ایک بار پھر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری
- بظاہر مزید 10 سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت میں آنے کی منتظر ہے، بشرطیکہ حکومت اس کے لیے موزوں پالیسی فریم ورک تیار کرسکے
بظاہر مزید 10 سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت میں آنے کی منتظر ہے، بشرطیکہ حکومت اس کے لیے موزوں پالیسی فریم ورک تیار کرسکے۔
وزارت خزانہ اب برطانیہ، بھارت اور مشرق وسطیٰ میں رائج نظاموں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے آئندہ دو ہفتوں میں قومی نجی سرمایہ کاری (پرائیویٹ ایکویٹی) فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی امید رکھتی ہے۔
اس اقدام کا مقصد ملکی بچتوں کو متحرک کرنا، غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا اور کاروباری اداروں کو خطرات برداشت کرنے کے لیے درکار سرمایہ فراہم کرنا ہے۔ بلاشبہ یہ تمام مقاصد قابل قدر ہیں۔
لیکن کئی برسوں سے سرمایہ کاری کے بلند بانگ اعلانات، وسیع اصلاحاتی منصوبوں اور مایوس کن حد تک معمولی نتائج کے بعد حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ آخر اس تازہ کوشش میں ایسی کیا بات ہے جو اسے گزشتہ کوششوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب بنائے گی۔
سب سے پہلا سوال خود ان اعداد و شمار سے متعلق ہے۔ 10 سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ کہاں سے حاصل کیا گیا ہے؟ کیا حکومت نے ایسے سرمایہ کاروں کی نشاندہی کی ہے جو یہ رقوم لگانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا تجارتی اعتبار سے قابل عمل منصوبوں کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا ہے یا سرمایہ کاری کے لیے کوئی حقیقت پسندانہ مدت مقرر کی گئی ہے؟
اطلاعات کے مطابق ہونے والی بات چیت سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ ہدف کس بنیاد پر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اس رقم سے مراد کئی برسوں کے دوران سرمایہ کاری کے ممکنہ وعدے ہیں یا حقیقی سرمایہ کاری کی آمد سے متعلق توقعات ہیں۔ سنجیدہ معاشی منصوبہ بندی کے لیے ان دونوں باتوں میں فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً ایسے ملک میں جہاں سرمایہ کاری کے اعلانات اور وعدے حاصل کرنا حقیقی سرمایہ لانے کے مقابلے میں بارہا آسان ثابت ہوا ہے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی مثالوں کا معاملہ بھی اہم ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت برطانیہ، بھارت اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں رائج نجی سرمایہ کاری کے ماڈلز سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ان معیشتوں کی ادارہ جاتی صلاحیت، مالیاتی منڈیوں کی گہرائی، سرمایہ کاروں کی شرکت، ضوابط پر عمل درآمد اور موجودہ سرمایہ کاری کے مواقع پاکستان سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔
بلاشبہ ان ممالک کے تجربات سے مفید اسباق حاصل کیے جاسکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے کون سے مخصوص ضوابط پاکستان کے لیے موزوں ہیں اور انہیں مقامی حالات کے مطابق کس طرح ڈھالا جائے گا؟ محض کامیاب غیر ملکی ماڈلز کا حوالہ دینا اس بات کی کوئی خاص ضمانت فراہم نہیں کرتا کہ بنیادی طور پر مختلف معاشی ماحول میں بھی ایسے ہی نتائج حاصل کیے جاسکیں گے۔
نجی سرمایہ کاری کے لیے صرف سازگار ٹیکس مراعات اور مالیاتی اداروں کو فنڈز میں سرمایہ کاری کی اجازت دینا کافی نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاروں کو مالیاتی معلومات کے قابل اعتماد انکشافات، معاہدوں کے مؤثر قانونی نفاذ، ٹیکس کے قابل پیش گوئی نظام، مؤثر کارپوریٹ گورننس اور اپنی سرمایہ کاری میں حصص فروخت کرکے باہر نکلنے کے قابل اعتماد طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ایسے کاروباری ادارے بھی درکار ہوتے ہیں جو تجارتی اعتبار سے پرکشش منافع کمانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
