بھارت کو جنوبی ایشیا میں تزویراتی عدم توازن پیدا کرنے کی اجازت نہیں دینگے، خالد قدوائی
- بھارت اپنی جوہری قوت کو مزید جنگی تیاری کے قابل بنا رہا ہے، کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب
نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے منگل کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان بھارت کو جنوبی ایشیا میں تزویراتی عدم توازن پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت اپنی جوہری قوت کو مزید جنگی تیاری کے قابل بنا رہا ہے جس سے اسے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے پہلا جوہری حملہ کرنے کی ممکنہ صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔
خالد قدوائی نے اسٹریٹجک وژن انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام اسلام آباد نان پرولفریشن کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا میں تزویراتی عدم توازن پیدا کرنے کی کوششوں کو نہ کبھی قبول کیا ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔
جنرل قدوائی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبدوز پر جوہری ہتھیار تعینات کیے جانے کی اطلاعات، میزائلوں کو جدید بنانے کے عمل اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی محاذ آرائیوں نے علاقائی تزویراتی استحکام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کردیے ہیں۔
سپری کی سالنامہ رپورٹ 2026 اور دیگر عوامی طور پر دستیاب معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل قدوائی اور این سی اے کے سابق مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سرفراز ستار نے بعض رپورٹس کی جانب توجہ دلائی جن کے بھارت نے جوہری آبدوز پر تقریباً 12 جوہری وارہیڈز تعینات کیے ہیں جنہیں دفاعی گشت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے میزائلوں کو کنٹینرز میں نصب کرنے کی جانب بھارت کی پیش رفت اور جوہری و روایتی عسکری صلاحیتوں کو وسیع پیمانے پر جدید بنانے کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ان کے مطابق اس صورتحال سے بھارت کی جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں جبکہ غلط اندازوں اور جوہری کشیدگی میں اضافے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
جنرل قدوائی نے کہا کہ آبدوز پر جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے بعض جوہری وارہیڈز کو آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ نصب کر دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ سپری کی رپورٹ غلط یا قیاس آرائی پر مبنی ہو سکتی ہے۔
جنرل قدوائی نے مزید کہا کہ جوہری حکمتِ عملی میں عدم توازن پیدا کرنے کی جانب یہ غیر ذمہ دارانہ اور کشیدگی بڑھانے والی تبدیلی جنوبی ایشیا کے تزویراتی استحکام پر گہرے منفی اثرات مرتب کرے گی۔
جنرل قدوائی نے کہا کہ اس سے جو عملی صورتِ حال سامنے آتی ہے، اس کے مطابق بھارت پاکستان کے خلاف بغیر کسی پیشگی اطلاع کے پہلا حملہ کر سکتا ہے۔ بظاہر بھارت نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن اور استحکام کو خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔
انہوں نے بھارتی آبدوزوں سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے قبل پیشگی اطلاع نہ دیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔























Comments