دوحہ مذاکرات ختم، امریکہ اور ایران میں آبنائے ہرمز پر بات چیت
- دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے دو روز تک دوحہ میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران کے لیے مالی مراعات جیسے معاملات پر بات چیت کی
ایران اور امریکہ کے درمیان بدھ کے روز ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور کسی واضح پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا۔ مذاکرات میں دیرپا امن کی جانب پیش قدمی کے بجائے ان امور پر توجہ مرکوز رہی جنہیں بظاہر دو ہفتے قبل طے شدہ ابتدائی معاہدے میں حل شدہ قرار دیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے دو روز تک دوحہ میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران کے لیے مالی مراعات جیسے معاملات پر بات چیت کی، جو جون میں طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے دو بنیادی ستون تھے، جبکہ ان پیچیدہ معاملات پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی جنہیں اس فریم ورک کے اگلے مرحلے میں زیر بحث آنا تھا۔
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے دونوں فریق پیش رفت کر رہے ہیں، جو فروری میں جنگ شروع کرنے کی بنیادی وجہ تھی۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے۔ ملاقاتیں بہت مثبت رہی ہیں، اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی نوعیت تکنیکی تھی اور ان میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اس معاملے پر بعد میں بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ یقیناً ہمیں جوہری مسئلے پر تشویش ہے، اور ہم اس پر جلد بات چیت شروع کریں گے۔
دونوں ممالک کے وفود نے ایک دوسرے سے براہِ راست ملاقات نہیں کی بلکہ قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے الگ الگ بات چیت کی۔
امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے اعلیٰ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف، جنہیں وائٹ ہاؤس نے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے خطے میں بھیجا تھا، ان اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے۔ ایک ذریعے نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
ایرانی وفد کے سربراہ اور نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں، تاہم کسی بھی فریق نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اختلافات کم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل ہوئی یا نہیں۔
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہوگا؟
ابتدائی معاہدے کے مطابق ایران اور امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔ اگرچہ جہاز رانی جزوی طور پر بحال ہوچکی ہے، لیکن اس اہم آبی راستے کی صورتحال اب بھی غیر واضح ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے ایک ایرانی حملے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے بھی کیے تھے۔
دو سینئر ایرانی ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے پُرعزم ہے، خواہ اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ایران متعدد بار اعلان کر چکا ہے کہ ابتدائی معاہدے میں دی گئی ٹول فری مدت ختم ہونے کے بعد، یعنی اگست کے وسط سے، بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دوبارہ مکمل جنگ کے امکانات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں وہ کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔
ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں، جبکہ تجزیہ کاروں نے جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ تیل کی قیمتوں سے متعلق اپنی پیش گوئیوں میں کمی کردی۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ ایک غیر ملکی کنٹینر بردار جہاز ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے سے باہر کم گہرے پانی میں پھنس گیا۔
تیل کی منڈی پر نظر رکھنے والے ادارے وانڈا انسائٹس کی بانی وندنا ہری نے کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل تو رہی ہے، لیکن صورتحال غیر ہموار، غیر متوقع اور مکمل طور پر شفاف نہیں ہے۔
کئی یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں مدد کی پیشکش کی ہے، تاہم جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ ان کا ملک اس کارروائی میں حصہ لے گا، کیونکہ ایران دیگر ممالک کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہیں۔


Comments