BR100 Decreased By (-0.39%)
BR30 Decreased By (-0.57%)
KSE100 Decreased By (-0.22%)
KSE30 Decreased By (-0.15%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.80 Increased By ▲ 0.17 (0.69%)
BOP 29.97 Decreased By ▼ -0.15 (-0.5%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.34 Increased By ▲ 0.85 (4.86%)
DGKC 186.51 Decreased By ▼ -0.71 (-0.38%)
FABL 93.00 Decreased By ▼ -0.71 (-0.76%)
FCCL 51.19 Decreased By ▼ -0.46 (-0.89%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.01 Decreased By ▼ -1.77 (-0.58%)
HUBC 198.70 Decreased By ▼ -0.26 (-0.13%)
HUMNL 9.66 Decreased By ▼ -0.19 (-1.93%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.25 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
MLCF 90.19 Decreased By ▼ -1.04 (-1.14%)
OGDC 315.75 Increased By ▲ 2.36 (0.75%)
PAEL 34.69 Decreased By ▼ -0.55 (-1.56%)
PIBTL 14.18 Decreased By ▼ -0.53 (-3.6%)
PIOC 234.00 Decreased By ▼ -5.62 (-2.35%)
PPL 221.20 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PRL 90.44 Decreased By ▼ -0.78 (-0.86%)
SNGP 90.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.41%)
SSGC 23.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.39 Decreased By ▼ -0.22 (-2.89%)
TPLP 12.09 Decreased By ▼ -0.47 (-3.74%)
TRG 54.43 Decreased By ▼ -1.36 (-2.44%)
UNITY 7.96 Decreased By ▼ -0.06 (-0.75%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

لاہور ہائیکورٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 4 سی(زیادہ کمانے والے افراد پر سپر ٹیکس) کے تحت کمپنیوں اور افراد پر سپر ٹیکس عائد نہ کرنے کا حکم دیا ۔

درخواست گزاروں نے ٹیکس سال 2022 کے لئے سپر ٹیکس کے نفاذ کو چیلنج کیا تھا ۔

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے (آئی سی اے نمبر 48745 برائے 2023) کے مطابق اپیل کنندگان/ ٹیکس دہندگان کی اپیلیں منظور کرلی گئیں ۔ مذکورہ فیصلے کا وہ حصہ جو ٹیکس سال 2022 کے لئے کے الفاظ کے استعمال کے ذریعہ دفعہ 4 سی کے سابقہ اطلاق کو برقرار رکھتا ہے کو خارج کردیا ہے۔

ٹیکس سال 2022 کے لئے ان درخواست گزاروں پر سیکشن 4 سی کے تحت سپر ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس میں خصوصی ٹیکس سال کے حامل درخواست گزار بھی شامل ہیں۔

کورٹ نے کہا کہ امتیازی سلوک کے حوالے سے اس مقدمے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کی مختلف شرحیں فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض شعبوں کو بغیر کسی قابل فہم معیار کے باقی افراد سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور ان پر ان افراد کے مقابلے میں زیادہ شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی مانگ کی گئی ہے جو اسی زمرے میں آمدنی حاصل کرتے ہیں ۔ سندھ ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سنگل جج کی ہولڈنگ بالکل یہی ہے۔ہمیں اس سلسلے میں کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔

ہم اسلام آباد ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ (جہاں اسی طرح کے چیلنجز لائے گئے تھے) کے نتائج سے متفق ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.