سی پیک کی غلط حکمتِ عملی: پاکستان نے انفرااسٹرکچر تو تعمیر کیا، مگر ترقی کا موقع گنوا دیا
- اس ناکامی کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری کی کمی نہیں بلکہ مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان تھا۔ توانائی کا شعبہ اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے جاری بحث دو انتہاؤں کے درمیان محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک نقطۂ نظر اسے ایسا تاریخی منصوبہ قرار دیتا ہے جس نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنا دیا، جبکہ دوسرا اسے ملک کو درپیش موجودہ معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ قرار دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مؤقف اس منصوبے سے حاصل ہونے والے اصل سبق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
سی پیک کی اصل کہانی نہ تو صرف چین کے بارے میں ہے اور نہ ہی بنیادی طور پر قرضوں کے گرد گھومتی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی مواقع میں سے ایک کو کس طرح سنبھالا، مگر اسے پائیدار معاشی نمو، صنعتی مسابقت اور ہمہ گیر خوشحالی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا۔
تقریباً 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان کو وہ موقع ملا جو ترقی پذیر ممالک کو شاذ و نادر ہی نصیب ہوتا ہے، یعنی بنیادی ڈھانچے کی سنگین رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ دستیاب ہوا۔ سڑکیں تعمیر ہوئیں، بجلی گھر قائم کیے گئے، ترسیلی نظام کو وسعت دی گئی اور گوادر بندرگاہ کو ترقی دی گئی۔ تاہم ان سرمایہ کاریوں کے باوجود آج پاکستان مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے گردشی قرضے، کمزور صنعتی مسابقت اور اپنی حقیقی استعداد سے بہت کم فعال گوادر جیسے مسائل سے دوچار ہے۔
اس ناکامی کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری کی کمی نہیں بلکہ مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان تھا۔
توانائی کا شعبہ اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔
جب سی پیک کا آغاز ہوا تو پاکستان شدید بجلی بحران کا شکار تھا اور نئی پیداواری صلاحیت کی فوری ضرورت تھی۔ تاہم پالیسی سازوں نے بجلی کی پیداوار کو مکمل حل سمجھ لیا، حالانکہ یہ ایک وسیع تر نظام کا صرف ایک حصہ تھا۔ ساہیوال اور پورٹ قاسم جیسے منصوبوں کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کیا گیا، مگر ترسیلی نظام کی بہتری، تقسیمی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی منڈی کی ترقی اس رفتار کا ساتھ نہ دے سکے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے پاس بجلی پیدا کرنے کی وافر صلاحیت موجود ہونے کے باوجود صارفین کو اس بجلی کی بھی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے جو استعمال ہی نہیں کی جاتی۔ کیپیسٹی پیمنٹس اب ملکی معیشت کی سب سے بڑی ساختی خرابیوں میں شامل ہو چکی ہیں اور گردشی قرضے اور بجلی کے نرخ بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
کوئلے سے چلنے والے منصوبے بھی یہ واضح کرتے ہیں کہ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اگر وسیع معاشی حکمتِ عملی سے الگ ہو تو اس کے نتائج کس قدر نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
سی پیک پر عوامی بحث کا بڑا حصہ اس سوال پر مرکوز رہا ہے کہ آیا بعض منصوبوں کی لاگت غیر معمولی طور پر زیادہ تھی یا نہیں۔ اگرچہ ان معاملات کی آزادانہ جانچ ضروری ہے، لیکن اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ بنیادی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر تمام منصوبے مکمل مسابقتی طریقۂ کار کے تحت بھی دیے جاتے، تب بھی پاکستان کو آج درپیش کئی مسائل برقرار رہتے، کیونکہ بنیادی پالیسی اور حکمتِ عملی ہی خامیوں کا شکار تھی۔
