وزیراعظم کی آٹو پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری، مقامی تیاری، برقی گاڑیوں اور صارفین کے تحفظ پر توجہ
- مسودہ غور اور باضابطہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو پیش کیا جائے گا
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی آٹو انڈسٹری پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اسے غور اور باضابطہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے ہفتے کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینا پاکستان کے آٹو سیکٹر کو درپیش ساختی مسائل حل کرنے اور مسابقتی، برآمدات پر مبنی اور مقامی صنعت سے مربوط گاڑیوں کی صنعت قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
مشیر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران مختلف پالیسیاں مرتب کیں، تاہم برآمدات میں مطلوبہ اضافہ حاصل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اب آٹو سیکٹر کی بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے اور پالیسی وعدوں کو ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مرکوز حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر تیاری وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، صنعتی ترقی کو فروغ ملتا ہے اور معاشی خود انحصاری میں اضافہ ہوتا ہے۔
مشیر کے مطابق حکومت نہیں چاہتی کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری مکمل طور پر تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یوز) کی درآمد پر انحصار کرتی رہے یا مضبوط مقامی پیداواری بنیاد قائم کیے بغیر صرف پرزہ جات کی کٹس (سی کے ڈی) جوڑنے تک محدود رہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ مقامی پرزہ جات کا استعمال بڑھائیں، مقامی وینڈر انڈسٹری کو ترقی دیں اور ملک کے صنعتی نظام کو مضبوط بنائیں، تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور زیادہ معاشی قدر پاکستان ہی میں برقرار رہے۔
گاڑیوں کے تحفظ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ مناسب حفاظتی معیارات کی عدم موجودگی، بالخصوص درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں میں، ایک سنگین تشویش رہی ہے۔ انہوں نے ناقص بریکوں، ٹائروں کی خرابی اور سیٹ بیلٹس سمیت حفاظتی خصوصیات کے غیر مؤثر ہونے جیسے مسائل کے باعث پیش آنے والے بار بار کے ٹریفک حادثات کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین اور مسافروں کا تحفظ حکومتی پالیسی کے اہم پہلوؤں میں شامل ہے۔
مشیر نے برقی گاڑیوں (ای ویز) کے فروغ کو ایک اور بڑی ترجیح قرار دیا، خصوصاً اس تناظر میں کہ پاکستان عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے درآمدی بل کو بڑھاتا، جاری کھاتے پر دباؤ ڈالتا اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے حکومت درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے اور بیرونی معاشی خطرات محدود کرنے کے لیے برقی گاڑیوں کے استعمال کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔
ہارون اختر خان نے یاد دلایا کہ وزیراعظم گزشتہ سال قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا آغاز کرچکے ہیں، جبکہ اس پر عمل درآمد کے نتائج بھی پیش کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق حکومت صاف اور پائیدار ذرائع نقل و حمل کی جانب منتقلی تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
شفافیت اور صارفین کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم مسلسل ہدایت کرتے رہے ہیں کہ تمام سرکاری اسکیموں اور اقدامات میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کی شمولیت جواب دہی اور عوامی اعتماد مضبوط بنانے کی ایک اہم خصوصیت ہے۔
گاڑیوں کی بکنگ کے وقت وصول کی جانے والی اضافی رقم، جسے عام طور پر ’’اون منی‘‘ کہا جاتا ہے، کے مسئلے پر مشیر نے بتایا کہ پالیسی کے تحت گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ بکنگ کے وقت گاڑی کی قیمت کے 20 فیصد سے زیادہ رقم پیشگی وصول نہ کریں۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد صارفین کو بھاری پیشگی ادائیگیوں کے مطالبے سے تحفظ دینا اور آٹو مارکیٹ میں شفافیت بڑھانا ہے۔
مشیر نے پیداواری لاگت کم کرنے میں قومی ٹیرف پالیسی کے کردار کو بھی اجاگر کیا، جس کے تحت درآمدی خام مال اور درمیانی نوعیت کی اشیا کو کم لاگت پر دستیاب بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی لاگت کم ہونے سے مقامی صنعت کار مسابقتی نرخوں پر تیار مصنوعات بنا سکیں گے، جس سے مقامی صارفین کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔
ہارون اختر خان نے دہرایا کہ حکومت کا وسیع تر مقصد پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو درآمدات پر انحصار کرنے والے اور محض گاڑیوں کی اسمبلنگ تک محدود شعبے سے تبدیل کرکے ایک مسابقتی اور برآمدات پر مبنی پیداواری صنعت بنانا ہے، جسے مقامی تیاری، تکنیکی ترقی، صارفین کے تحفظ اور شفاف طرزِ حکمرانی سے تقویت دی جائے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور معاشی و صنعتی اصلاحات سے عوام کو آگاہ رکھنے اور حکومتی پالیسی اقدامات سے متعلق معلومات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔
مشیر نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے حتمی مسودے کی منظوری کے بعد پالیسی کو وفاقی کابینہ اور منظوری کے دیگر مراحل سے گزارا جائے گا، جس کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔






















Comments