پاکستان کو پالیسیوں میں بار بار تبدیلیوں، ٹیکس تنازعات، ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد جیسے مستقل مسائل درپیش ہیں، جنہیں محض سرمایہ کاری کا ایک اور ذریعہ قائم کرکے حل نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، مجوزہ فریم ورک سرمایہ فراہم کرنے کے اضافی ذرائع تو پیدا کرسکتا ہے، لیکن سرمایہ کار انہیں استعمال کرنے سے گریزاں رہیں گے۔
ضابطہ جاتی سطح پر بعض عملی پیش رفت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے ایک بینک کی جانب سے کسی ایک نجی سرمایہ کاری فنڈ میں سرمایہ کاری کی قابل اجازت حد 10 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کردی ہے، جبکہ فنڈز کو ٹیکس کے معاملے میں شفاف اداروں کا درجہ دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ ان اقدامات کا جائزہ لینا ضروری ہے، خصوصاً مالیاتی استحکام، محصولات کی وصولی اور ضابطہ جاتی نگرانی پر ان کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے۔
تاہم رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آر ای آئی ٹیز) میں بینکوں کی سرمایہ کاری میں مبینہ اضافے سے یہ ثابت کرنے کے لیے محدود شواہد ملتے ہیں کہ وسیع تر نجی سرمایہ کاری کی منڈی کیا نتائج دے سکتی ہے۔
رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے ڈھانچے اور پیداواری کاروباری اداروں کے لیے نجی سرمایہ کاری کی مالی معاونت میں خطرات، سرمایہ کاری کی مدت اور تجارتی تقاضے ایک دوسرے سے کافی مختلف ہوتے ہیں۔
وزیر خزانہ کا یہ مؤقف درست ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں سے توقعات وابستہ کرنے سے پہلے ملکی سرمائے کو متحرک کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
تاہم حکومت کو وضاحت کرنا ہوگی کہ بینکوں، انشورنس کمپنیوں، پنشن فنڈز اور دیگر اداروں میں موجود بچتوں کو ان اداروں کی موجودہ ذمہ داریوں سے سمجھوتہ کیے بغیر یا مستفید ہونے والوں کو ایسے خطرات سے دوچار کیے بغیر پیداواری سرمایہ کاری کی طرف کس طرح منتقل کیا جائے گا جنہیں وہ پوری طرح سمجھتے بھی نہ ہوں۔
حکومت کو ان شعبوں، منصوبوں اور کاروباری اداروں کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے جن میں مجوزہ سرمایہ کاری استعمال کی جائے گی۔ اس کے ساتھ منافع، مالی ضروریات اور سرمایہ کاری کی مدت کے حوالے سے قابل اعتماد تخمینے بھی پیش کیے جانے چاہییں۔
دو ہفتوں کی مقررہ مدت میں پالیسی دستاویز کو حتمی شکل دینا ممکن ہوسکتا ہے، خصوصاً اگر اس حوالے سے ابتدائی کام پہلے ہی کافی حد تک مکمل ہوچکا ہے۔ تاہم نجی سرمایہ کاری کا ایک فعال نظام قائم کرنے میں کہیں زیادہ وقت لگے گا۔
لہٰذا حکومت کو مرحلہ وار عمل درآمد کا منصوبہ شائع کرنا چاہیے، ضابطہ جاتی تبدیلیوں اور قانون سازی سے متعلق تجاویز میں فرق واضح کرنا چاہیے اور حقیقی سرمائے کو متحرک کرنے اور سرمایہ کاری کے عملی استعمال کے لیے قابل پیمائش اہداف مقرر کرنے چاہییں۔
پاکستان کو سرمایہ کاری، مالیاتی منڈیوں میں گہرائی اور طویل مدتی مالی وسائل کے نئے ذرائع کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں یقیناً حمایت کی مستحق ہیں۔ لیکن معاشی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے اہداف مقرر کرتے وقت نظم و ضبط اور انہیں حاصل کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں صاف گوئی ضروری ہے۔
وزارت خزانہ نے سرمایہ کاری کا ایک اور متاثر کن ہدف پیش کردیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت یہ بتائے کہ یہ سرمایہ حقیقت میں پاکستان کیسے پہنچے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026





















Comments