BR100 Increased By (0.05%)
BR30 Decreased By (-0.02%)
KSE100 Increased By (0.45%)
KSE30 Increased By (0.47%)
BAFL 58.44 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.17 Increased By ▲ 0.18 (0.53%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 20.80 Decreased By ▼ -0.04 (-0.19%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 89.12 Decreased By ▼ -0.67 (-0.75%)
FCCL 53.20 Increased By ▲ 0.37 (0.7%)
FFL 18.00 Increased By ▲ 0.05 (0.28%)
GGL 19.15 Increased By ▲ 0.18 (0.95%)
HBL 287.00 Increased By ▲ 1.50 (0.53%)
HUBC 214.97 Increased By ▲ 0.59 (0.28%)
HUMNL 10.76 Decreased By ▼ -0.12 (-1.1%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.50 Increased By ▲ 0.99 (1.14%)
OGDC 322.00 Increased By ▲ 2.04 (0.64%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 16.65 Decreased By ▼ -0.02 (-0.12%)
PIOC 262.11 Decreased By ▼ -3.95 (-1.48%)
PPL 230.35 Increased By ▲ 2.17 (0.95%)
PRL 34.53 Decreased By ▼ -0.15 (-0.43%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.90 Increased By ▲ 0.30 (1.13%)
TELE 8.38 Increased By ▲ 0.10 (1.21%)
TPLP 8.26 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.91 Increased By ▲ 0.20 (0.29%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

لاہور ہائیکورٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 4 سی(زیادہ کمانے والے افراد پر سپر ٹیکس) کے تحت کمپنیوں اور افراد پر سپر ٹیکس عائد نہ کرنے کا حکم دیا ۔

درخواست گزاروں نے ٹیکس سال 2022 کے لئے سپر ٹیکس کے نفاذ کو چیلنج کیا تھا ۔

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے (آئی سی اے نمبر 48745 برائے 2023) کے مطابق اپیل کنندگان/ ٹیکس دہندگان کی اپیلیں منظور کرلی گئیں ۔ مذکورہ فیصلے کا وہ حصہ جو ٹیکس سال 2022 کے لئے کے الفاظ کے استعمال کے ذریعہ دفعہ 4 سی کے سابقہ اطلاق کو برقرار رکھتا ہے کو خارج کردیا ہے۔

ٹیکس سال 2022 کے لئے ان درخواست گزاروں پر سیکشن 4 سی کے تحت سپر ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس میں خصوصی ٹیکس سال کے حامل درخواست گزار بھی شامل ہیں۔

کورٹ نے کہا کہ امتیازی سلوک کے حوالے سے اس مقدمے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کی مختلف شرحیں فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض شعبوں کو بغیر کسی قابل فہم معیار کے باقی افراد سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور ان پر ان افراد کے مقابلے میں زیادہ شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی مانگ کی گئی ہے جو اسی زمرے میں آمدنی حاصل کرتے ہیں ۔ سندھ ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سنگل جج کی ہولڈنگ بالکل یہی ہے۔ہمیں اس سلسلے میں کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔

ہم اسلام آباد ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ (جہاں اسی طرح کے چیلنجز لائے گئے تھے) کے نتائج سے متفق ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.