BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.77 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 23.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
BOP 28.35 Decreased By ▼ -0.31 (-1.08%)
CNERGY 13.64 Decreased By ▼ -0.44 (-3.13%)
DFML 15.41 Decreased By ▼ -0.32 (-2.03%)
DGKC 178.15 Decreased By ▼ -3.85 (-2.12%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.54%)
FCCL 52.28 Decreased By ▼ -0.33 (-0.63%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 291.55 Decreased By ▼ -3.35 (-1.14%)
HUBC 193.18 Decreased By ▼ -0.86 (-0.44%)
HUMNL 8.57 Increased By ▲ 0.20 (2.39%)
KEL 5.79 Decreased By ▼ -0.17 (-2.85%)
LOTCHEM 23.89 Decreased By ▼ -0.58 (-2.37%)
MLCF 90.51 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
OGDC 306.78 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
PAEL 32.33 Decreased By ▼ -0.39 (-1.19%)
PIBTL 12.93 Decreased By ▼ -0.15 (-1.15%)
PIOC 233.14 Decreased By ▼ -1.42 (-0.61%)
PPL 213.93 Decreased By ▼ -1.59 (-0.74%)
PRL 96.96 Decreased By ▼ -3.85 (-3.82%)
SNGP 90.53 Decreased By ▼ -1.31 (-1.43%)
SSGC 22.53 Decreased By ▼ -0.61 (-2.64%)
TELE 6.72 Decreased By ▼ -0.09 (-1.32%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.96 Decreased By ▼ -1.12 (-2.11%)
UNITY 7.79 Increased By ▲ 0.11 (1.43%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
دنیا

امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کا خطرہ، ایرانی سفارت کاروں کی قطری ثالثوں سے ملاقات

  • قطر کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش، تہران نے اسے غیر تسلی بخش قرار دے دیا
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی مذاکرات کاروں نے ہفتے کے روز دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی، جس میں خلیجی جنگ کے خاتمے کے ممکنہ راستوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رائٹرز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ سفارت کار اس ہفتے امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ لڑائی چھڑنے کے خدشات دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مذاکرات سے باخبر اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے ذریعے کے مطابق، قطری دارالحکومت میں ہفتے کے روز ہونے والی بات چیت سے قبل جمعے کے روز تہران میں ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان 12 گھنٹے سے زائد مذاکرات ہوئے تھے۔ ذریعے نے بتایا کہ ان مذاکرات میں واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جارہا ہے۔

خطے کے ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کے ہفتوں میں ایران پر حملے روک رکھے ہیں، ووٹنگ ختم ہونے کے بعد دوبارہ حملے شروع کرسکتے ہیں۔ ایران بارہا خبردار کرچکا ہے کہ نئے حملوں کی صورت میں وہ پڑوسی ممالک میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے مسلح افواج کو کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔ بعدازاں ایرانی فوج نے بھی اپنی جنگی تیاریوں میں اضافے کے اقدامات کا اعلان کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا، ’’کسی بھی نوعیت یا سطح کے خطرے کا فوری، بھرپور اور جغرافیائی حدود سے ماورا جواب دیا جانا چاہیے۔‘‘ وہ جنگ کے آغاز میں اپنے والد کی ہلاکت کے بعد ان کی جگہ سپریم لیڈر بننے کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر دکھائی نہیں دیے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے خلیجی ساحلی علاقوں، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اطراف، جبکہ ایران کی شمال مغربی اور جنوب مشرقی سرحدوں پر فوجی تیاریوں کی اعلیٰ سطح سے آگاہ کیا ہے۔

اختلافات کے باوجود سفارتی کوششیں جاری

ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور وہ بارہا ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے اشارے دے چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے اسرائیلیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے انتخابات سے قبل اپنے جنگی اتحادی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھیں، تاکہ دونوں رہنما ’’کام مکمل کرسکیں‘‘۔

تاہم واشنگٹن نے حالیہ دنوں میں سفارت کاری کے لیے آمادگی ظاہر کرنے والے اقدامات بھی کیے ہیں۔ رواں ہفتے کے اوائل میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے سابقہ ادوار میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی۔ انہوں نے ایران کے ایک سخت گیر سینئر سیکیورٹی عہدیدار کو خط لکھا، جسے نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل نے مذاکرات کی بحالی کے امکانات جانچنے کی کوشش قرار دیا۔

ٹرمپ نے اس خط کی اہمیت کم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس کی منظوری صرف ایران میں طبی سامان پہنچانے کے امکان پر بات چیت کے لیے دی تھی۔ ان کے بقول، ’’میں نے کہا کہ اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ بنیادی طور پر یہ بیمار لوگوں کی مدد کے لیے طبی سامان پہنچانے کا معاملہ ہے۔‘‘

مذاکرات سے باخبر ذریعے نے بتایا کہ قطری ثالثوں نے حالیہ بات چیت میں تقریباً ایک ہفتہ قبل تہران کو سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت امریکا اور ایران وسیع تر امن مذاکرات سے پہلے اعتماد سازی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کرتے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے جمعے کے روز رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے اس تجویز کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔

ایران بھی ستمبر سے اپنا سات روزہ منصوبہ پیش کررہا ہے، جسے ٹرمپ اب تک مسترد کرتے آئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت واشنگٹن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے، منجمد اثاثے بحال کرے اور آبنائے ہرمز سے ایران کی حمایت یافتہ بحری گزرگاہ کی منظوری دے، جس کے بعد متنازع آبنائے کو دوبارہ کھولا جائے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز الجزیرہ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ تہران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے میز پر موجود واحد تجویز ایران کا اپنا منصوبہ ہے۔

Comments

200 حروف