BR100 Increased By (0.89%)
BR30 Increased By (1.26%)
KSE100 Increased By (0.55%)
KSE30 Increased By (0.59%)
BAFL 58.58 Increased By ▲ 0.14 (0.24%)
BIPL 25.52 Increased By ▲ 0.32 (1.27%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.41 (1.21%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.57 Increased By ▲ 2.60 (1.35%)
FABL 89.79 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.10 Increased By ▲ 0.15 (0.84%)
GGL 19.74 Increased By ▲ 0.77 (4.06%)
HBL 287.16 Increased By ▲ 1.66 (0.58%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.91 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.57 Decreased By ▼ -0.32 (-1.15%)
MLCF 87.55 Increased By ▲ 1.04 (1.2%)
OGDC 324.25 Increased By ▲ 4.29 (1.34%)
PAEL 39.71 Increased By ▲ 0.29 (0.74%)
PIBTL 17.42 Increased By ▲ 0.75 (4.5%)
PIOC 270.88 Increased By ▲ 4.82 (1.81%)
PPL 230.27 Increased By ▲ 2.09 (0.92%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.69 Increased By ▲ 0.51 (0.51%)
SSGC 27.10 Increased By ▲ 0.50 (1.88%)
TELE 8.63 Increased By ▲ 0.35 (4.23%)
TPLP 8.80 Increased By ▲ 0.58 (7.06%)
TRG 71.20 Increased By ▲ 1.49 (2.14%)
UNITY 11.72 Increased By ▲ 0.05 (0.43%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

2 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کی تھرڈ پارٹی توثیق ہونی چاہیے، وزیراعظم

  • تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن خریداری کے عمل میں شکایات اور خدشات کو مؤثر طریقے سے دور کرے گی
شائع August 25, 2024 اپ ڈیٹ August 25, 2024 08:48am

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ 2 ارب روپے سے زائد کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی تھرڈ پارٹی توثیق حاصل کی جائے۔

الیکٹرانک پروکیورمنٹ، ای پیک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (اور ڈسپوزل سسٹم ای پیک ایکوزیشن (ای پیڈز) کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ہر قسم کی خریداری کے لیے شفاف طریقہ کار متعارف کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت کی جو خریداری کے عمل میں شکایات اور خدشات کو مؤثر طریقے سے دور کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خریداری کے عمل سے متعلق شکایات اور خدشات کے ازالے کا نظام خریداری ایجنسی کے ماتحت نہیں ہونا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے قواعد و ضوابط میں ترمیم کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ای پروکیورمنٹ کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے 2017 میں ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے 45 ملین ڈالر کی مجموعی لاگت سے ای پروکیورمنٹ منصوبہ شروع کیا تھا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی 37 وزارتوں اور 301 پروکیورنگ ایجنسیوں میں ای پروکیورمنٹ کا نفاذ کیا گیا ہے اور پپرا کی جانب سے پروکیورمنٹ ایجنسیوں کے 8 ہزار 988 افسران کو ای پروکیورمنٹ کی تربیت دی گئی ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کا ای پروکیورمنٹ کا حجم تقریبا 1551 ارب روپے ہے اور ای پروکیورمنٹ کے حوالے سے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کے ساتھ ایم او یوز پر دستخط ہوچکے ہیں۔

وزیراعظم نے منصوبے پر سست روی اور اس کے معیار اور عملدآمد پر برہمی کا اظہار کیا اور منصوبے کو ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.