برطانیہ میں مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہارٹ فورڈشائر پولیس کو اطلاع دی گئی کہ کارپینڈرز پارک لان قبرستان کے مسلم حصے میں قبریں توڑ پھوڑ کا نشانہ بنی ہیں، جن میں سے کئی قبریں بچوں اور نومولود بچوں کی تھیں۔
مقامی پولیس چیف نے بتایا کہ ان کی فورس نے ابتدائی طور پر اس واقعے کی وجوہات کے حوالے سے مختلف مفروضوں پر غور کیا، لیکن بعد ازاں تفتیش سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ کارروائی مذہبی بنیاد پر کی گئی اور اب اسے اسلاموفوبک (اسلام مخالف) جرم کے طور پر لیا جا رہا ہے۔
اس افسوسناک واقعے کی مقامی رہنماؤں اور سرکاری حکام کی جانب سے سخت مذمت کی گئی ہے، جبکہ پولیس کے چیف سپرنٹنڈنٹ نے اسے ایک انتہائی مکروہ واقعہ قرار دیا ہے جو برادریوں میں شدید جذباتی ردِ عمل کا باعث بنے گا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے جلد اور سخت محنت کریں گے۔
یہ شرمناک فعل مسلم مخالف نفرت انگیز مہم کا حصہ ہے۔ ”ٹیل ماما“ نامی ایک نجی تنظیم جو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی نگرانی کرتی ہے، نے رواں سال فروری میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں 3,680 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جو کہ گزشتہ دو سالوں کے مقابلے میں 72 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
ان واقعات میں اکثریت بدتمیزی پر مبنی تھی، تاہم جسمانی حملے، امتیازی سلوک اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی شامل تھے۔ زیادہ تر حملے عوامی مقامات مثلاً سڑکوں اور پارکوں میں ہوئے، اور بڑی تعداد میں واقعات کام کی جگہوں پر پیش آئے۔ رپورٹ میں خاص طور پر یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ غزہ میں لڑائی کے آغاز کے بعد سے زیادہ مردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے بہ نسبت خواتین کے۔
اس تمام صورتحال کے دوران، مغربی حکومتوں کی طرف سے اسرائیل کی حمایت میں دیے جانے والے بیانات نے حماس کو دہشتگرد تنظیم کے طور پر پیش کیا ہے، جو کہ درحقیقت اسرائیلی قبضے سے آزادی کے لیے لڑ رہی ہے، اور قابض ریاست کو مظلوم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ مسلمانوں، بالخصوص مسلمان مردوں کے بارے میں جھوٹی اور منفی سوچ پیدا کر رہا ہے۔
یہ حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیے کہ برطانیہ کے دائیں بازو کے شدت پسندوں، یعنی سفید فام بالادستی کے حامیوں نے اس بیانیے کو اپنی نفرت انگیز سوچ کا ایندھن بنا لیا ہے، جو سماجی مسائل کا الزام تارکین وطن پر عائد کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، یہ امر بھی اہم ہے کہ لندن جیسے شہر میں اب بھی کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سفید فام کے علاوہ دیگر افراد کے لیے جانا محفوظ نہیں سمجھا جاتا، جہاں رہنے والے افراد کام کرنا پسند نہیں کرتے، مگر مہاجرین پر روزگار چھیننے اور اجرتیں کم کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔
یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ برطانیہ میں اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف نفرت سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں حکومت نے ایک نئے فنڈ کا اعلان کیا ہے جو ان جرائم کی نگرانی اور متاثرین کی مدد کے لیے جامع خدمات فراہم کرے گا۔
اسی طرح، برطانوی سیاسی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی زبان اور بیانات کے اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔ جیسا کہ ”ٹیل ماما“ کی ڈائریکٹر ایمان عطا نے زور دیا کہ اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان کی زبان کس طرح برادریوں کو منفی انداز میں پیش کر سکتی ہے اور آن لائن و آف لائن بحث و مباحثے کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.