درآمدی کوئلے پر زیادہ انحصار کرنے کے فیصلے نے توانائی کے شعبے کو طویل المدتی زرمبادلہ کے خطرے سے دوچار کر دیا۔ روپے کی قدر میں ہر کمی کے ساتھ بجلی کی لاگت بڑھتی گئی۔ اندرونِ ملک کوئلے کی نقل و حمل کے اخراجات بجلی کے نرخوں کا مستقل حصہ بن گئے، جبکہ بندرگاہی ڈھانچے اور لاجسٹکس کے اخراجات بھی دہائیوں تک نظام پر بوجھ بنتے رہے۔ یوں وہ خطرات، جنہیں ایک مؤثر مارکیٹ زیادہ متوازن انداز میں تقسیم کر سکتی تھی، بالآخر صارفین کے کندھوں پر منتقل ہو گئے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ معاہدوں کے طریقۂ کار نے بجلی کے ایسے نرخ پیدا کیے جو وقت گزرنے کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں غیر مسابقتی ہوتے چلے گئے۔ صنعتی صارفین کو ایسی بجلی خریدنا پڑی جس کی قیمت اکثر بنگلہ دیش، ویتنام، بھارت، انڈونیشیا اور چین کے کئی علاقوں میں موجود حریف صنعتوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی تھی۔
ممکنہ طور پر یہی پورے منصوبے کا سب سے نقصان دہ پہلو ثابت ہوا۔
بجلی کے منصوبوں کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ وہ صنعت کاری اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بنیں گے، مگر نتیجتاً وجود میں آنے والا نرخوں کا ڈھانچہ خود اسی صنعت کاری کی راہ میں رکاوٹ بن گیا جسے فروغ دینا مقصود تھا۔ توانائی پر زیادہ انحصار کرنے والی صنعتوں کی مسابقت کمزور پڑ گئی، زیریں سطح کی مینوفیکچرنگ مطلوبہ رفتار سے ترقی نہ کر سکی، جبکہ برآمدات پر مبنی سرمایہ کاروں نے دیگر ممالک کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ یوں وہی بنیادی ڈھانچہ، جسے صنعتی ترقی کی بنیاد بننا تھا، بالآخر اسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔
یہی ناکامی اس حقیقت کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ گوادر اپنی متوقع صلاحیت اور وعدوں کے مطابق ترقی حاصل نہ کر سکا۔
گوادر کو کبھی صرف ایک بندرگاہ کے طور پر تصور نہیں کیا گیا تھا۔ اصل منصوبہ ایک ایسے مربوط معاشی نظام پر مبنی تھا جس میں گہرے پانی کی بندرگاہ، صنعتی زونز، لاجسٹکس خدمات، برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ، شہری ترقی اور علاقائی تجارتی روابط شامل تھے۔ بندرگاہ دراصل اس پورے منصوبے کی بنیاد تھی۔
جبکہ اصل مقصد اس کے گرد معاشی سرگرمیوں کا فروغ تھا۔
تاہم پاکستان نے اپنی توجہ زیادہ تر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود رکھی۔ سڑکیں بنائی گئیں، بندرگاہی سہولتیں قائم ہوئیں اور ماسٹر پلان تیار کیے گئے، مگر وہ صنعتی ماحول وجود میں نہ آ سکا جو مطلوبہ پیمانے پر سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمی اور روزگار پیدا کر سکتا۔
اصل سوال ہمیشہ یہی تھا کہ گوادر میں کون سی صنعتیں قائم ہوں گی اور کیوں؟
وقت گزرنے کے ساتھ اس سوال کا جواب دینا مشکل ہوتا گیا، کیونکہ مسابقت کے لیے درکار بنیادی شرائط ہی پوری نہ ہو سکیں۔ سرمایہ کاروں کو سستی توانائی، قابلِ اعتماد بنیادی سہولتیں، ہنر مند افرادی قوت، مستحکم ضابطہ جاتی ماحول، مؤثر کسٹمز نظام اور منڈیوں تک آسان رسائی درکار ہوتی ہے، مگر ان میں سے متعدد عناصر مطلوبہ حد تک ترقی نہیں کر سکے۔
اسی لیے گوادر کی ناکامی اور توانائی کے شعبے کی ناکامی دو الگ الگ کہانیاں نہیں بلکہ ایک ہی منصوبہ بندی کی خامی کی مختلف صورتیں ہیں۔ دونوں معاملات میں پاکستان نے معاشی بنیادیں استوار کرنے سے پہلے اثاثے تعمیر کر لیے۔ بندرگاہ صنعتوں سے پہلے آ گئی، بجلی گھر طلب پیدا ہونے سے پہلے قائم ہو گئے، جبکہ معاہدے منڈیوں کی تشکیل سے پہلے کر لیے گئے۔
ان مسائل کو سیاسی اور سماجی عوامل نے مزید پیچیدہ بنا دیا۔
بلوچستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سی پیک سے بہت پہلے سے موجود ہیں اور ان کی جڑیں عشروں پر محیط سیاسی، معاشی اور طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں میں پیوست ہیں۔ تاہم پالیسی ساز اس حقیقت کا درست اندازہ نہ لگا سکے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے مقامی آبادی کو نمایاں طور پر مستفید کرنا کس قدر ضروری تھا۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے اعلانات کیے گئے اور اسٹریٹجک اہداف پر زور دیا گیا، لیکن بہت سے مقامی باشندوں کو روزگار، بنیادی عوامی خدمات، پانی کی فراہمی، تعلیم اور مقامی کاروبار کی ترقی میں خاطر خواہ بہتری محسوس نہ ہوئی۔
اس کے نتیجے میں یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ ترقی کے ثمرات کہیں اور منتقل ہو رہے ہیں۔
