لوٹے کیمیکل کا مجوزہ صنعتی بجلی ٹیرف کا نوٹیفکیشن فوری جاری کرنے پر زور
- کمپنیوں کی مجموعی بجلی کھپت جولائی 2027ء تک موجودہ 26 میگاواٹ سے بڑھ کر 80 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، عدنان آفریدی
لوٹے کیمیکل پاکستان لمیٹڈ (ایل سی پی ایل)، جو اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (ای پی سی ایل) کے حصول کے بعد ملک میں قومی گرڈ سے بجلی استعمال کرنے والا سب سے بڑا صنعتی صارف بننے جا رہا ہے، نے صنعتی مسابقت برقرار رکھنے اور قومی گرڈ پر انحصار بڑھانے کے لیے مجوزہ دو حصوں پر مشتمل صنعتی بجلی ٹیرف کا نوٹیفکیشن فوری جاری کرنے پر زور دیا ہے۔
پاور ڈویژن کو بھیجے گئے مراسلے میں چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عدنان آفریدی نے کہا کہ دونوں کمپنیوں کی مجموعی بجلی کھپت جولائی 2027ء تک موجودہ 26 میگاواٹ سے بڑھ کر 80 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو تقریباً تین گنا اضافہ ہوگا۔
کمپنی نے وزارت سے درخواست کی ہے کہ اختیاری ملٹی ٹیرف اور ٹائم آف یوز نظام، جسے عام طور پر دو حصوں پر مشتمل ٹیرف (ٹی پی ٹی) کہا جاتا ہے، کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ بجلی کے نرخوں میں پیش گوئی کے قابل استحکام اور مسابقتی قیمتیں صنعتی توسیع کی حوصلہ افزائی کریں گی اور بجلی کی اضافی پیداواری صلاحیت سے استفادے میں مدد دیں گی۔
عدنان آفریدی نے وزیرِ توانائی سے ملاقات کی درخواست بھی کی تاکہ کمپنی کا مؤقف پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے وزارت سے آئی ایم ایف کے لیے بریفنگ کا انتظام کرنے میں معاونت بھی طلب کی جس میں بتایا جاسکے کہ صنعتی بجلی کی کھپت کو قومی گرڈ پر منتقل کرنے سے گرڈ کا استحکام برقرار رکھنے اور بجلی کے شعبے میں حکومت کے وسیع تر اصلاحاتی اہداف کے حصول میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔
مراسلے کے مطابق 2025ء کے اوائل میں لوٹے کیمیکل اور اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز مکمل طور پر اپنے کیپٹو پاور پلانٹس سے بجلی حاصل کر رہی تھیں۔ تاہم، آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025ء کے نفاذ اور اس کے بعد صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کے اقدامات کے نتیجے میں لوٹے کیمیکل نے مارچ 2025ء میں اپنی بجلی کی مکمل 26 میگاواٹ کھپت کے الیکٹرک کے نظام پر منتقل کردی۔
ای پی سی ایل کو 54 میگاواٹ تک بجلی درکار ہوتی ہے، تاہم اس کا صنعتی پلانٹ ابتدا میں قومی گرڈ سے منسلک نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث کمپنی اب تک کیپٹو گیس سے بجلی پیدا کرنے پر انحصار کرتی رہی ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ لوٹے کیمیکل کی ملکیت میں 220 کلو وولٹ کی دو ٹرانسمیشن لائنیں پہلے ہی ای پی سی ایل کی حدود کے ساتھ سے گزرتی ہیں جس سے اس صنعتی یونٹ کو دیگر صورتوں کے مقابلے میں بہت پہلے قومی گرڈ سے منسلک کرنے کا موقع میسر آ سکتا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت ای پی سی ایل کی 28 میگاواٹ بجلی کی کھپت جنوری 2027ء تک قومی گرڈ پر منتقل کی جائے گی جبکہ جولائی 2027ء تک اس کی بجلی کی مکمل 54 میگاواٹ ضرورت گرڈ سے پوری کی جائے گی۔
سی ای او کے مطابق یہ عمل مکمل ہونے کے بعد دونوں کمپنیوں کے صنعتی یونٹ مجموعی طور پر قومی گرڈ سے 80 میگاواٹ تک بجلی حاصل کریں گے جس سے وہ ملک میں گرڈ بجلی استعمال کرنے والے سب سے بڑے واحد صنعتی صارف بن جائیں گے۔
مراسلے کے مطابق، دونوں کمپنیوں میں مجموعی سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر سے زائد ہے، جبکہ انہوں نے درآمدات کے متبادل کے طور پر 3.2 ارب ڈالر سے زیادہ کا حصہ ڈالا ہے۔
لوٹے کیمیکل پاکستان ملک میں پیوریفائیڈ ٹیریفتھالک ایسڈ (پی ٹی اے) تیار کرنے والی واحد کمپنی ہے جو پالئیسٹر اور پولی ایتھیلین ٹیریفتھالیٹ (پی ای ٹی) کی صنعتوں کے لیے ایک اہم خام مال ہے۔ جبکہ اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز ملک میں پولی وینائل کلورائیڈ (پی وی سی) تیار کرنے والی واحد کمپنی ہے اور کاسٹک سوڈا اور ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی بھی ایک بڑی صنعت کار ہے۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ دونوں اداروں کا مشترکہ صنعتی پلیٹ فارم اس بات کی عملی مثال بن سکتا ہے کہ بجلی کے مسابقتی نرخ کس طرح صنعتی صارفین کو اپنے کیپٹو پاور پلانٹس کے بجائے قومی گرڈ سے بجلی حاصل کرنے، گرڈ کی طلب بڑھانے اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔
عدنان آفریدی نے کہا کہ پراسیس انڈسٹریز کے لیے بجلی کی قیمتیں عالمی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کا تعین کرنے والا ایک اہم عنصر ہیں۔ ان کے مطابق، کاسٹک سوڈا کی تیاری میں توانائی کی لاگت مجموعی پیداواری لاگت کے 80 فیصد تک ہوتی ہے، اس لیے بجلی کے نرخ پیداواری لاگت اور برآمدات کی مسابقتی صلاحیت کے تعین میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل لوٹے کیمیکل نے 48 میگاواٹ کا کیپٹو گیس ٹربائن پلانٹ لگانے پر 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی کیونکہ قومی گرڈ میں عدم استحکام کے باعث کمپنی نے کے الیکٹرک سے بجلی لینا بند کر دیا تھا، تاہم فروری 2025ء میں کیپٹو پاور لیوی متعارف کرائے جانے کے بعد کمپنی نے ٹربائن بند کر دی اور صرف تین ہفتوں کے اندر اپنی بجلی کی پوری 26 میگاواٹ ضرورت دوبارہ قومی گرڈ پر منتقل کر دی۔
کمپنی کے مطابق اس کے بعد پالیسی کے دو اقدامات نے قومی گرڈ سے منسلک رہنے کے فیصلے کو مزید تقویت دی۔ ان میں دسمبر 2025ء سے نافذ العمل اضافی بجلی کی کھپت کے لیے 22.98 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ (یونٹ) کا نرخ اور فروری 2026ء میں اعلان کردہ وزیراعظم کا ریلیف پیکیج شامل ہیں۔
تاہم، کمپنی کا مؤقف ہے کہ صنعتی شعبے کی جانب سے قومی گرڈ سے بجلی کے مسلسل استعمال کو برقرار رکھنے اور مستقبل میں سرمایہ کاری کے فیصلوں میں معاونت کے لیے بجلی کے نرخوں کا ایک دیرپا اور قابلِ پیش گوئی نظام ضروری ہے۔






















Comments