نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور ڈویژن کی درخواست پر ڈسکوز اور کے-الیکٹرک کے صارفین کے لیے بجلی کے نرخ میں فی یونٹ 1.71 روپے کمی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ریلیف پیٹرولیم مصنوعات (موٹر سپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل) پر اضافی 10 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی (پی ایل) سے حاصل ہونے والے متوقع 58.6 ارب روپے کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جو کہ اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی کے لیے ہے۔
پاور ڈویژن نے 27 مارچ 2025 کو نیپرا کو ایک مراسلہ جمع کروایا جس میں الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 کے سیکشن 7 اور 31 کے تحت ڈسکوز اور کے-الیکٹرک کے صارفین کے لیے تجویز کردہ ٹیرف پر غور کرنے کی درخواست کی گئی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق، مالی سال 25-2024 کے لیے نیپرا کی جانب سے مقرر کردہ اوسط قومی نرخ 35.50 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کردہ نرخ 32.99 روپے فی یونٹ ہے، جس کا فرق ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے بجلی کی کھپت میں اضافے اور صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے اپریل تا جون 2025 کے دوران بجلی کی قیمت میں مزید سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ فی یونٹ 1.71 روپے کے حساب سے دی جائے گی (سوائے لائف لائن صارفین کے)۔
نیپرا نے 28 مارچ 2025 کو اس معاملے پر عوامی سماعت منعقد کی، جس کے بعد یہ فیصلہ جاری کیا گیا۔ نیپرا کے مطابق یہ سبسڈی صرف حکومت کی طرف سے مقرر کردہ صارفین کے نرخوں میں ردوبدل ہے، نیپرا کے تعین کردہ ریونیو ریکوائرمنٹ یا ٹیرف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
مزید یہ کہ بی-فور کمرشل صارفین کے لیے پیک آور کا موجودہ نرخ 40.76 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 34.78 روپے فی یونٹ جبکہ آف پیک ریٹ 36.38 سے کم ہو کر 30.40 روپے فی یونٹ ہو جائے گا۔
نیپرا کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی اسٹیک ہولڈر کی جانب سے اس اقدام پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.