روبیو کا دورہ بھارت، تجارتی معاہدہ اور روسی تیل کا معاملہ ایجنڈے پر
- ممبئی اور جام نگر کے دو روزہ دورے کے دوران روبیو کی حکومتی اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کو بھارت کا دورہ کریں گے جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے اور روسی خام تیل کی درآمدات سمیت اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے درآمدات پر اضافی امریکی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے اور دونوں ممالک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھارت کے مغربی شہروں ممبئی اور جام نگر کے دو روزہ دورے کے دوران روبیو کی حکومتی اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ارب پتی کاروباری شخصیت مکیش امبانی بھی شامل ہیں۔ امبانی ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین ہیں، جو جام نگر میں دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے کا کمپلیکس چلاتی ہے۔
روبیو اور دیگر امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع تجارتی معاہدہ تقریباً طے پاچکا ہے۔ اس پیش رفت کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو ایک ممکنہ رکاوٹ دور کرتے ہوئے ان محصولات سے استثنیٰ دے دیا جن کا مقصد روسی خام تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری پر بھارت کو سزا دینا تھا۔ ستمبر میں ٹرمپ کے دستخط کردہ قانون کے تحت امریکی انتظامیہ کو روسی تیل کے پانچ بڑے درآمد کنندگان پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس فہرست میں چین کے بعد بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔
تاہم ٹرمپ کی جانب سے بل کی اہم دفعات پر عمل درآمد سے استثنیٰ دینے کے فیصلے پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے ارکان یوکرین کے خلاف جنگ کے باعث ماسکو پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے زور دیتے رہے ہیں۔ روبیو نے حالیہ دنوں میں کہا کہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش بھی ان محصولات سے استثنیٰ دینے کے فیصلے کی ایک وجہ تھی۔
روبیو کے مطابق بھارت روسی خام تیل پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی درآمدات کے ذرائع میں تنوع لا رہا ہے، تاہم وہ اب بھی روزانہ لاکھوں بیرل روسی تیل خرید رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ 60 روزہ جائزے کے دوران اس بات پر غور کرے گی کہ آیا نئے محصولات عائد کیے جائیں اور اگر ایسا کیا جائے تو ان کی نوعیت کیا ہو۔
روبیو نے اتوار کو کہا تھا کہ بھارت جیسے ممالک نے رضاکارانہ طور پر اپنے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا ہے، لیکن وہ اب بھی روس سے توانائی کی بڑی مقدار حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ درآمدات کا رخ فوری طور پر تبدیل کرنا آسان نہیں۔ ان کے بقول، بھارت امریکا کا ایک اہم اتحادی اور شراکت دار بھی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ماضی میں بھارت پر روسی تیل کی درآمدات کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتی رہی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے امریکا نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تاکہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ملک میں ایندھن کی قیمتیں کم کی جا سکیں۔ اس پیش رفت کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ روسی تیل کی درآمدات روکنا اب بھی امریکی خارجہ پالیسی کی کس حد تک ترجیح ہے۔
بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے متعلق سوال پر روبیو نے پیر کو صحافیوں سے کہا کہ ہر ملک کو متعدد پیچیدہ عوامل کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی حقائق اہم ہوتے ہیں اور بعض ممالک کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع تک رسائی حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔
بھارت اپنی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خام تیل کی 85 فیصد سے زیادہ مقدار درآمد کرتا ہے۔
روبیو وسطی ایشیا کے سیاسی اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کے لیے ازبکستان کے شہر سمرقند میں موجود تھے، جہاں سے وہ ممبئی روانہ ہوں گے۔






















Comments