یہ تاثر اس لیے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوا کیونکہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار بالآخر مقامی قبولیت پر ہوتا ہے۔ سکیورٹی اقدامات تنصیبات کا تحفظ تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر عوامی حمایت پیدا نہیں کر سکتے۔ یہ حمایت اسی وقت جنم لیتی ہے جب مقامی آبادی خود کو معاشی ترقی کا حقیقی حصہ دار سمجھے۔
سی پیک سے وابستہ اہلکاروں اور تنصیبات پر بار بار ہونے والے حملوں کو صرف سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہیں دیرینہ محرومیوں، غیر متوازن ترقی اور مقامی سطح پر واضح معاشی فوائد پیدا کرنے میں ناکامی کے وسیع تر تناظر میں بھی سمجھنا ہوگا۔ اگرچہ دہشت گردی کسی صورت قابلِ جواز نہیں، تاہم پالیسی ساز اس ترقیاتی پس منظر کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے جس میں یہ عدم استحکام برقرار ہے۔
اس پوری صورتِ حال کا سبق صرف گوادر یا توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔
پاکستان بارہا یہ فرض کرتا رہا کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر خود بخود معاشی سرگرمیوں کو جنم دے گی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کامیاب بندرگاہیں وہاں فروغ پاتی ہیں جہاں تجارت پہلے سے موجود ہو، کامیاب صنعتی زونز وہاں بنتے ہیں جہاں صنعتیں مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہوں، جبکہ کامیاب لاجسٹکس مراکز اسی وقت وجود میں آتے ہیں جب پیداواری سرگرمیاں پہلے ہی جاری ہوں۔
بنیادی ڈھانچہ معاشی نمو کو سہولت فراہم کرتا ہے، مگر اپنے بل بوتے پر ترقی پیدا نہیں کرتا۔
جن ممالک نے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے حقیقی فائدہ اٹھایا، انہوں نے ساتھ ہی ادارہ جاتی اصلاحات نافذ کیں، طرزِ حکمرانی بہتر بنایا، مسابقتی منڈیاں تشکیل دیں، برآمدی صنعتوں کو فروغ دیا اور ایسے نظام قائم کیے جو کارکردگی اور استعداد کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اس کے برعکس پاکستان نے زیادہ تر توجہ تعمیراتی مرحلے پر مرکوز رکھی، جبکہ ان ناگزیر اصلاحات کو مؤخر کرتا رہا۔
نتیجتاً، ملک اس سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد کا صرف ایک محدود حصہ ہی سمیٹ سکا۔
لہٰذا سی پیک کی سب سے بڑی ناکامی نہ تو ضرورت سے زیادہ قرض لینا تھا اور نہ ہی صرف مہنگے بجلی منصوبے۔ اصل ناکامی یہ تھی کہ بنیادی ڈھانچے میں کی گئی سرمایہ کاری کو مسابقتی صنعتی ترقی میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان نے ایک دہائی اثاثے تعمیر کرنے میں صرف کر دی، مگر ان اثاثوں کو حقیقی طور پر پیداواری بنانے کے لیے درکار ادارہ جاتی، تجارتی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق اصلاحات کو نظر انداز کرتا رہا۔
گوادر آج بھی ایک ایسی بندرگاہ ہے جو اپنے گرد مضبوط صنعتی بنیاد قائم ہونے کی منتظر ہے۔ توانائی کا شعبہ صنعتی مسابقت کی بنیاد بننے کے بجائے بڑھتی ہوئی لاگت کا سبب بن چکا ہے، جبکہ وہ علاقے جنہیں ترقیاتی عمل کا حقیقی حصہ دار بننا تھا، آج بھی اس بات پر مطمئن نہیں کہ ترقی کے ثمرات ان تک پہنچ رہے ہیں۔
اس پورے تجربے سے حاصل ہونے والا سبق واضح ہے۔ آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں صرف یہ نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ کیا تعمیر کیا جا رہا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ان سرمایہ کاریوں کے گرد کس نوعیت کا معاشی نظام تشکیل پاتا ہے۔ مسابقتی منڈیاں، جوابدہ ادارے، سستی توانائی، برآمدات پر مبنی صنعت کاری اور مقامی آبادی کی شمولیت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جتنی ہی اہم ہیں۔
اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو سرمایہ فراہم کرنے والا فریق کوئی بھی ہو، پاکستان کے ایک ہی چکر میں دوبارہ پھنس جانے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
اصل چیلنج کبھی سرمایہ حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ سرمائے کو پائیدار خوشحالی میں تبدیل کرنا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026





















Comments