BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Decreased By (-0.04%)
KSE100 Increased By (0.15%)
KSE30 Increased By (0.17%)
BAFL 57.07 Increased By ▲ 0.20 (0.35%)
BIPL 24.99 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 30.47 Increased By ▲ 0.12 (0.4%)
CNERGY 13.16 Increased By ▲ 0.04 (0.3%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 192.70 Increased By ▲ 0.25 (0.13%)
FABL 94.14 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 52.95 Increased By ▲ 0.16 (0.3%)
FFL 14.84 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 307.40 Increased By ▲ 1.30 (0.42%)
HUBC 201.90 Increased By ▲ 0.48 (0.24%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.56 Increased By ▲ 0.10 (0.38%)
MLCF 93.63 Increased By ▲ 0.47 (0.5%)
OGDC 315.59 Decreased By ▼ -1.14 (-0.36%)
PAEL 35.61 Decreased By ▼ -0.02 (-0.06%)
PIBTL 14.93 Increased By ▲ 0.25 (1.7%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 225.90 Decreased By ▼ -1.01 (-0.45%)
PRL 93.30 Increased By ▲ 0.28 (0.3%)
SNGP 91.89 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
SSGC 23.90 Increased By ▲ 0.09 (0.38%)
TELE 7.87 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
TPLP 12.91 Decreased By ▼ -0.06 (-0.46%)
TRG 56.83 Increased By ▲ 0.27 (0.48%)
UNITY 8.10 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

مالی سال 2026ء، مالی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر

  • مجموعی آمدن 19.774 ٹریلین، اخراجات 23.087 ٹریلین روپے رہے
شائع اپ ڈیٹ

مالی سال 2025-26 میں پاکستان کا مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کی 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا جس میں صوبائی سرپلس میں اضافہ، پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں نمایاں بہتری اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں خاطر خواہ بچت نے اہم کردار ادا کیا تاہم ایف بی آر آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ریونیو ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو وفاقی اور صوبائی مالیاتی امور کے مجموعی آپریشنز کی سمری 2025-26 جاری کی جس کے مطابق حکومت نے 3.313 ٹریلین روپے یعنی جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کے برابر مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیا۔ اس دوران مجموعی آمدن 19.774 ٹریلین روپے جبکہ اخراجات 23.087 ٹریلین روپے رہے۔

مالی پوزیشن کو 1.449 ٹریلین روپے کے مجموعی صوبائی سرپلس اور مقامی قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 1.967 ٹریلین روپے کی بچت سے تقویت ملی۔

حکومت نے 3.634 ٹریلین روپے کا پرائمری سرپلس بھی ریکارڈ کیا جو جی ڈی پی کے 2.9 فیصد کے برابر ہے۔

پیٹرولیم لیوی نان ٹیکس آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آئی جس کی وصولی مالی سال کے دوران 1.567 ٹریلین روپے رہی۔ یہ رقم نظرثانی شدہ 1.498 ٹریلین روپے کے ہدف سے 69 ارب روپے جبکہ اصل مقررہ 1.468 ٹریلین روپے کے ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ ہے۔

مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف 1.676 ٹریلین روپے مقرر کیا ہے جو مالی سال 2025-26 کی حقیقی وصولی کے مقابلے میں تقریباً 109 ارب روپے زیادہ ہے۔

مجموعی آمدن 19.773 ٹریلین روپے رہی جو جی ڈی پی کے 15.6 فیصد کے برابر ہے۔ اس میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 13.010 ٹریلین روپے جبکہ نان ٹیکس آمدن 5.554 ٹریلین روپے رہی۔

نان ٹیکس آمدن میں سب سے بڑا حصہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سرپلس منافع کا رہا جو 2.428 ٹریلین روپے تھا، اس کے بعد پیٹرولیم لیوی سے 1.567 ٹریلین روپے حاصل ہوئے۔ دیگر وصولیوں میں تیل و گیس رائلٹی کی مد میں 131.631 ارب روپے، سرکاری شعبے کے اداروں اور دیگر ذرائع سے مارک اَپ کی مد میں 157.470 ارب روپے، قدرتی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں 52.853 ارب روپے، پاسپورٹ فیس کی مد میں 48.521 ارب روپے اور پی ٹی اے کے منافع کی مد میں 30.219 ارب روپے شامل ہیں۔

ایل پی جی پر پیٹرولیم لیوی کی مد میں 3.523 ارب روپے، کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی سے 11.358 ارب روپے، کاربن لیوی سے 50.159 ارب روپے جبکہ این ای وی (نیو انرجی وہیکلز) ایڈاپشن لیوی سے 25.939 ارب روپے حاصل ہوئے۔

مجموعی اخراجات 23.087 ٹریلین روپے رہے جن میں جاری اخراجات 20.686 ٹریلین روپے شامل ہیں۔ وفاقی جاری اخراجات مالی سال 2024-25 کے 15.695 ٹریلین روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 14.448 ٹریلین روپے رہے۔ دفاعی اخراجات 2.587 ٹریلین روپے رہے جو جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر ہیں۔

قرضوں کی ادائیگی وفاقی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ رہی جس کے تحت مجموعی مارک اَپ ادائیگیاں 6.948 ٹریلین روپے رہیں۔ ان میں مقامی قرضوں پر 6.030 ٹریلین روپے جبکہ غیر ملکی قرضوں پر 917.217 ارب روپے ادا کیے گئے۔ سود کی ادائیگیاں ایک سال قبل کے 8.9 ٹریلین روپے سے کم ہوکر تقریباً 6.95 ٹریلین روپے رہیں، یعنی ان میں تقریباً 2 ٹریلین روپے کی کمی ہوئی۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق ایل پی جی پر پیٹرولیم لیوی کی مد میں 3.523 ارب روپے، کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی سے 11.358 ارب روپے، کاربن لیوی کی مد میں 50.159 ارب روپے جبکہ این ای وی (نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں) ایڈاپشن لیوی سے 25.939 ارب روپے وصول ہوئے۔

Comments

200 حروف