BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
اداریہ

خشک سالی کی وارننگ کو نظر انداز کرنا خطرناک

خشک سالی کی وارننگ کو نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں آنے والی خشک سالی کے انتباہ کو محض ایک موسمی بلیٹن سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سندھ میں بارش کی سطح معمول سے 62 فیصد کم ہونے اور بلوچستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ ہونے کے باعث ملک کے وسیع علاقے شدید خشک سالی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بہت سے اضلاع میں حالات پہلے ہی سنگین ہو چکے ہیں: کچھ علاقوں میں مسلسل 200 سے زائد خشک دن، ڈیموں کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر، اور زمین کی بالائی سطح کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ اب کوئی پیش گوئی نہیں بلکہ ایک آہستہ آہستہ بڑھتی ہنگامی صورتحال ہے۔

علامات بالکل واضح ہیں۔ تربیلا اور منگلا ڈیم – جو پاکستان کے آبپاشی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں – خطرناک حد تک کم سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ملک کے جنوبی حصے میں درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے، جو بخارات کے عمل کو تیز کرکے نمی کی مقدار کو مزید کم کر رہا ہے۔

پنجاب میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پہلے ہی کئی اضلاع – جن میں بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان شامل ہیں – کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دے چکی ہے۔ اس کے باوجود سرکاری ردعمل اب تک محض تیاری کے الفاظ تک محدود ہے، عملی اقدامات کی ضرورت ہے – اور وہ فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔

پاکستان ایک ایسے وسائل کے بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کے براہ راست اثرات غذائی تحفظ، دیہی معیشت، اور قومی استحکام پر مرتب ہوں گے۔

زرعی شعبہ، جو ملک کی بڑی آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے اور معیشت کی بنیاد ہے، کم ہوتی بارش، گراؤنڈ واٹر کی گرتی ہوئی سطح اور بگڑتے ہوئے زمینی حالات کی زد میں ہے۔ لیکن ادارہ جاتی ردعمل اب بھی سست روی کا شکار ہے – ایک خطرناک عدم توازن، جہاں بحران کی شدت اور اس سے نمٹنے کی رفتار میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

حکام کو معمول کی پالیسیوں سے باہر نکل کر وہ تمام اقدامات کرنا ہوں گے جو اس بحران کی شدت کو کم کر سکیں، چاہے وہ اقدامات کتنے ہی غیر روایتی کیوں نہ ہوں۔ اس کا مطلب ہے فوری طور پر آبپاشی کے پانی کی راشننگ، نہری نظام کی مرمت میں تیزی، زیر زمین پانی کے استعمال پر سخت پابندیاں، اور پانی کے تحفظ کے حوالے سے عوامی آگاہی مہمات کا آغاز کرنا ہوگا۔

لیکن اس سے بڑھ کر، اس بحران کو اس کے مکمل دائرے میں تسلیم کرنا ہوگا – اور اس کا ایسا سنجیدہ جواب دینا ہوگا جیسا کہ اس کی شدت تقاضا کرتی ہے۔

شہری مراکز محض تماشائی بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کراچی، حیدرآباد اور کوئٹہ – جو پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں – دیہی آبادی کی نقل مکانی کے باعث مزید مسائل سے دوچار ہوں گے۔ اب وقت ہے کہ ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو میٹھا بنانے)، گرے واٹر ری سائیکلنگ، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تباہ شدہ پانی کے نظام کی بحالی میں سرمایہ کاری تیز کی جائے۔ تاخیر کی سیاسی قیمت خاموشی سے ادا نہیں کی جائے گی۔

اور سب سے اہم بات، یہ ایسا بحران نہیں جسے کوئی ایک صوبہ تنہا حل کر سکے۔ اس کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی درکار ہے۔ پانی کی تقسیم کے تنازعات، جو ایک طویل عرصے سے کشیدگی کی وجہ بنتے رہے ہیں، اب اجتماعی منصوبہ بندی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ ایک قومی خشک سالی ردعمل ٹاسک فورس، جسے مکمل اختیارات اور وسائل حاصل ہوں، فوری طور پر قائم کی جانی چاہیے۔

ماحولیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں۔ یہ پاکستان کی موجودہ حقیقت ہے – شدید موسمی حالات، بگڑتے ہوئے موسمیاتی نظام، اور تیزی سے کم ہوتے وسائل کی صورت میں۔ اگر پالیسی ساز ان حالات کو محض عارضی سمجھتے رہے، تو ان کا ردعمل ہمیشہ تاخیر کا شکار رہے گا۔

محکمہ موسمیات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کوئی صاحب اختیار اسے سن رہا ہے – اور کیا وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں؟

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.