بحری ناکہ بندی میں توسیع، امریکی فوج ایران کی زمینی تجارت محدود کرنے پر غور کرنے لگی
- امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری ناکہ بندی کے باعث ایران 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے محروم رہا ہے
ایران کی کئی ماہ سے جاری بحری ناکہ بندی کے بعد امریکی فوج ایک ٹاسک فورس قائم کر رہی ہے، جس کا مقصد تہران کی جانب سے جدید ہتھیاروں کے نظام اور دیگر پابندیوں کی زد میں آنے والے سامان کی اپنی زمینی سرحدوں اور بحیرۂ کیسپین کے راستے نقل و حرکت محدود کرنے کی امریکی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ہفتے کے روز بعد میں کیا جائے گا۔ یہ اعلان اس سے قبل منظر عام پر نہیں آیا تھا۔ رائٹرز نے اعلان جاری ہونے سے پہلے اس سے متعلق بیان دیکھا ہے۔
بیان کے مطابق ٹاسک فورس کا نام آئرن گیٹ رکھا جائے گا اور اس کا ہیڈکوارٹر فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں ہوگا۔ یہ امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کرے گی۔ ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے علاوہ اس کی توجہ دوہرے استعمال کی حامل اشیا اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی روکنے پر بھی مرکوز ہوگی۔
سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بیان میں کہا، ’’امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ سینٹ کام کا تعاون مزید مضبوط بنانے سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، ہتھیاروں کی فیکٹریوں کی دوبارہ تعمیر اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو بحال کرنے کی استعداد مزید محدود ہوجائے گی۔‘‘
سینٹرل کمانڈ کے تخمینے کے مطابق اس کی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے محروم رہا ہے۔























Comments