BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.23%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.80 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 24.09 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
BOP 30.94 Decreased By ▼ -0.76 (-2.4%)
CNERGY 12.10 Increased By ▲ 0.04 (0.33%)
DFML 15.73 Increased By ▲ 0.18 (1.16%)
DGKC 200.41 Decreased By ▼ -2.78 (-1.37%)
FABL 91.91 Decreased By ▼ -1.23 (-1.32%)
FCCL 58.05 Decreased By ▼ -0.66 (-1.12%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.24 Decreased By ▼ -0.67 (-3.37%)
HBL 299.89 Decreased By ▼ -2.87 (-0.95%)
HUBC 201.61 Decreased By ▼ -6.44 (-3.1%)
HUMNL 8.63 Decreased By ▼ -0.06 (-0.69%)
KEL 6.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 24.43 Decreased By ▼ -0.39 (-1.57%)
MLCF 100.04 Decreased By ▼ -2.05 (-2.01%)
OGDC 312.89 Decreased By ▼ -3.35 (-1.06%)
PAEL 33.48 Decreased By ▼ -0.54 (-1.59%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 262.29 Decreased By ▼ -3.15 (-1.19%)
PPL 217.96 Decreased By ▼ -3.34 (-1.51%)
PRL 85.55 Increased By ▲ 0.95 (1.12%)
SNGP 91.96 Decreased By ▼ -1.89 (-2.01%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.34 (-1.48%)
TELE 7.15 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
TPLP 13.36 Increased By ▲ 0.25 (1.91%)
TRG 53.41 Decreased By ▼ -0.62 (-1.15%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)
پاکستان

چیک کا استعمال ختم، 16 نومبر سے تمام ادائیگیاں صرف راست کے ذریعے ہوں گی

  • وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محکموں میں ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کا عمل جاری ہے
شائع اپ ڈیٹ

کیش لیس معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیشرفت کرتے ہوئے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس (اے اے اے) کے تحت چیک کے ذریعے ادائیگیوں کا نظام 15 نومبر سے ختم کردیا جائے گا جبکہ 16 نومبر سے تمام ادائیگیاں صرف راست کے ذریعے کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کو حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 16 نومبر سے ملک بھر میں آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس (اے اے اے) کے تحت تمام ادائیگیاں راست نظام کے ذریعے ڈیجیٹل انداز میں کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق اس سلسلے میں ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران (ڈی ڈی اوز) کو پہلے ہی تربیت دی جاچکی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محکموں میں ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کا عمل جاری ہے اور بیشتر اداروں کی جانب سے یہ عمل دسمبر 2026 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔

حکام نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ادائیگیاں اب مکمل طور پر ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جارہی ہیں۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملک بھر میں مکمل ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام قائم کرنے کے لیے واضح روڈ میپ تیار کیا جائے جس میں مخصوص اہداف اور تکمیل کی مدت کا تعین بھی کیا جائے۔

انہوں نے تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں پر زور دیا کہ حکومت کے کیش لیس معیشت کے منصوبے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں تک معاشرے کے تمام طبقات کی رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ صارفین کو درپیش تکنیکی اور دیگر مسائل بلا تاخیر حل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ٹیکنالوجی تک وسیع رسائی اور انٹرنیٹ کی قابل اعتماد سہولت ضروری ہے۔

اجلاس میں صارفین اور تاجروں کے درمیان راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے فروغ کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یہ اقدام حکومتی سرپرستی میں جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں سے نقد رقم کے بغیر معیشت کے حکومتی وژن کو آگے بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔

انہوں نے بجلی اور گیس کے صارفین کو بلوں پر درج کیو آر کوڈ اسکین کرکے یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے مؤثر میڈیا مہم چلانے کی ہدایت بھی کی۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ان علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں، ڈیجیٹل لین دین ممکن بنانے کے لیے نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت فراہم کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی تیاری کا عمل بھی تیز کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی جانب منتقلی کو حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، شزا فاطمہ خواجہ، عطاء اللہ تارڑ، جنید انور چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، تمام صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف