بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 2025 میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے لحاظ سے حکومتی اخراجات میں 2.2 فیصد اضافے کی پیشگوئی کی ہے، جو 2024 میں 19.4 فیصد تھے اور 2025 میں 21.6 فیصد ہو جائیں گے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ ”مالیاتی نگرانی: مالیاتی پالیسی غیر یقینی صورتحال میں“ کے مطابق، پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ 2024 میں جی ڈی پی کے 70.1 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 73.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اسی طرح، خالص قرضہ 2024 میں جی ڈی پی کے 64.3 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 67.5 فیصد ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
حکومتی محصولات کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ 2024 میں جی ڈی پی کے 12.6 فیصد تھے، جو 2025 میں 15.9 فیصد اور 2026 میں 15.2 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا پرائمری بیلنس 2024 میں ایک فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 2.1 فیصد ہو جائے گا۔
اسی طرح مجموعی مالی توازن (اوول آل بیلنس) 2024 میں مائنس 6.8 فیصد سے بہتر ہو کر 2025 میں مائنس 5.6 فیصد پر آ جائے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2025 میں ملک کے قرضے کی اوسط میچورٹی جی ڈی پی کے 15.9 فیصد کے برابر ہوگی۔ 2025 سے 2030 کے دوران شرح سود اور اقتصادی نمو کا فرق مائنس 1.4 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2024 میں غیر ملکیوں کے پاس موجود حکومتی قرضے کا تناسب کل کے 31.5 فیصد کے برابر ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.