سی ایل آئی ایس پلس : پاکستان میں زرعی خطرات سے تحفظ کے نظام کی تشکیلِ نو
- چیلنجز اور موسمیاتی خطرات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے سی ایل آئی ایس پلس اسکیم متعارف کرادی، جس میں زرعی انشورنس کے لیے کئی انقلابی اصلاحات اور جدید خصوصیات شامل ہیں
زراعت پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالتی ہے، 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی اور لاکھوں دیہی گھرانوں کی کفالت کرتی ہے۔ تاہم یہ شعبہ ملک کے سب سے زیادہ کمزور حصوں میں سے بھی ایک ہے، جسے سیلاب، خشک سالی، کیڑے مکوڑوں کے حملوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسم کا تیزی سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
زرعی شعبے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے نہ صرف سرمائے تک رسائی ضروری ہے، بلکہ انشورنس (بیمہ کاری) کے ذریعے خطرات سے نمٹنے کا ایک مضبوط نظام بھی ناگزیر ہے۔زرعی معیشت ہونے کے باوجود پاکستان میں فصلوں کی انشورنس کی شرح خطے میں سب سے کم ہے۔ یہاں کاشت شدہ زمین کا محض 2 فیصد سے بھی کم حصہ رسمی انشورنس کے دائرے میں آتا ہے، جبکہ بھارت اور چین جیسی علاقائی معیشتوں میں یہ کوریج بہت زیادہ ہے، جہاں زرعی انشورنس قومی غذائی تحفظ اور دیہی ترقی کی حکمت عملیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی خطرات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر انشورنس کے اس بڑے خلا کو پُر کرنا اب انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 2008 میں ”کراپ لون انشورنس اسکیم“(سی ایل آئی ایس) متعارف کرائی تھی، جس میں بعد میں 2014 میں ترمیم کی گئی۔ اس کا مقصد کسانوں اور قرض دینے والے اداروں کو قدرتی آفات کی وجہ سے فصلوں کے نقصانات سے بچانا اور بینکوں کو زرعی قرضے بڑھانے کی ترغیب دینا تھا۔
اگرچہ اس پرانی اسکیم نے زرعی قرضوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن چند انتظامی اور عملی مشکلات کی وجہ سے اس کی افادیت محدود رہی۔ مثال کے طور پر نقصانات کے کلیمز (معاوضے) کا دارومدار زیادہ تر حکومت کی جانب سے کسی علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن پر ہوتا تھا، جس کی وجہ سے اکثر معاوضے کی ادائیگی میں بہت زیادہ تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ انشورنس کا دائرہ کار محدود تھا، ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے مینول طریقوں پر انحصار کیا جاتا تھا اور کسانوں میں اس حوالے سے شعور بھی کافی کم تھا۔
انہی چیلنجز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اب ”کراپ لون انشورنس اسکیم پلس“ (سی ایل آئی ایس پلس) کا آغاز کیا ہے، جو اس پروگرام کی شروعات سے لے کر اب تک پاکستان کے زرعی انشورنس فریم ورک میں سب سے بڑی اور اہم اصلاحات کی نمائندگی کرتا ہے۔اس نئی سی ایل آئی ایس پلس اسکیم میں کئی انقلابی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ انشورنس کے دائرہ کار کو بڑھا کر اس میں آلو جیسی مزید فصلوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ فصلوں کی پیداوار کے لیے دیے جانے والے قرضوں پر انشورنس اب بھی لازمی رہے گی۔ اب اس اسکیم میں سیٹلائٹ کی تصاویر، ریموٹ سینسنگ (دور سے جائزہ لینے والی ٹیکنالوجی)، ڈیجیٹل سروے اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کی خدمات شامل کی گئی ہیں، تاکہ فصلوں کے نقصان کا تیزی سے، غیر جانبدارانہ اور شفاف اندازہ لگایا جا سکے۔
اس نئی اسکیم کی سب سے بڑی جدت پاکستان میں پہلی بار ”کنسورشیم پر مبنی زرعی رسک پولنگ ماڈل“ (مختلف انشورنس کمپنیوں کا مل کر خطرات کا بوجھ اٹھانا) متعارف کرانا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت حصہ لینے والی انشورنس کمپنیاں مل کر زرعی خطرات کا بیمہ کریں گی، جس سے انشورنس انڈسٹری کی گنجائش اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور توقع ہے کہ اس پروگرام کا مجموعی دائرہ کار تقریباً تین گنا بڑھ جائے گا۔ یہ ماڈل مارکیٹ کو استحکام فراہم ، بڑی قدرتی آفات کے خطرات کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم کرتے ہوئے کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو فصلوں کی انشورنس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔
اس منصوبے کے تحت کسانوں کے تحفظ کو بھی کافی حد تک بڑھایا گیا ہے۔ بینک کے بقایا زرعی قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اہل کسانوں کو ایک بار آمدنی کی مد میں مالی امداد (انکم سپورٹ) بھی دی جا سکے گی اور ساتھ ہی ذاتی حادثے اور چوٹ کی صورت میں بھی فوائد ملیں گے۔ حکومتِ پاکستان چھوٹے کسانوں کے لیے انشورنس کے پریمیم (قسطوں) پر سبسڈی (مالی رعایت) دینا جاری رکھے گی، تاکہ یہ انشورنس ان کی جیب پر بھاری نہ پڑے اور زیادہ سے زیادہ مالی شمولیت ممکن ہو سکے۔
اس اسکیم کی کامیابی سے نئی تشکیل اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی اے پی)، کمرشل بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کے مشترکہ تعاون کا نتیجہ ہے۔
اس حوالے سے وزارتِ خزانہ نے زرعی خطرات کی مالیات اور حکومتی پریمیم سبسڈی کی فراہمی میں اہم پالیسی سازی کا کردار ادا کیا ہے۔ ایس ای سی پی نے سب کے لیے انشورنس (انکلوسیو انشورنس) کے ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے اور ڈیجیٹل جدت کو فروغ دیا ہے۔ آئی اے پی نے انڈسٹری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور اس مشترکہ ماڈل کو آگے بڑھانے میں ریگولیٹرز اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اس پورے عمل میں تکنیکی مدد، بین الاقوامی مہارت اور عالمی سطح کے بہترین طریقوں کو اپنانے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔
انشورنس انڈسٹری کے لیے یہ اسکیم جغرافیائی تجزیات (جغرافیائی ڈیٹا)، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کلیمز کی تیز تر ادائیگی کے ذریعے زرعی انشورنس کے نظام کو جدید بنانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ بینکوں کے لیے یہ ان کے قرضوں کے ڈوبنے کے خطرے کو کم کرتی ہے اور انہیں زیادہ زرعی قرضے دینے کی ترغیب دیتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کسانوں کو بار بار آنے والے موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف ایک مضبوط مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
پاکستان کا زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں سب سے آگے ہے، جس کی وجہ سے اب مالیاتی استحکام اتنا ہی اہم ہو چکا ہے جتنی کہ زرعی پیداوار۔ لہٰذا ”سی ایل آئی ایس پلس“ محض ایک انشورنس پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ غذائی تحفظ، مالی شمولیت اور موسمیاتی لچک (موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت) میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان میں زرعی انشورنس کے منظر نامے کو بدلنے، تحفظ کے خلا کو کم کرنے اور خطے میں موسمیاتی طور پر اسمارٹ زرعی رسک مینجمنٹ کے لیے ایک رول ماڈل بن کر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
























Comments