دنیا

ایران سے اچھی بات چیت ہورہی ہے، ٹرمپ، متعدد ممالک پر ڈرون حملے، کیشدگی برقرار

  • اگرچہ ٹرمپ نے سفارتی پیش رفت پر امید ظاہر کی، لیکن امریکی حملوں میں وقفے کے باوجود پیر کو سعودی عرب، اردن اور عراق نے ڈرون حملوں کی اطلاعات دیں
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اچھی بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے کسی معاہدے کا امکان موجود ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر امریکی فضائی حملے دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مذاکرات مثبت جا رہے ہیں، اگر معاہدہ ہو گیا تو بہت اچھا، اور اگر نہ ہوا تو ہم وہی کریں گے جو دو روز پہلے کر رہے تھے۔ بعد ازاں مشی گن میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو رشوت دے کر نہیں بلکہ طاقت سے شکست دی جا سکتی ہے، تاہم اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ مذاکرات جاری ہیں۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور ایران نے سفارت کاری کا راستہ ترک نہیں کیا، تاہم یہ اطلاعات بے بنیاد ہیں کہ تہران نے خود مذاکرات کی درخواست کی ہے۔

اگرچہ ٹرمپ نے سفارتی پیش رفت پر امید ظاہر کی، لیکن امریکی حملوں میں وقفے کے باوجود پیر کو سعودی عرب، اردن اور عراق نے ڈرون حملوں کی اطلاعات دیں۔ سعودی عرب نے بتایا کہ اس نے ریاض سمیت تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرون مار گرائے، جنہیں عراق سے ایران نواز مسلح گروپوں نے لانچ کیا تھا۔

ادھر یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کی مشرق مغرب آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار ہے اور وہاں سے گزرنے والے بحری راستے کی نگرانی کا حق اسے حاصل ہے۔

امریکی حملوں میں وقفے اور مذاکرات کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ امریکی خام تیل تقریباً 8 فیصد جبکہ برینٹ خام تیل 9 فیصد سے زائد گر گیا۔

دریں اثنا، امریکی میڈیا اور ایک امریکی عہدیدار کے مطابق فوج نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ ایران میں قابلِ حملہ اہداف محدود ہو رہے ہیں اور اسلحے کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے بعد فضائی کارروائی عارضی طور پر معطل کی گئی۔ تاہم ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج اپنے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے بحال کر رہی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان جون میں ہونے والے فریم ورک معاہدے کے تحت اگست کے اختتام تک ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سمیت اہم تنازعات پر مذاکرات متوقع ہیں، تاہم دونوں فریق اس معاہدے کی تشریح پر اب بھی اختلاف رکھتے ہیں۔