BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 23.25 Increased By ▲ 0.05 (0.22%)
BOP 28.40 Decreased By ▼ -0.26 (-0.91%)
CNERGY 13.65 Decreased By ▼ -0.43 (-3.05%)
DFML 15.43 Decreased By ▼ -0.30 (-1.91%)
DGKC 178.79 Decreased By ▼ -3.21 (-1.76%)
FABL 91.86 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 52.39 Decreased By ▼ -0.22 (-0.42%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.21 Decreased By ▼ -0.35 (-1.79%)
HBL 291.80 Decreased By ▼ -3.10 (-1.05%)
HUBC 193.70 Decreased By ▼ -0.34 (-0.18%)
HUMNL 8.60 Increased By ▲ 0.23 (2.75%)
KEL 5.78 Decreased By ▼ -0.18 (-3.02%)
LOTCHEM 23.81 Decreased By ▼ -0.66 (-2.7%)
MLCF 90.56 Decreased By ▼ -0.47 (-0.52%)
OGDC 306.75 Increased By ▲ 0.54 (0.18%)
PAEL 32.31 Decreased By ▼ -0.41 (-1.25%)
PIBTL 12.90 Decreased By ▼ -0.18 (-1.38%)
PIOC 233.05 Decreased By ▼ -1.51 (-0.64%)
PPL 214.70 Decreased By ▼ -0.82 (-0.38%)
PRL 96.28 Decreased By ▼ -4.53 (-4.49%)
SNGP 90.40 Decreased By ▼ -1.44 (-1.57%)
SSGC 22.50 Decreased By ▼ -0.64 (-2.77%)
TELE 6.70 Decreased By ▼ -0.11 (-1.62%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.75 Decreased By ▼ -1.33 (-2.51%)
UNITY 7.78 Increased By ▲ 0.10 (1.3%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
Perspectives

بڑھاپے میں ہماری دیکھ بھال کون کرے گا؟

  • پاکستان میں خاندانی نظام تیزی سے بدل رہا ہے، خاندان چھوٹے اور روزگار کے لیے نقل مکانی بڑھ رہی ہے، ایسے میں بڑھتی عمر کے ساتھ مالی تحفظ اور بزرگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری محض بچوں پر چھوڑنا مستقبل میں ایک بڑا سماجی و معاشی چیلنج بن سکتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستانیوں کو کئی نسلوں تک شاید یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن آج ممکن ہے ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ اگر زیادہ تر پاکستانیوں سے پوچھا جائے کہ وہ بڑھاپے میں اپنی زندگی کیسی دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کا جواب شاذ ہی پیسے سے متعلق ہوگا۔

زیادہ تر لوگ بس یہی کہیں گے: ’’میرے بچے میرا خیال رکھیں گے۔‘‘

کئی نسلوں سے یہ توقع ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی خوبیوں میں سے ایک رہی ہے۔

والدین نے محنت کرکے اپنے بچوں کو تعلیم دلوائی، انہیں کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بنایا اور اس کے بدلے بچے بڑھاپے میں اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ عمر رسیدہ والدین کا خیال رکھنا محض مالی ذمہ داری نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ہماری ثقافت، اقدار اور مذہب کا حصہ ہے۔ خاندان ہمیشہ سے پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا نظام رہا ہے۔

صدیوں تک یہ نظام غیر معمولی طور پر کامیاب رہا۔

بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے برعکس، جہاں عمر رسیدہ افراد کا انحصار عموماً اپنی بچت یا حکومتی معاونت پر ہوتا ہے، پاکستانی خاندان روایتی طور پر ایک دوسرے کا سہارا بنتے رہے ہیں۔ گھر وہ جگہ رہا ہے جہاں بچے پروان چڑھتے، دادا دادی اور نانا نانی کی دیکھ بھال ہوتی اور اکثر کئی نسلیں ایک ہی چھت تلے رہتی تھیں۔

لیکن ہماری اقدار اگرچہ وہی ہیں، تاہم ہمارے اردگرد کا پاکستان تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔

نوجوان تعلیم اور روزگار کی تلاش میں تیزی سے اپنے آبائی شہروں سے نقل مکانی کررہے ہیں۔ لاکھوں افراد بیرون ملک کام کرتے ہیں۔ خاندان چھوٹے ہورہے ہیں۔ جوڑوں کے ہاں گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں کم بچے پیدا ہورہے ہیں۔ اب زیادہ لوگ بڑے خاندانی گھروں کے بجائے اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں۔ خواتین بھی بڑی تعداد میں ملازمتوں سے وابستہ ہورہی ہیں، جس سے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، تاہم عمر رسیدہ والدین کی دیکھ بھال کے لیے گھرانوں کے انتظام اور ذمہ داریوں کا انداز بھی تبدیل ہورہا ہے۔

بڑھاپے کی تیاری اب محض ذاتی معاملہ نہیں رہی بلکہ پاکستان کے اہم ترین معاشی اور سماجی چیلنجز میں شامل ہوتی جارہی ہے۔

ان میں سے کوئی تبدیلی منفی نہیں۔ یہ معاشی ترقی اور بہتر مواقع کی علامتیں ہیں۔ تاہم ان سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا آنے والے وقت میں خاندان اپنے بزرگوں کو اسی سطح کی مالی معاونت فراہم کرسکیں گے جو گزشتہ نسلوں کے خاندان کرتے رہے ہیں؟

فیصل آباد میں رہنے والے ایک ریٹائرڈ جوڑے کا تصور کریں۔ ان کا بیٹا دبئی میں ملازمت کرتا ہے جبکہ بیٹی لاہور کے ایک اسکول میں پڑھاتی ہے۔ دونوں بچے اپنے والدین سے محبت کرتے ہیں اور ان کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہیں اپنے بچوں کی تعلیم، رہائش کے اخراجات اور اپنے خاندان کی دیگر ضروریات بھی پوری کرنی ہیں۔

فاصلہ، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور مصروف پیشہ ورانہ معمولات کے باعث روزمرہ کی دیکھ بھال فراہم کرنا گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ یہ محبت کا نہیں بلکہ معاشی حالات اور جغرافیائی فاصلے کا مسئلہ ہے۔

پاکستان کی بدلتی ہوئی آبادی پر نظر ڈالیں تو یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے۔

اس وقت پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ سے ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کی عمر 60 سال یا اس سے زیادہ ہے۔ آئندہ تین دہائیوں میں یہ تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ دوسرے لفظوں میں، آج کی نوجوان نسل کی عملی زندگی کے دوران عمر رسیدہ پاکستانیوں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔

دوسری جانب پاکستان کی افرادی قوت بڑھ کر تقریباً 8 کروڑ 30 لاکھ ہوچکی ہے، لیکن ان میں سے صرف لگ بھگ ایک کروڑ 16 لاکھ کارکن ملازمین کے بڑھاپے کے فوائد کے ادارے (ای او بی آئی) کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ اگرچہ ای او بی آئی بہت سے ریٹائرڈ کارکنوں کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم اسے بنیادی طور پر آجر اور ملازم کے باضابطہ تعلق کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا تھا۔

آج پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت، چھوٹے کاروباروں، ذاتی روزگار، خاندانی کاروباری اداروں اور غیر رسمی شعبے پر مشتمل ہے، جہاں کام کرنے والے بہت سے افراد روزگار کے روایتی انتظامات کے دائرے سے باہر ہیں۔

یہ ای او بی آئی پر تنقید نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی ہے کہ پاکستان کی معیشت کس قدر تبدیل ہوچکی ہے۔

جب ای او بی آئی قائم کیا گیا تھا تو توقع تھی کہ صنعتی ترقی اور باضابطہ روزگار پاکستان کی لیبر مارکیٹ کی نمایاں خصوصیات بن جائیں گے۔ اس کے برعکس، پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی غیر رسمی شعبے یا ذاتی کاروبار کے ذریعے روزگار کماتی ہے۔ ایسے میں صرف آجر پر مبنی روایتی نظام کے ذریعے ہر شخص کو بڑھاپے میں مالی تحفظ فراہم کرنا مشکل ہے۔

ایک اور اہم تبدیلی بھی رونما ہورہی ہے۔ پاکستانی پہلے کے مقابلے میں زیادہ طویل عمر پا رہے ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق، پاکستان میں اوسط عمر بڑھ کر تقریباً 68 سال ہوگئی ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران صحت کی سہولتوں اور معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ زیادہ طویل عمر پانا ایسی بات ہے جسے ہر معاشرے کو خوش آئند سمجھنا چاہیے۔

تاہم طویل عمر کے ساتھ نئے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ملازمت چھوڑنے کے بعد اپنی آمدن کا متبادل بندوبست کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں، لیکن بہت کم افراد یہ منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ انہیں روزمرہ اخراجات کے لیے اگلے 20 یا 30 سال تک رقم کہاں سے ملے گی۔ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے بارے میں تو اس سے بھی کم لوگ سوچتے ہیں۔

بہت سے خاندانوں کے لیے بڑھاپے میں سب سے بڑا مالی چیلنج محض ماہانہ تنخواہ کا متبادل تلاش کرنا نہیں بلکہ ادویات، طبی ٹیسٹ، اسپتالوں میں علاج اور طویل مدتی نگہداشت کے اخراجات برداشت کرنا ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ذیابیطس، امراضِ قلب، جوڑوں کے درد اور دیگر دائمی بیماریوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ طبی اخراجات اکثر اسی وقت بڑھتے ہیں جب باقاعدہ ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدن ختم ہوچکی ہوتی ہے۔

لہٰذا بڑھاپے میں زندگی گزارنے کے لیے صرف خاندانی معاونت کافی نہیں بلکہ مالی طور پر مستحکم ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ روایتی خاندانی نظام کی جگہ کوئی اور نظام لے آئے یا ان اقدار کو کمزور کردیا جائے جنہوں نے ہمیشہ ہمارے معاشرے کو جوڑے رکھا ہے۔ اس کے برعکس، خاندان آج بھی ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔

لیکن مضبوط سے مضبوط خاندانوں کو بھی مالی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ جو والدین کسی حد تک مالی خودمختاری رکھتے ہیں، وہ عموماً اپنی عزتِ نفس برقرار رکھنے، اپنے فیصلے خود کرنے اور غیر ارادی طور پر بچوں پر مالی بوجھ بننے سے بچنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کے بچے بھی اپنے خاندان کے مستقبل میں سرمایہ کاری جاری رکھتے ہوئے عمر رسیدہ والدین کی بہتر مدد کرسکتے ہیں۔

شاید اب پاکستان کو اسی موضوع پر بات چیت کی ضرورت ہے۔ کئی نسلوں تک ہمارے خاندان ہی ہمارا ریٹائرمنٹ پلان رہے ہیں۔ مستقبل میں بھی انہیں ہماری جذباتی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہنا چاہیے۔

لیکن طویل عمر، صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور بدلتی ہوئی معیشت کے مالی اثرات کا سارا بوجھ صرف خاندانوں پر ڈالنے سے آنے والی نسلوں پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔

اس لیے بڑھاپے کی تیاری اب محض ذاتی معاملہ نہیں رہی بلکہ پاکستان کے اہم ترین معاشی اور سماجی چیلنجز میں شامل ہوتی جارہی ہے۔ اس موضوع پر بات چیت کا مقصد خاندانی اقدار کی جگہ لینا نہیں بلکہ انہیں مزید مضبوط بنانا ہے۔

اگر ہم خاندانوں کو عمر کے آخری حصے کے لیے مالی منصوبہ بندی میں مدد دے سکیں تو اس سے نسلوں کے درمیان رشتہ کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا۔ کیونکہ ایک دن ہم میں سے ہر شخص بڑھاپے کو پہنچنے کی امید رکھتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا ہمارے بچے ہم سے محبت کرتے رہیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ہماری دیکھ بھال کے اخراجات برداشت کرسکیں گے؟

ضروری نہیں کہ اس مضمون میں بیان کردہ خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے موقف کی عکاسی کرتے ہوں۔

Comments

200 حروف