مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اسٹاک ایکسچینج پر اثر انداز، انڈیکس 1500 سے زائد پوائنٹس گر گیا
- کے ایس ای 100 انڈیکس 168,953.70 پوائنٹس پر بند
بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید مندی کی لپیٹ میں آگئی، ایران پر اسرائیلی حملوں نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کردیا جس کے باعث پیر کو 100 انڈیکس میں 1,500 سے زائد پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، شدید فروخت کے دباؤ کے باعث ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 168,500 پوائنٹس کی سطح سے بھی نیچے چلا گیا۔
تاہم سرمایہ کاروں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری خریداری شروع کردی، جس سے انڈیکس میں زبردست ریکوری دیکھنے کو ملی، اسی دوران انڈیکس 169,360.54 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح کی طرف جاپہنچا۔
دوپہر کے بعد خریداری کی سرگرمی دوبارہ شروع ہوئی جب انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 168,432.45 پوائنٹس تک گر گیا تھا۔ اس کے بعد بینچ مارک انڈیکس نے دوبارہ بحالی دکھائی اور سہ پہر کے سیشن میں بتدریج بہتری کے ساتھ اپنی ابتدائی کمی کا کچھ حصہ کم کر لیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,525.24 پوائنٹس یا 0.89 فیصد کی کمی سے 168,953.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ میں آج شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی ایکویٹی مارکیٹوں میں ہونے والی مندی تھی کیونکہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مارکیٹ میں منفی رجحان نے بڑے پیمانے پر عالمی مارکیٹ کے رجحانات کی پیروی کی، جس کی وجہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور نئے حملوں نے مالیاتی بازاروں میں خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کی سکت کم رہی۔
انڈیکس میں مختلف کمپنیوں کے حصے کے حوالے سے ٹاپ لائن کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کے بڑے حصص مسلسل دباؤ کا شکار رہے۔ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، اینگرو ہولڈنگز، فوجی فرٹیلائزر کمپنی، حبیب بینک لمیٹڈ، حب پاور کمپنی اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس سے تقریباً 561 پوائنٹس کی کمی کی۔
گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بری طرح اثر انداز ہوئی جس نے علاقائی استحکام اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے خدشات کے باعث زیادہ تر شعبوں میں محتاط ٹریڈنگ کو جنم دیا اور پی ایس ایکس کو نیچے دھکیل دیا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیادوں پر 2 فیصد یا 3,483.87 پوائنٹس کی کمی کے بعد 170,478.94 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاکس میں شدید گراوٹ دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار اس خوف سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے وابستہ مقبول ترین شیئرز سے تیزی سے باہر نکل گئے کہ مارکیٹ میں تیزی کا یہ رجحان حد سے زیادہ اور بہت تیز رہا جب کہ دوسری جانب ایران میں تازہ ترین جارحیت اور کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔
مندی کے دوہرے محرکات جو مارکیٹ کے کمزور مزاج کو نمایاں کر رہے ہیں، گزشتہ ہفتے چِپ بنانے والی کمپنی براڈکام کے مایوس کن کاروباری آؤٹ لک اور جمعہ کو سامنے آنے والی امریکہ میں ملازمتوں کی غیر متوقع طور پر مضبوط رپورٹ تھی جس کے بعد ٹریڈرز اس سال شرح سود میں اضافے کے امکانات کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔
رواں سال دنیا بھر میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی جنوبی کوریا کی چِپ پر مبنی مارکیٹ کوسپی ایشیا میں سب سے زیادہ نقصان کا شکار رہی جہاں 5 فیصد کی گراوٹ کے بعد یہ بینچ مارک انڈیکس گزشتہ ہفتے کی بلند ترین سطح سے 13 فیصد نیچے آگیا۔
جاپان کا نکئی انڈیکس بھی لگ بھگ 4 فیصد گرگیا جس میں کمپیوٹر چِپ کی پروڈکشن سپلائی چین سے وابستہ سرمایہ کاروں کے پسندیدہ ترین شیئرز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا جبکہ تائیوان کا بینچ مارک انڈیکس 3.9 فیصد تک نیچے آگیا۔
جمعہ کو آنے والی شدید مندی کے بعد نسڈیک فیوچرز بحالی کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ یورپی فیوچرز میں 1 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ جمعہ کو نسڈیک میں 4.2 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
بانڈز مارکیٹ میں 2 سالہ ٹریژری کی شرحِ منافع میں جمعہ کو 11 بیسس پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہوا اور پیر کو مزید 1.6 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ یہ 4.1782 فیصد پر پہنچ گئی۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی بدستور نازک بنی ہوئی ہے اور پیر کو برینٹ کروڈ کے فیوچرز تقریباً 3.5 فیصد اضافے کے ساتھ 96.45 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، یہ اضافہ اسرائیل کی جانب سے مغربی اور وسطی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد سامنے آیا۔
دوسری جانب پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے (0.01 روپے) کے اضافے کے ساتھ 278.40 روپے پر بند ہوئی۔
اسٹاک مارکیٹ کے آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم (والیم) پچھلے سیشن کے 72 کروڑ 71 لاکھ شیئرز سے کم ہو کر 65 کروڑ 79 لاکھ شیئرز رہ گیا۔
اسی طرح حصص کی مجموعی مالیت (ٹریڈنگ ویلیو) بھی گزشتہ کاروباری سیشن کے 26 ارب 75 کروڑ روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 22 ارب 59 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔
کاروبار کے لحاظ سے ٹی پی ایل پراپرٹیز 6 کروڑ 5 لاکھ شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، جس کے بعد ٹی پی ایل کارپوریشن لمیٹڈ 4 کروڑ 37 لاکھ شیئرز کے ساتھ دوسرے اور پیس پاکستان لمیٹڈ 2 کروڑ 63 لاکھ شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
پیر کو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں سے 116 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 336 کے نرخوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 42 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

























Comments