پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعرات کو وفاقی حکومت کے متنازعہ چولستان کینال منصوبے پر شدید تنقید کی، جو کہ ”گرین پاکستان انیشی ایٹو“ کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سندھ کو اس کی زندگی بخشنے والے دریائے سندھ کے پانی سے محروم کر سکتا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی قرارداد میں پی ٹی آئی نے اس منصوبے کو پنجاب کی مبینہ خفیہ آبی چوری کو جائز قرار دینے کی کوشش قرار دیا اور حکومت پر آئینی اصولوں کو نظرانداز کرنے اور سندھ کے فوری خدشات کو یکسر مسترد کرنے کا الزام عائد کیا۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، زرتاج گل، علی محمد خان اور دیگر رہنماؤں نے پیپلز پارٹی پر ”دوہرا کھیل“ کھیلنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک طرف سندھ کے حقوق کی دعویدار ہے اور دوسری طرف ایسے منصوبے پر خاموش ہے جو صوبے کی زرعی زمین اور نازک ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔
یہ متنازعہ منصوبہ گزشتہ برس اکتوبر میں مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) سے خاموشی سے منظور ہوا، جس پر آئین کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے اپنی قرارداد میں اس منصوبے کو آئین کے آرٹیکل 154 اور 155 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، منصوبے کو فوری طور پر معطل کرنے اور مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے ذریعے باقاعدہ جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ 15 دن کے اندر سی سی آئی کا اجلاس بلایا جائے، دریائے سندھ پر نئے نہری منصوبوں پر فوری پابندی عائد کی جائے، اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی جانب سے فراہم کردہ آبی اعداد و شمار کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے، جس پر غیر جانبداری کا فقدان ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔
پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ 1991ء کا پانی کی تقسیم کا معاہدہ اس سارے معاملے میں نظرانداز کیا گیا ہے، حالانکہ اس کے تحت سندھ کو سالانہ 48.76 ملین ایکڑ فٹ پانی اور اضافی 10 ملین ایکڑ فٹ ماحولیاتی بہاؤ دیا جانا ضروری ہے تاکہ دریائے سندھ کا ڈیلٹا ماحولیاتی تباہی سے بچ سکے۔
زرتاج گل وزیر نے الزام لگایا، ’’یہ ترقی نہیں بلکہ ترقی کے نام پر لوٹ مار ہے، اور پیپلز پارٹی، جو خود کو سندھ کا نجات دہندہ کہتی ہے، اس ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔‘‘
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئندہ کسی بھی فیصلے میں سندھ کے منتخب نمائندوں، قوم پرست جماعتوں اور سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے، اور عوامی سماعتوں کو ہر شہری کے لیے کھلا بنایا جائے تاکہ خفیہ معاہدوں کا سلسلہ ختم ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.