کی دیرینہ ناکامی نہ صرف محصولات کے نظام کو نقصان پہنچارہی ہے بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو بھی کمزور کررہی ہے۔
مالی سال 2024-25 میں متوقع 2.7 فیصد جی ڈی پی شرح نمو بظاہر پچھلے سال کی معاشی جمود سے سست مگر مثبت پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔ کم ہوتی مہنگائی، قرضوں تک بہتر رسائی، اور نجی شعبے کے اعتماد میں بحالی کو درست طور پر معاون عوامل کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ اسی طرح زرعی پیداوار میں بہتری بھی امید افزا ہے، کیونکہ سرمایہ کاری دوبارہ زراعت کی جانب آ رہی ہے اور سرکاری پالیسیاں کسانوں کو زیادہ قدر والی فصلوں کی طرف راغب کر رہی ہیں ، تاہم عالمی بینک زور دیتا ہے کہ یہ معاشی بہتری اُس وقت تک مالی طور پر پائیدار نہیں ہوسکتی جب تک اس کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور دیرینہ ٹیکس اصلاحات کو عملی شکل نہ دی جائے۔
یقیناً معیشت کس رفتار سے آگے بڑھتی ہے، جتنا اہم یہ سوال ہے، اتنا ہی اہم یہ بھی ہے کہ یہ ترقی کن ذرائع سے آ رہی ہے۔ عالمی بینک کی علاقائی ترقیاتی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دہائی میں پاکستان کی معاشی نمو کا بڑا حصہ ان شعبوں سے آیا ہے جن پر بہت کم ٹیکس عائد ہوتا ہے — خاص طور پر زرعی شعبے سے، جو اب بھی دیگر شعبوں کے مقابلے میں بہت کم شرح سے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ یہ عدم توازن آج بھی برقرار ہے۔ دوسری جانب خدمات (سروسز) اور غیر رسمی شعبے بھی جی ڈی پی میں اپنے بڑھتے ہوئے حصے کے باوجود اب تک بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں ٹیکس آمدن میں وہ لچک موجود نہیں جو جی ڈی پی کے ساتھ متناسب ہو — یعنی ٹیکس محاصل ملکی پیداوار کے بڑھنے کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ یہ مسئلہ ٹیکس کی شرحیں کم ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ معیشت کے بڑے اور بڑھتے ہوئے حصے عملاً ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ حکومت کی جانب سے آئندہ چند برسوں میں ٹیکس آمدنی کو جی ڈی پی کے 4 سے 5 فیصد تک بڑھانے کا وعدہ بظاہر سنجیدہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایسے اصلاحاتی اقدامات درکار ہیں جو سیاسی طور پر نہایت مشکل ہیں — جیسے ذاتی و کارپوریٹ انکم ٹیکس کی مؤثر وصولی اور زرعی و پرچون آمدنی پر ٹیکس کا نفاذ — جن میں سے کوئی بھی تاریخی طور پر مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔
عالمی بینک جس بات کو پوری وضاحت سے بیان کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس مسئلہ محض وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔ ملک میں ٹیکس کی کمی کی بڑی وجوہات میں وسیع پیمانے پر غیر رسمی معیشت، حد سے زیادہ ٹیکس چھوٹ اور مالیاتی شعبے کی محدود ترقی شامل ہیں — اور یہ صرف ذاتی اور کارپوریٹ انکم ٹیکس تک محدود نہیں بلکہ کھپت پر لگنے والے ٹیکسز (کنزمپشن ٹیکسز) پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی معیشتوں میں پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکس آمدنی اور اس کی حقیقی صلاحیت کے درمیان سب سے بڑا فرق پایا جاتا ہے۔
عالمی بینک کا میکرو اکنامک منظرنامہ کچھ امید ضرور دلاتا ہے۔ ادارہ تسلیم کرتا ہے کہ مہنگائی توقع سے زیادہ تیزی سے کم ہو رہی ہے اور نجی سرمایہ کاری میں بھی بہتری کے آثار نمایاں ہیں، جنہیں کیپٹل گڈز کی درآمد اور بہتر کریڈٹ بہاؤ سے تقویت مل رہی ہے۔ لیکن یہ بیرونی خطرات سے بھی خبردار کرتا ہے — جیسے عالمی معیشت کی سست روی، بڑھتی ہوئی تجارتی تحفظ پسندی، جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اور سپلائی چین کے جھٹکے — جو معاشی بحالی کو متاثر کرسکتے ہیں یا مالیاتی خسارے کو دوبارہ بڑھاسکتے ہیں۔
حتیٰ کہ بہترین حالات — جیسے آئی ایم ایف کی معاونت، قرضوں کی کامیاب تجدید، اور بتدریج اصلاحات — میں بھی آئندہ تین برسوں میں ترقی کی شرح 2.7 سے 3.4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ یہ شرح اُس رفتار سے کم ہے جس کے ذریعے غربت میں بامعنی کمی لائی جا سکے، خاص طور پر تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں۔ اور جب تک ٹیکس کا نظام زیادہ فعال اور لچکدار نہیں ہوتا، اُس وقت تک یہ معمولی بہتری بھی مزید قرضے کے بغیر برقرار رکھنا مشکل ہو گی۔
یہ لمحہ بظاہر استحکام کا ہے، مگر حقیقت میں ایک نازک توازن کا عکاس ہے۔ ملک میں حالات کچھ بہتر ہورہے ہیں، لیکن ابھی معیشت مستحکم بنیادوں پر کھڑی نہیں ہوئی اور اگر اس موقع کو استعمال نہ کیا گیا تاکہ ان اصلاحات کو نافذ کیا جاسکے جو دہائیوں سے مؤخر کی جا رہی ہیں، تو پاکستان ایک بار پھر اسی پرانے دائرے میں پھنسا رہے گا — ایسی بحالی جو تقسیمِ دولت کے بغیر ہو، اور ایسی ترقی جو اپنے اخراجات بھی پورے نہ کر سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.