BR100 Decreased By (-0.63%)
BR30 Decreased By (-0.94%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.46%)
BAFL 56.47 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 24.77 Increased By ▲ 0.14 (0.57%)
BOP 29.98 Decreased By ▼ -0.14 (-0.46%)
CNERGY 12.80 Decreased By ▼ -0.18 (-1.39%)
DFML 18.15 Increased By ▲ 0.66 (3.77%)
DGKC 184.90 Decreased By ▼ -2.32 (-1.24%)
FABL 93.49 Decreased By ▼ -0.22 (-0.23%)
FCCL 50.97 Decreased By ▼ -0.68 (-1.32%)
FFL 14.33 Decreased By ▼ -0.16 (-1.1%)
GGL 18.86 Decreased By ▼ -0.18 (-0.95%)
HBL 301.50 Decreased By ▼ -2.28 (-0.75%)
HUBC 197.70 Decreased By ▼ -1.26 (-0.63%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.05 (-0.51%)
KEL 6.01 Decreased By ▼ -0.05 (-0.83%)
LOTCHEM 26.10 Decreased By ▼ -0.07 (-0.27%)
MLCF 89.20 Decreased By ▼ -2.03 (-2.23%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 34.94 Decreased By ▼ -0.30 (-0.85%)
PIBTL 14.20 Decreased By ▼ -0.51 (-3.47%)
PIOC 234.99 Decreased By ▼ -4.63 (-1.93%)
PPL 219.00 Decreased By ▼ -2.36 (-1.07%)
PRL 91.30 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 90.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.41%)
SSGC 23.06 Decreased By ▼ -0.24 (-1.03%)
TELE 7.49 Decreased By ▼ -0.12 (-1.58%)
TPLP 12.05 Decreased By ▼ -0.51 (-4.06%)
TRG 55.30 Decreased By ▼ -0.49 (-0.88%)
UNITY 8.00 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

وزیراعظم شہباز شریف نے چین کو پاکستان کا ناگزیر شراکت دار اور سب سے مخلص دوست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی مدد کے بغیر ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف سے طے پانے والا 7 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج ممکن نہ تھا ۔

انہوں نے چین کے تعاون کو سراہا، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے کی جانے والی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کو پاکستان کی معیشت کے لیے ”زندگی کی لائف لائن“ قرار دیا۔

وزیراعظم نے زرعی شعبے کی ترقی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی مضبوطی سے غذائی تحفظ، برآمدات میں اضافہ اور کسانوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے زرعی تحقیقاتی اداروں کی جدید کاری، پائیدار کاشتکاری کے طریقوں، ڈیجیٹل فصلوں کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے اچھے بیجوں کی ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔

اس سلسلے میں حکومت نے 1,000 زرعی گریجویٹس کو چین میں تربیت کے لیے بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، پہلے مرحلے میں 300 گریجویٹس تین ماہ کی تربیت حاصل کریں گے، دوسرے مرحلے میں 400 گریجویٹس چھ ماہ کی تربیت مکمل کریں گے، اور آخری مرحلے میں 300 گریجویٹس تربیت حاصل کریں گے۔

وزیراعظم نے گریجویٹس کے پہلے بیچ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی واپسی سے پاکستان کی زرعی معیشت میں بہتری آئے گی۔

چین کے سفیر، جیانگ زائیڈونگ نے پاکستان کی گزشتہ سال کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے، خاص طور پر زرعی شعبے میں تعاون کو بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور چین نے سی پیک میں تقریباً 35.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کا عکاس ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.