ورلڈ بینک نے پاکستان میں اعلیٰ آمدن والے افراد پر مؤثر شرح سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے، ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے اور انکم ٹیکس کے نظام کو زیادہ ترقی پسند بنانے کی سفارش کی ہے تاکہ ٹیکس محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔
ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ ”ساؤتھ ایشیا ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ: ٹیکسنگ ٹائمز“ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ابھرتی ہوئی معیشتوں (ای ایم ڈی ایز) میں شامل ہے جہاں انکم ٹیکس کی شرحوں اور آمدنی کی سطحوں میں سب سے زیادہ فرق موجود ہے، جو اگرچہ نظام کو بظاہر ترقی پسند بناتا ہے، مگر زمینی حقائق میں ٹیکس محصولات کی وصولی انتہائی کمزور ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حکومت نے جی ڈی پی کے 4 سے 5 فیصد کے برابر اضافی ٹیکس محصولات جمع کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے اور کرنسی کی شرح مبادلہ کو مارکیٹ کے مطابق بنانے کا وعدہ کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں صنعتی پیداوار میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکسوں کا بوجھ اور حکومتی ترقیاتی اخراجات میں کمی ہے۔ زرعی شعبے کی کمزوری نے خدمات کے شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گنے کی پیداوار کے لیے مقررہ قیمت کی ضمانت دی جاتی ہے جبکہ پانی کی کھپت پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اس طرح کی غیر مؤثر سبسڈی کو ختم کر کے ایسے کسانوں کو براہ راست نقد امداد دی جائے جو پائیدار زرعی طریقے اپناتے ہیں۔
ٹیکس محصولات میں اضافے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان میں کمزور ٹیکس کمپلائنس، تاخیر سے گوشوارے جمع کرانا، تنازعات کے حل میں تاخیر، اور غلط معلومات کی مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔ تاہم، رپورٹ میں الیکٹرانک وی اے ٹی سسٹم اور کمپیوٹرائزڈ رسک اینالیسس کی تعریف کی گئی ہے جس سے جعلی ریفنڈ کیسز کی نشاندہی میں بہتری آئی ہے۔
پاکستان میں ٹیکس بویانسی (معاشی نمو کے ساتھ محصولات میں اضافے کی صلاحیت) جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں کا بڑا حصہ کم یا غیرمحصول شدہ ہے۔ خاص طور پر زرعی شعبہ جی ڈی پی میں نمایاں حصہ رکھنے کے باوجود بہت کم ٹیکس دیتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک میں ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن جی ڈی پی کے تناسب سے نمایاں طور پر کم ہے۔ ان ممالک میں براہ راست ٹیکسوں (انکم اور کارپوریٹ) کی وصولی میں 1.4 فیصد سے 2.6 فیصد تک کا خسارہ موجود ہے، جبکہ دیگر ای ایم ڈی ایز میں اوسط خسارہ صرف 0.8 فیصد ہے۔
ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں 24-2023 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد رہی، جبکہ 25-2024 میں اس کے 2.7 فیصد اور 26-2025 میں 3.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ زرمبادلہ کی آمد میں اضافے نے نجی کھپت کو سہارا دیا، تاہم سرمایہ کاری میں کمی اور صنعتی پیداوار کی سست روی نمایاں رہی۔
مرکزی بینک نے افراط زر میں نمایاں کمی کے بعد، جو مارچ 2025 میں 0.7 فیصد تک آ گئی، اپنی پالیسی شرح سود 10 فیصد کم کر کے 12 فیصد کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مالی استحکام کی بحالی، آئی ایم ایف پروگرام، اور زرعی پیداوار میں بہتری سے معاشی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، مگر ٹیکس اصلاحات میں تاخیر پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.