ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں آپریشن روکنے کا اعلان، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار تشکر
- پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا، شہباز شریف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے شروع کیا گیا امریکی فوجی آپریشن محض ایک دن بعد ہی روک رہے ہیں، تاکہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
ٹرمپ کے مطابق پروجیکٹ فریڈم نامی یہ آپریشن پیر کے روز شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے سے جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنا تھا، جہاں ایران نے حالیہ حملوں کے ردعمل میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا ہے۔
تاہم امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ وہ اس آپریشن کو عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں، کیونکہ ثالثی کرنے والے ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، نے درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے باہمی طور پر اتفاق کیا ہے کہ ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی، تاہم پروجیکٹ فریڈم کو کچھ عرصے کے لیے روکا جا رہا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا معاہدہ حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے یا نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اس فیصلے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ بروقت فیصلہ، جو پاکستان اور دیگر برادر ممالک خصوصاً سعودی عرب اور ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر کیا گیا، علاقائی مفاہمت کو فروغ دے گا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا اور امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت ایک دیرپا معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔
دوسری جانب امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کیا جا سکے، یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو شروع کی تھی۔
اس دوران آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر رہی، جہاں امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی سات کشتیوں کو تباہ کیا، جبکہ متعدد تجارتی جہازوں پر بھی حملے ہوئے جن کا الزام ایران پر عائد کیا گیا۔
قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں مکمل کر لی ہیں، جنہیں آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور اب کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔
مارکو روبیو کے مطابق آبنائے ہرمز میں جھڑپیں اصل جنگ کا حصہ نہیں تھیں بلکہ دفاعی اقدامات تھے، اور پالیسی یہ ہے کہ پہلے حملہ نہ ہونے کی صورت میں کارروائی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جنگ کے اہداف حاصل کر لیے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

Comments