BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.2%)
KSE100 Increased By (0.52%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.58 Increased By ▲ 0.14 (0.24%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 196.75 Increased By ▲ 3.78 (1.96%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.75 Increased By ▲ 0.92 (1.74%)
FFL 18.10 Increased By ▲ 0.15 (0.84%)
GGL 19.70 Increased By ▲ 0.73 (3.85%)
HBL 287.15 Increased By ▲ 1.65 (0.58%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.91 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.54 Decreased By ▼ -0.35 (-1.25%)
MLCF 87.85 Increased By ▲ 1.34 (1.55%)
OGDC 324.25 Increased By ▲ 4.29 (1.34%)
PAEL 39.75 Increased By ▲ 0.33 (0.84%)
PIBTL 17.40 Increased By ▲ 0.73 (4.38%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 231.00 Increased By ▲ 2.82 (1.24%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.60 Increased By ▲ 0.42 (0.42%)
SSGC 27.10 Increased By ▲ 0.50 (1.88%)
TELE 8.67 Increased By ▲ 0.39 (4.71%)
TPLP 8.85 Increased By ▲ 0.63 (7.66%)
TRG 71.27 Increased By ▲ 1.56 (2.24%)
UNITY 11.72 Increased By ▲ 0.05 (0.43%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)

کے الیکٹرک نے پاور یوٹیلیٹی کمپنی اور سرکاری اداروں کے درمیان جاری ثالثی کارروائی کے ذریعے تاریخی وصولیوں اور واجبات کے معاملے کے دوستانہ حل کے حصول اور زیر التوا ٹیرف کے تعین کے عمل کو تیز کرنے کے لئے پاور ڈویژن سے تعاون طلب کر لیا ہے۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سید مونس عبداللہ علوی نے سیکرٹری پاور ڈویژن راشد لنگڑیال کو لکھے گئے خط میں کے الیکٹرک اور سی پی پی اے-جی کے درمیان جنوری 2024 میں طے پانے والے پاور پرچیزنگ ایجنسی ایگریمنٹ (پی پی اے اے) کے تحت سی پی پی اے-جی کو ادائیگی کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ جنوری 2024 سے پی پی اے اے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے کے الیکٹرک نے پی پی اے اے کے مطابق سی پی پی اے-جی سے بجلی کی خریداری کی مد میں 51.5 ارب روپے ادا کیے ہیں۔ جو کے الیکٹرک کے توانائی کے شعبے میں لیکویڈیٹی اور پائیداری کو فروغ دینے کے عزم کا ثبوت ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ ادائیگیاں اس حقیقت کے باوجود کی گئی ہیں کہ کے الیکٹرک کے اسی مدت کے لئے ٹیرف ڈیفرنشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کے دعوے اس کے کثیر سالہ ٹیرف (ایم وائی ٹی) کو حتمی شکل دینے کی وجہ سے زیر التوا ہیں ، جس کے نتیجے میں کے الیکٹرک کی لیکویڈیٹی اور ورکنگ کیپیٹل پوزیشن پر اثر پڑتا ہے۔

سی ای او کے مطابق کے الیکٹرک اپنے کثیر سالہ ٹیرف کے تعین کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نیپرا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں پاور ڈویژن سے تعاون کی درخواست کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک اور حکومت پاکستان کے درمیان طے پانے والے ٹی ڈی ایس معاہدے کے مطابق ٹیرف کا بروقت تعین اور اس کے نتیجے میں کے الیکٹرک کے ٹی ڈی ایس کلیمز کا اجراء پی پی اے اے کے تحت اپنی ادائیگی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے اہم ہوگا۔

سید مونس عبداللہ علوی نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز کی حیثیت سے ہم مائع اور پائیدار توانائی کے شعبے کو فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں جو ملک کے معاشی استحکام کے لئے اہم ہے اور تاریخی وصولیوں اور واجبات کے مسئلے کے دوستانہ حل کے لئے پاور ڈویژن کی حمایت کی بھی درخواست کرتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ کے الیکٹرک اور سرکاری اداروں اور محکموں کے درمیان تاریخی وصولیوں اور ادائیگیوں کے تصفیے کے لیے جامع حل پیش کیا جائے۔

انہوں نے یہ ہدایات ایک حالیہ اجلاس میں جاری کیں جس میں بجلی کے شعبے کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاور ڈویژن اور کابینہ ڈویژن، جو نیپرا کے انتظامی کنٹرول میں ہیں، کے الیکٹرک کے جلد ٹیرف اور دعوئوں کے تصفیے کے لیے نیپرا کے ساتھ تعاون کریں گے۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کے ٹیرف پر سماعت کی تاریخوں کا اعلان کردیا۔

پاور یوٹیلٹی کمپنی کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کی میعاد 30 جون 2023 کو ختم ہوگئی تھی اور کے الیکٹرک نے نیپرا کے پاس اگلی کنٹرول مدت کے لیے ٹیرف کی درخواستیں دائر کردی ہیں۔

نیپرا 24-2023 سے مالی سال 30-2029 کے دوران سپلائرز بزنس کے لیے ٹیرف کے تعین کے لیے کے الیکٹرک کی کثیر سالہ ٹیرف پر رواں ہفتے عوامی سماعت کرے گا۔ ریگولیٹر نے مالی سال 24-2023 سے 30-2029 کی مدت کے لئے ٹرانسمیشن ٹیرف کے تعین کے لئے کے وائی کی کثیر سالہ ٹیرف درخواست پر سماعت کے لئے نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.