آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ، وزارت خزانہ کی وزارتوں کو ٹیکس اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے متعلقہ وزارتوں پر زور دیا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ”ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنانس“ (آر ایس ایف) پروگرام کے تحت محصولات سے متعلق اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، جن میں پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 5 روپے کاربن لیوی عائد کرنا شامل ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق، آئی ایم ایف کے ساتھ آر ایس ایف پروگرام کے تحت پیٹرولیم ڈویژن اور وزارتِ صنعت و پیداوار سے متعلق درج ذیل اقدامات پر اتفاق ہوا ہے:
ذرائع کے مطابق، معاہدے کے تحت جون 2025 کے اختتام تک کاربن لیوی عائد کی جائے گی۔ یہ لیوی پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کے ذریعے پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 5 روپے کے اضافی کاربن لیوی کی صورت میں مرحلہ وار نافذ کی جائے گی، جو دو سال میں مکمل ہوگی۔
اس اصلاحات کے حصے کے طور پر فیول آئل کو بھی پی ڈی ایل کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا، اور اس پر بھی بنیادی اور اضافی شرح لاگو ہو گی۔
اضافی کاربن لیوی کے دائرہ کار، اس کے نفاذ کے مراحل اور شرح کو مالی سال 26-2025 کے فنانس ایکٹ کے ذریعے قانون سازی کے تحت شامل کیا جائے گا، جبکہ آئندہ مالیاتی قوانین میں اس شرح کو ضرورت کے مطابق بڑھایا جا سکے گا۔
ایک اور اہم اقدام جون 2025 تک الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کو اپنانے کا ہے۔
مالی سال 26-2025 کے بجٹ قانون کے تحت، حکومت ایک ایسا اسکیم اپنائے گی جو محصولات کے لحاظ سے غیرجانبدار (ریونیو نیوٹرل) ہو گی، جس میں الیکٹریکل گاڑیوں پر سبسڈی جبکہ انجن پر چلنے والی روایتی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس شامل ہوگا، جیسا کہ این ای وی پی 30-2025 کے مسودے میں بیان کیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق ہم آر ایس ایف پروگرام کے دوران اس اسکیم پر آئندہ مالی سالوں میں بھی عمل درآمد جاری رکھیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک اور وعدہ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام سے متعلق ہے، جو فروری 2027 کے اختتام تک مکمل کیا جائے گا۔
نجی شعبے کو الیکٹریکل وہیکل چارجنگ اسٹیشنز میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کے لیے، حکومت ایک وائبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) فریم ورک اپنائے گی، جس میں:
(i) ایک بار کی سبسڈی فراہم کرنا،
(ii) کھلی بولی کے عمل کے ذریعے مسابقت کو یقینی بنانا اور واضح معیارات کی بنیاد پر منصوبوں کی اہلیت کا جائزہ لینا،
(iii) اور پہلی بولی ونڈو پر عمل درآمد شامل ہوگا۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک یا انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی مدد سے حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ وائبلٹی گیپ فنڈنگ فریم ورک اور قواعد بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ ہوں اور حکومت پر مالی بوجھ کم سے کم ہو۔
اس کے علاوہ، تمام بولی ونڈو کے لیے ٹینڈر دستاویزات، بولی دہندگان کی فہرست، اور کامیاب بولی دہندگان کی تفصیلات بھی شائع کی جائیں گی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے متعلقہ وزارتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ آر ایس ایف پروگرام کے تحت طے شدہ اصلاحی اقدامات کو بروقت نافذ کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.