BR100 Decreased By (-1.5%)
BR30 Decreased By (-1.09%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.47%)
BAFL 58.90 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 24.00 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
BOP 31.26 Decreased By ▼ -0.44 (-1.39%)
CNERGY 12.24 Increased By ▲ 0.18 (1.49%)
DFML 15.82 Increased By ▲ 0.27 (1.74%)
DGKC 200.84 Decreased By ▼ -2.35 (-1.16%)
FABL 92.11 Decreased By ▼ -1.03 (-1.11%)
FCCL 57.80 Decreased By ▼ -0.91 (-1.55%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.51 Decreased By ▼ -0.40 (-2.01%)
HBL 301.50 Decreased By ▼ -1.26 (-0.42%)
HUBC 202.00 Decreased By ▼ -6.05 (-2.91%)
HUMNL 8.61 Decreased By ▼ -0.08 (-0.92%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.47 Decreased By ▼ -0.35 (-1.41%)
MLCF 99.90 Decreased By ▼ -2.19 (-2.15%)
OGDC 313.70 Decreased By ▼ -2.54 (-0.8%)
PAEL 33.60 Decreased By ▼ -0.42 (-1.23%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 259.89 Decreased By ▼ -5.55 (-2.09%)
PPL 218.00 Decreased By ▼ -3.30 (-1.49%)
PRL 86.20 Increased By ▲ 1.60 (1.89%)
SNGP 92.15 Decreased By ▼ -1.70 (-1.81%)
SSGC 22.66 Decreased By ▼ -0.28 (-1.22%)
TELE 7.12 Increased By ▲ 0.05 (0.71%)
TPLP 13.28 Increased By ▲ 0.17 (1.3%)
TRG 53.40 Decreased By ▼ -0.63 (-1.17%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.04 Increased By ▲ 0.10 (10.64%)
پاکستان

پاکستان کا بیرونی قرضہ ایک دہائی میں تقریباً دوگنا ہوگیا، عالمی بینک

  • پاکستان کا بیرونی قرضہ 2015 میں 68.7 ارب ڈالر تھا، جو 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 135.1 ارب ڈالر ہوگیا، رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کا بیرونی قرضہ 2025 میں 4 فیصد اضافے کے بعد 135.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً دوگنا ہوچکا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کثیرالجہتی اور دوطرفہ قرض دہندگان کا سب سے بڑا حصہ ہے، جبکہ نجی ذرائع سے حاصل کیے جانے والے نئے قرضوں پر شرح سود سرکاری مالی معاونت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ 2015 میں 68.7 ارب ڈالر تھا، جو 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 135.1 ارب ڈالر ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضوں میں 107.076 ارب ڈالر سرکاری اور حکومتی ضمانت کے تحت حاصل کردہ قرضے، 17.58 ارب ڈالر نجی شعبے کے غیر ضمانتی قرضے اور 10.451 ارب ڈالر قلیل مدتی واجبات شامل تھے۔

سرکاری اور حکومتی ضمانت کے تحت بیرونی قرضوں میں کثیرالجہتی اداروں کا حصہ 56.832 ارب ڈالر جبکہ دوطرفہ قرض دہندگان کا حصہ 42.439 ارب ڈالر تھا۔ نجی قرض دہندگان کے 7.805 ارب ڈالر واجب الادا تھے۔

چین 22.419 ارب ڈالر کے قرضوں کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا دوطرفہ قرض دہندہ رہا، جبکہ عالمی بینک کے ذیلی ادارے آئی ڈی اے سمیت اس کا قرضہ 19.214 ارب ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا قرضہ 16.830 ارب ڈالر تھا۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے 2025 میں پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 2.3 ارب ڈالر فراہم کیے۔ دوسری جانب چین نے تقریباً 2 ارب ڈالر کے واجب الادا قرضوں کی واپسی کی مدت میں توسیع بھی کی۔

عالمی بینک نے بتایا کہ 2025 میں سرکاری قرض دہندگان سے حاصل کیے گئے نئے قرضوں پر اوسط شرح سود 3.6 فیصد، واپسی کی مدت 16 سال اور رعایتی مدت 4 سال تھی۔ اس کے برعکس نجی قرض دہندگان سے نئے قرضوں پر اوسط شرح سود 8.6 فیصد، واپسی کی مدت صرف 3 سال اور رعایتی مدت ایک سال رہی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ مجموعی قومی آمدنی (جی این آئی) کے 34 فیصد کے برابر تھا، جبکہ قرضوں کی ادائیگی برآمدات کا 33 فیصد اور جی این آئی کا 3 فیصد رہی۔

عالمی بینک نے زور دیا کہ قرضوں کے دباؤ میں کمی کے لیے برآمدات بڑھانے، قرضوں کی شرائط بہتر بنانے اور مؤثر قرضہ انتظامی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف