اے بی ایچ آئی نے آئی پی او کے ذریعے فی حصص 15.50 روپے کے حساب سے 2 ارب 4 کروڑ 60 لاکھ روپے جمع کرلیے
- کمپنی کے پراسپیکٹس کے مطابق آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم بینک کے ضابطہ جاتی سرمائے کی بنیاد مستحکم بنانے اور قرضوں کے پورٹ فولیو میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے استعمال کی جائے گی
اے بی ایچ آئی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے 2 ارب 4 کروڑ 60 لاکھ روپے حاصل کرلیے ہیں، جس کے لیے حصص کی قیمت 15.50 روپے فی حصص مقرر کی گئی ہے۔
پی ایس ایکس کی بولی اسکرین اور اے بی ایچ آئی کے پراسپیکٹس کے مطابق، جمعے کے روز دو روزہ ڈچ بولی (بک بلڈنگ) کا عمل مکمل ہونے پر بینک کے حصص کی قیمت ابتدائی مقررہ قیمت 15 روپے سے 3.33 فیصد اضافے کے بعد 15.50 روپے فی حصص کی حتمی قیمت پر طے پائی۔
آئی پی او کے پہلے مرحلے میں بینک نے بک بلڈنگ کے ذریعے کارپوریٹ، ادارہ جاتی اور زیادہ مالیت کے انفرادی سرمایہ کاروں کو 15.50 روپے فی حصص کے حساب سے 99 ملین حصص فروخت کیے، جس سے ایک ارب 53 کروڑ 40 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔
بینک 12 اور 13 نومبر کو اسی مقررہ قیمت پر عام سرمایہ کاروں کو مزید 33 ملین حصص فروخت کرے گا۔ اس سے بینک کو مزید 51 کروڑ 15 لاکھ روپے حاصل ہوں گے اور آئی پی او کے ذریعے مجموعی طور پر حاصل ہونے والی رقم 2 ارب 4 کروڑ 60 لاکھ روپے تک پہنچ جائے گی۔
بک بلڈنگ کے دوران پیش کردہ 99 ملین حصص کے مقابلے میں بینک کو 157.17 ملین حصص کے لیے بولیاں موصول ہوئیں، یوں پیشکش تقریباً 59 فیصد زیادہ سبسکرائب ہوئی۔
ابتدائی طور پر حصص کی کم از کم قیمت 15 روپے مقرر کی گئی تھی، جس میں زیادہ سے زیادہ 50 فیصد یا 7.50 روپے اضافے کی اجازت تھی، اس طرح قیمت 22.50 روپے فی حصص تک بڑھائی جا سکتی تھی۔
کمپنی کے پراسپیکٹس کے مطابق، آئی پی او سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم بینک کے ضابطہ جاتی سرمائے کی بنیاد مضبوط بنانے اور قرضوں کے موجودہ پورٹ فولیو میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
30 جون 2026 تک بینک کا سرمایہ جاتی کفایت کا تناسب (سی اے آر) منفی 6.26 فیصد تھا۔ پراسپیکٹس کے مطابق، بینک کے مالیاتی تخمینوں کی بنیاد پر نئے سرمائے کے حصول اور برقرار رکھے گئے منافع کو شامل کرنے سے یہ تناسب کیلنڈر سال 2026 کے اختتام تک 7.31 فیصد اور 2027 کے اختتام تک 17.77 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
پراسپیکٹس میں کہا گیا ہے کہ اس طرح بینک 2027 کے دوران مائیکروفنانس بینکوں کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مقرر کردہ کم از کم 15 فیصد سرمایہ جاتی کفایت کی حد سے تجاوز کر جائے گا۔
























Comments