اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمیٹڈ (پی آئی بی ٹی ایل) کو تانبے، سونے، دھاتوں اور دیگر قدرتی معدنیات کی ہینڈلنگ کے لیے استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حال ہی میں ایس آئی ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پی آئی بی ٹی ایل اور پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) کے درمیان ایک بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (بی او ٹی) معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت پورٹ قاسم میں کوئلہ اور سیمنٹ ٹرمینل کی تعمیر، ترقی اور آپریشن 30 سال کے لیے کیا جائے گا۔
معاہدے کے مطابق پی آئی بی ٹی ایل صرف کوئلہ، کلنکر اور سیمنٹ کی ہینڈلنگ کرسکتا ہے، جو ”ڈرٹی بلک کارگو“ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ریکوڈک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) نے پی آئی بی ٹی ایل کو عبوری طور پرکاپر کنسنٹریٹ ایکسپورٹ ٹرمینل کے طور پر نامزد کیا ہے، جب تک کہ گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال نہ ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے پی آئی بی ٹی ایل کے استعمال کی منظوری طلب کی گئی ہے کیونکہ یہ ایک قومی اہمیت کا منصوبہ ہے۔
ذرائع کے مطابق، پورٹ قاسم اتھارٹی کا مؤقف تھا کہ موجودہ عملدرآمدی معاہدے میں تانبے کے کنسنٹریٹ کی شمولیت کے لیے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) سے استثنیٰ درکار ہوگا۔ تاہم، پی پی آر اے کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ معاہدہ کسی قسم کی خریداری سے متعلق نہیں، اس لیے قواعد سے استثنیٰ کی ضرورت نہیں۔
تفصیلی غوروخوض کے بعد ایس آئی ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمیٹڈ (پی آئی بی ٹی ایل) کو تانبہ، سونا، دھاتیں اور دیگر قدرتی معدنیات کی ہینڈلنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق استثنیٰ کی منظوری دے دی۔
ایگزیکٹو کمیٹی نے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کو ہدایت دی کہ وہ وزارت بحری امور(ایم او ایم اے) کے ذریعے معاملہ پی پی آر اے کو بھیجے تاکہ استثنیٰ حاصل کیا جاسکے اور پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) اور پی آئی بی ٹی ایل کو عملدرآمدی معاہدے میں ترمیم کی اجازت دی جائے۔ اس ترمیم کے تحت پی آئی بی ٹی ایل سے تانبہ، سونا، معدنیات، دھاتیں اور دیگر کی ہینڈلنگ اور برآمد (غیر خصوصی بنیادوں پر) ممکن ہو سکے گی۔ استثنیٰ کے حصول اور عملدرآمدی معاہدے میں ترمیم کا عمل 15 مارچ 2025 تک مکمل کیا جانا تھا۔
ایس آئی ایف سی نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ (جے جے وی ایل) کے معاملے میں سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے حکام کے خلاف ایف آئی اے انکوائری کو جلد از جلد میرٹ پر مکمل کیا جائے، جبکہ اس حوالے سے وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق مسعود ملک اور وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کو مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، 11ویں ایگزیکٹو کمیٹی میٹنگ (ای سی ایم) نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ (جے جے وی ایل) پلانٹ کو دوبارہ فعال کیا جائے، جس کے لیے ریونیو شیئرنگ فارمولا بطور معیار استعمال کیا جائے گا۔ اس فارمولے کی پہلے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان فریقین کے مابین طے شدہ معاہدے کی بنیاد پر توثیق کی تھی۔
