ایران کے بجائے اسرائیل کو لگام دیں
- ایک اور حملے کے نتیجے میں ایران کی جانب سے مزید جوابی کارروائی ہوسکتی ہے
مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگی کارروائیوں کے خدشے کے حوالے سے آٹھ یورپی اور علاقائی ممالک کی جانب سے جاری کردہ انتباہ واشنگٹن میں سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے۔
گزشتہ ہفتے استنبول میں ای تھری پلس آر فور (E3+R4) ممالک کے وزرائے خارجہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی ای تھری گروپ کے ساتھ پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ شامل تھے، جنہیں مجموعی طور پر علاقائی چار( آر فور) کہا جاتا ہے۔ اٹلی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ان ممالک کے درمیان غیر معمولی طور پر مشترکہ مؤقف سامنے آنے سے واضح پیغام ملا کہ ایران پر ایک اور فوجی حملہ کشیدگی میں اضافہ کرے گا اور علاقائی و عالمی استحکام کے لیے خطرہ بنے گا۔
اس انتباہ کی اہمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دھمکی کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری آپریشن کرسکتے ہیں۔ ایران کے خلاف پہلے امریکی فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا بظاہر غیر سنجیدہ انداز میں دیا گیا یہ بیان ایک اور تباہ کن جنگ پر غور کرنے کے لیے ان کی تشویشناک آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ جون 2025 میں اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا تھا، جس کے بعد امریکا نے ایرانی جوہری تنصیبات پر براہِ راست حملے کیے تھے۔
رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایک اور بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی، جس میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں، سیاسی اور مذہبی شخصیات کو ہلاک کیا گیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے باوجود ایران ایک ایسی طاقت کے طور پر موجود رہا جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اور اس نے جوابی کارروائی کرنے اور مزاحمت کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس سے ملنے والا سبق بالکل واضح ہے کہ قیادت کو ختم کردینا، عام شہریوں کو ہلاک کرنا اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا لازمی طور پر کسی ملک کو سیاسی طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرتا۔
ایک اور حملے کے نتیجے میں ایران کی جانب سے مزید جوابی کارروائی ہوسکتی ہے، پڑوسی ممالک بھی تنازع میں شامل ہوسکتے ہیں اور توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک رکاوٹ عالمی تیل کی رسد کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کرسکتی ہے اور خوراک و کھاد کی ترسیل متاثر کرسکتی ہے۔
اس کے معاشی اثرات خطے سے کہیں آگے تک پھیلیں گے، جن کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر ممالک کو برداشت کرنا پڑے گا، جبکہ دنیا بھر کے عام شہریوں کو واشنگٹن اور تل ابیب کے سیاسی رہنماؤں کے فیصلوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔
اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک اور فوجی مہم جوئی میں شامل ہونے کے بجائے واشنگٹن کو اپنے وسیع اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تل ابیب کی جنگ پسند قیادت کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
غزہ پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی توسیع، اور خطے میں وسیع تر فوجی کارروائیوں نے شدید غم و غصے اور عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر، جس میں ایک آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کو عملی شکل دینا بھی شامل ہے، خطے میں پائیدار استحکام کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔
ای تھری پلس آر فور کا اقدام ایسے وقت میں سفارت کاری کے لیے ایک خوش آئند موقع فراہم کرتا ہے جب خطہ پہلے ہی تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں، جن میں ترکیہ، مصر اور سعودی عرب بھی شریک ہیں، بین الاقوامی حمایت کی مستحق ہیں۔
واشنگٹن کو تہران کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنے چاہییں، اعتماد سازی کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور تمام فریقوں پر زور دینا چاہیے کہ وہ خودمختاری کا احترام کریں، شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں اور بحری آمدورفت کی آزادی برقرار رکھیں۔ یورپی حکومتوں کو بھی اپنے انتباہات کو مسلسل سفارتی رابطوں اور کشیدگی میں کمی کے لیے مشترکہ دباؤ میں تبدیل کرنا چاہیے۔
فوجی برتری سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتی اور نہ ہی مسلسل دھمکیاں پائیدار امن قائم کرسکتی ہیں۔
واشنگٹن کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے: اسرائیل کی جارحانہ قیادت کو قابو میں رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کی کوشش کرے یا ایک اور ایسی جنگ کا خطرہ مول لے جس کے نتائج مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔ خطے کو تباہی کے ایک اور دور کی نہیں بلکہ سفارت کاری، انصاف اور تحمل کی ضرورت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments