پاکستان اور امریکا نئے تجارتی معاہدے پر نظرثانی کیلئے کوشاں
- دونوں ممالک کے درمیان اشیا وخدمات کی دوطرفہ تجارت کا حجم 2025 میں تخمیناً 11.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
پاکستان اور امریکا دوطرفہ تجارتی معاہدے پر نظرثانی کیلئے کوشاں ہیں تاکہ تجارتی تعلقات کو وسعت دی جاسکے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جاسکے اور سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکے۔ دونوں ممالک کے درمیان اشیا وخدمات کی دوطرفہ تجارت کا حجم 2025 میں تخمیناً 11.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو اس سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں واشنگٹن میں مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں جب کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مزید بات چیت کی گئی ہے، تاہم کئی معاملات تاحال حل طلب ہیں جن پر مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔
بدھ کو یہاں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کی سربراہی میں امریکی وفد اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے درمیان ملاقات میں مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کے معاون برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان، سیکریٹری تجارت جواد پال اور وزارت تجارت کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
امریکی تجارتی اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں اشیاوخدمات کی دوطرفہ تجارت کا حجم تخمیناً 11.5 ارب ڈالر رہا جو 2024 کے مقابلے میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر یا 14 فیصد زیادہ ہے۔
اشیا کی تجارت کا حجم 8.5 ارب ڈالر رہا۔ پاکستان کو امریکی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 48.4 فیصد بڑھ کر 3.1 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ پاکستان سے امریکا کی درآمدات 5.9 فیصد اضافے کے ساتھ 5.4 ارب ڈالر رہیں۔
نتیجتاً 2025 میں پاکستان کے ساتھ اشیا کی تجارت میں امریکا کا خسارہ 23.9 فیصد کم ہو کر 2.3 ارب ڈالر رہ گیا جو 2024 کے مقابلے میں 71 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی ظاہر کرتا ہے۔
خدمات کی دوطرفہ تجارت کا حجم تخمیناً 2.9 ارب ڈالر رہا۔ پاکستان کو امریکا کی خدمات کی برآمدات 6.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1.8 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ پاکستان سے خدمات کی امریکی درآمدات 1.7 فیصد کمی کے بعد 1.1 ارب ڈالر رہیں۔ اس طرح خدمات کی تجارت میں امریکا کا سرپلس 73 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا جو 2024 کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔
اجلاس میں پاکستان اور امریکا کے مجوزہ دوطرفہ باہمی تجارتی معاہدے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیکریٹری تجارت جواد پال نے شرکا کو بتایا کہ معاہدے کی کئی اہم شقوں پر خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بعض تکنیکی امور اب بھی زیرِ بحث ہیں جن پر امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (یو ایس ٹی آر) کے ساتھ مزید بات چیت کی جائے گی۔
دونوں فریقوں نے باہمی مفاد پر مبنی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستانی زرعی مصنوعات، بالخصوص آم اور کھجور کو امریکی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنے کا معاملہ بھی شامل تھا۔
جواد پال نے آم کی برآمدات کے انتظامات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ امریکی معائنہ ٹیموں کے دوروں کو جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستانی کھجوروں کو امریکی منڈی تک رسائی دینے کے زیرِ التوا عمل میں پیش رفت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی منڈی تک زیادہ رسائی سے برآمدات کے قیمتی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔امریکی وفد نے ان تجاویز کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ امریکی حکام کے ساتھ اس معاملے پر مزید پیش رفت کے لیے رابطہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
دونوں فریقوں نے زرعی تجارت کو وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا، بالخصوص امریکا سے پاکستان کو کپاس اور سویابین کی برآمدات بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت میں مسابقتی قیمتوں، تجارتی مالی معاونت اور امریکا سے درآمدات میں سہولت کے لیے ممکنہ مالی انتظامات کے امور بھی زیرِ غور آئے۔
جواد پال نے دوطرفہ زرعی تجارت کو فروغ دینے کے لیے متعلقہ تجارتی اداروں اور صنعتی انجمنوں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ اقتصادی شراکت داری کو خاص اہمیت دیتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ منڈیوں تک بہتر رسائی، نجی شعبے کی زیادہ شمولیت اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے نمایاں امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے علاقائی اور عالمی اقتصادی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے برآمدی منڈیوں میں تنوع لانے اور بین الاقوامی تجارتی شراکت داری مضبوط بنانے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ گہرا اقتصادی تعاون کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے، صنعتی مسابقت بہتر بنانے اور پائیدار اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے امریکی کمپنیوں کو زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے امریکی کاروباری اداروں اور زرعی تنظیموں کو فوڈ ایگ 2026 میں شرکت کی دعوت بھی دی جو 23 سے 26 نومبر تک کراچی میں منعقد ہوگی۔ اس نمائش کے ذریعے بین الاقوامی خریداروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان کی زرعی اور فوڈ پروسیسنگ کی صنعتوں سے رابطے کا موقع ملے گا۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے زرعی تجارت کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور امریکی زرعی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور پاکستانی کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانے میں سہولت فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔























Comments