سپریم کورٹ نے عبوری ریونیو شیئرنگ فارمولہ منظور کیا تھا، جس کے تحت سوئی سدرن گیس کمپنی کو 57 فیصد اور جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کو 43 فیصد حصہ دیا گیا۔ عدالت نے اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی کو حتمی ریونیو شیئرنگ فارمولا طے کرنے کی ذمہ داری سونپی، جو عدالت کی منظوری سے مشروط تھا۔ اے ایف ایف سی او نے ایس ایس جی سی کے حق میں 57.54 فیصد ریونیو شیئرنگ کی سفارش کی۔ ایس سی پی سے منظور شدہ معاہدے میں ایس ایس جی سی اور جے جے وی ایل کے درمیان پروڈکٹ شیئرنگ کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تاہم، دونوں فریقین کے درمیان عدم اتفاق کی وجہ سے معاملہ تاحال غیر نتیجہ خیز ہے۔
ذرائع کے مطابق، کسی متفقہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ورکنگ گروپ کا اجلاس 21 جنوری 2025 کو منعقد ہوا۔ تاہم، اجلاس میں یہ واضح ہوا کہ فریقین کے مؤقف میں اب بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ ایس ایس جی سی نے 78:22 کا ریونیو شیئرنگ تناسب تجویز کیا، جبکہ جے جے وی ایل نے 64:36 کی پیشکش کی—دونوں تجاویز میں 25 فیصد ایل پی جی ایس ایس جی سی کے لیے مختص کرنے پر اتفاق تھا۔
تاہم ایس ایس جی سی کا مؤقف تھا کہ کیپٹیو اور انڈسٹریل بلینڈ کے ساتھ یہ تناسب مزید ایڈجسٹ ہو کر 70:30 ہو سکتا ہے، اور اگر سی پی پیز (کیپٹیو پاور پلانٹس) کو گیس کی فراہمی منقطع ہو جائے تو یہ تناسب 56:44 ہو جائے گا۔ ورکنگ گروپ ) نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ریونیو شیئرنگ کے تناسب پر 66:34 (ایس ایس جی سی: جے جے وی ایل) پر اتفاق ممکن ہے، جبکہ ایس ایس جی سی کے لیے 25 فیصد ایل پی جی شیئر اوگرا کی مقرر کردہ پروڈیوسر پرائس کی بنیاد پر مختص ہوگا۔
تفصیلی بحث کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی نے 21 جنوری 2025 کو ہونے والے ڈبلیو جی اجلاس کے فیصلوں سے اتفاق کیا اور مندرجہ ذیل ہدایات جاری کیں:(i) قومی مفاد کے تحت ایل پی جی کی مقامی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے پیش نظر، جے جے وی ایل پلانٹ کو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر فعال کیا جائے۔(ii) اوگرا کی مقرر کردہ پروڈیوسر قیمت کی بنیاد پر ایس ایس جی سی کے لیے 25 فیصد ایل پی جی شیئر کے ساتھ 66:34(ایس ایس جی سی: جے جے وی ایل) کے ریونیو شیئرنگ تناسب پر معاہدہ کیا جائے، جو سپریم کورٹ کی منظور شدہ 57:43 (ایس ایس جی سی: جے جے وی ایل) کے عبوری ریونیو شیئر سے نمایاں طور پر زیادہ ہے اور یہ تناسب ایس ایس جی سی کو اصل فروخت کی قیمت کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے، جس میں کھاد (31 فیصد)، پروسیس (27 فیصد) اور کیپٹیو پاور یونٹس (42فیصد) کی سیلز مکس شامل ہے، جوایف جی ایف سی اور ایف ایف بی کیو ایل سے منسلک ایس ایم ایس ایس پر مشتمل ہے۔(iii)مزید برآں، اگر اوگرا قیمتوں میں ترمیم کرے یا وفاقی حکومت سیلز مکس/صارف کیٹیگریز میں تبدیلی کرے، تو فریقین کے درمیان ریونیو شیئرنگ تناسب کا جائزہ لیا جائے گا اور اسے مطابق ترمیم کیا جائے گا۔(iv) بلا تنازعہ بقایاجات، جو جے جے وی ایل کی جانب سے ایس ایس جی سی کو ادا کیے جانے ہیں، گیس کی فراہمی کی بحالی سے قبل کلیئر کیے جائیں گے۔(v) ایف آئی اے کی انکوائری کو میرٹ پر جلد از جلد مکمل کیا جائے، جبکہ وزیر پٹرولیم/وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کو اعتماد میں رکھا جائے۔ اور (6) ایس ایس جی سی ایگزیکٹو کمیٹی (ایس سی) کی ہدایات/معاہدے کو منظوری کے لیے اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز (بی او ڈی) کے سامنے پیش کرے، اور پٹرولیم ڈویژن اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.