BR100 Increased By (0.81%)
BR30 Increased By (1.03%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.80 Increased By ▲ 0.36 (0.62%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.41 (1.21%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.51 Increased By ▲ 2.54 (1.32%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.67 (1.27%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 287.30 Increased By ▲ 1.80 (0.63%)
HUBC 215.60 Increased By ▲ 1.22 (0.57%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.85 Decreased By ▼ -0.04 (-0.14%)
MLCF 87.35 Increased By ▲ 0.84 (0.97%)
OGDC 323.24 Increased By ▲ 3.28 (1.03%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.01 Increased By ▲ 0.34 (2.04%)
PIOC 270.05 Increased By ▲ 3.99 (1.5%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.35 Increased By ▲ 0.17 (0.17%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.37 (4.47%)
TPLP 8.65 Increased By ▲ 0.43 (5.23%)
TRG 69.85 Increased By ▲ 0.14 (0.2%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
بی آر ریسرچ

ہونڈا کی پرواز

شائع May 29, 2024 اپ ڈیٹ May 29, 2024 03:32pm

ہونڈا اٹلس کارز کی جانب سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو بھیجے گئے مالیاتی اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو یہ بات حیران کن ہے کہ کمپنی نے اپنی خالص آمدنی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 گنا اضافہ کیسے کیا جب تمام اہم میٹرکس میں کمی دیکھی گئی ہے ۔ مالی سال 24 کے دوران آمدن میں 42 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ اس دوران کمپنی نے تقریبا 10،530 یونٹس فروخت کیے جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریبا 15،000 یونٹس کم ہیں جو 59 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے ۔ پچھلے ایک سال میں گاڑیوں کی مانگ میں زبردست کمی آئی ہے جو اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کمپنی کی فی یونٹ آمدنی 37 لاکھ روپے سے بڑھ کر 53 لاکھ روپے تک جاپہنچی جس سے لاگت 34 لاکھ سے بڑھ کر 48 لاکھ روپے فی یونٹ ہوگئی ۔ اس کے نتیجے میں کمپنی نے 8 فیصد کا مجموعی مارجن برقرار رکھا جو گزشتہ سال کی ہی طرح تھا ۔ خریداری کے بہتر منصوبوں اور قیمتوں میں اضافے نے مارجن کے نقطہ نظر سے کمپنی کے حق میں کام کیا۔

آمدنی کے اعدادوشمار گرنے سے یہ واضح ہے کہ کمپنی کے اوور ہیڈز اور فنانس اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آمدنی کے حصے کے طور پر مالی اخراجات 4.3 فیصد تک بڑھ گئے (مالی سال 23 میں 2 فیصد سے) اور انتظامی اور مارکیٹنگ اخراجات پچھلے سال کے 0.4 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 2.2 فیصد ہوگئے۔ تاہم یہاں دیگر چارجزمیں بھی نمایاں کمی آئی ہے ، وہ مالی سال 23 کے دوران آمدنی کا 5 فیصد تھے اور رواں سال 1 فیصد تک گر گئے۔ دریں اثنا، نقد بیلنس اور قلیل مدتی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی دیگر آمدنی بڑے پیمانے پرمنافع کو بہتر کرتی رہی ہے ، اگر پچھلے سال کی سطح جیسی نہیں تو مالی سال 24 میں، یہ ٹیکس سے پہلے کی آمدنی کا 82 فیصد تھی ۔ گزشتہ سال یہ شرح 117 فیصد تھی۔

اس کے باوجود ہونڈا کے لیے اصل وجہ ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہونا تھا جس کی وجہ سے کمپنی کو تھوڑا بہت فائدہ پہنچا۔ مالی سال 24 میں مؤثر ٹیکس صرف 15 فیصد تھا جو گزشتہ سال کے 87 فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ’دیگر آمدنی‘ اور مسلسل مارجن کی وجہ سے بعد از ٹیکس آمدنی 2.3 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو مالی سال 23 کے 260 ملین روپے سے ڈرامائی طور پر زیادہ ہے۔

ہونڈا نے اپنے مختلف ماڈلز کی پروموشنز کیں اور مختصر مدت کے لیے ترجیحی فروخت، فوری ڈلیوری اور توسیعی وارنٹی کی پیش کش بھی کی۔ اس سے فروخت میں اضافہ ہونا چا ہیے تھا لیکن مانگ کمزور رہی ۔ اس دوران کمپنی کی پیداوار بھی کئی روز تک بند رہی کیونکہ طلب میں سست روی نے پیداوار کو مسلسل معطل رکھا ۔ اگلے چند مہینوں تک طلب کے امکانات سست ہیں - یہاں تک کہ قیمتوں میں کمی کے باوجود - کمپنی 65 فیصد (6.5 روپے فی حصص) کے حتمی منافع کی پیش کش کرکے اپنے شیئر ہولڈرز کو خوش رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

Comments

Comments are closed.