BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.56%)
KSE100 Increased By (0.08%)
KSE30 Decreased By (-0.1%)
BAFL 55.69 Decreased By ▼ -0.19 (-0.34%)
BIPL 24.50 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 28.32 Decreased By ▼ -0.21 (-0.74%)
CNERGY 12.55 Decreased By ▼ -0.33 (-2.56%)
DFML 16.00 Increased By ▲ 0.22 (1.39%)
DGKC 183.00 Increased By ▲ 3.97 (2.22%)
FABL 91.00 Decreased By ▼ -0.17 (-0.19%)
FCCL 51.95 Increased By ▲ 0.65 (1.27%)
FFL 14.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.21%)
GGL 19.52 Increased By ▲ 0.03 (0.15%)
HBL 290.99 Increased By ▲ 1.22 (0.42%)
HUBC 192.40 Decreased By ▼ -0.44 (-0.23%)
HUMNL 8.70 Decreased By ▼ -0.45 (-4.92%)
KEL 5.81 Decreased By ▼ -0.20 (-3.33%)
LOTCHEM 24.55 Decreased By ▼ -0.40 (-1.6%)
MLCF 90.50 Increased By ▲ 1.27 (1.42%)
OGDC 299.64 Increased By ▲ 0.17 (0.06%)
PAEL 33.40 Decreased By ▼ -0.22 (-0.65%)
PIBTL 13.25 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 233.25 Increased By ▲ 3.12 (1.36%)
PPL 215.19 Decreased By ▼ -3.66 (-1.67%)
PRL 103.00 Decreased By ▼ -5.81 (-5.34%)
SNGP 92.70 Increased By ▲ 2.98 (3.32%)
SSGC 23.38 Increased By ▲ 0.61 (2.68%)
TELE 7.03 Decreased By ▼ -0.01 (-0.14%)
TPLP 12.00 Increased By ▲ 0.47 (4.08%)
TRG 57.45 Decreased By ▼ -0.17 (-0.3%)
UNITY 7.99 Decreased By ▼ -0.12 (-1.48%)
WTL 0.95 No Change ▼ 0.00 (0%)

آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی ایک نئی رپورٹ میں پاکستان کو درپیش ڈیجیٹل کمزوریوں کی بھاری قیمت کا چونکا دینے والا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سائبر ذرائع سے ہونے والے مالی فراڈ کے باعث پاکستان کو جی ڈی پی کے تقریباً 2.5 فیصد کے برابر نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جو ایشیا میں سب سے زیادہ تناسب ہے۔ یہ اس ملک کے لیے ایک سنگین چارج شیٹ ہے جو ڈیجیٹل مستقبل کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اس سفر کو محفوظ بنانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کررہا۔ ٹیکنالوجی برق رفتاری سے ترقی کررہی ہے، مگر شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات اس رفتار سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

اے آئی، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، فوری ادائیگیوں اور سوشل انجینئرنگ کے جدید طریقوں نے سائبر جرائم کی نوعیت بدل دی ہے جبکہ پاکستان میں ڈیجیٹل نظام کی توسیع، سائبر سیکیورٹی، جواب دہی اور ضابطہ کاری میں سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ہوئی ہے۔

ارکانِ پارلیمنٹ فرحان چشتی اور شہریار مہر کے واقعات اس مسئلے کی واضح مثال ہیں جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہیں بالترتیب 15 لاکھ اور 20 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ یہ فراڈ ڈپلیکیٹ سمز اور بینکاری نظام کی کمزوریوں کے ذریعے کیا گیا۔ فرحان چشتی کے معاملے میں ان کی اجازت کے بغیر جاری کی گئی سم کے ذریعے جرائم پیشہ افراد نے ان کے آن لائن بینکنگ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرلی حالانکہ انہوں نے کبھی آن لائن بینکنگ استعمال ہی نہیں کی تھی۔

ایک اور متاثرہ شخص کراچی کا تاجر ہے جسے ایسے فراڈ میں 85 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جس میں ایک بینک کے اندرونی اہلکار نے صارفین کی معلومات تک رسائی حاصل کرکے وہ دوسروں کے ساتھ شیئر کیں۔ ان واقعات کو محض انفرادی کوتاہیاں قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان سے نظام کی وسیع تر خامیاں سامنے آئی ہیں۔ ان میں بائیومیٹرک تصدیق کا کمزور نظام، سموں کے اجرا کی ناکافی نگرانی، صارفین کے ڈیٹا کا افشا ہونا اور مالی اداروں کے اندرونی کنٹرول کا غیر مؤثر ہونا شامل ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس معاملے میں ملوث سیلولر آپریٹر پر بھاری جرمانے عائد کیے لیکن بار بار خلاف ورزیوں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ سزائیں ایسی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں ناکام کیوں رہی ہیں؟ چوری شدہ رقم کی واپسی، چوری کی روک تھام کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ایسے واقعات پیش آنے سے پہلے ہی انہیں روکنے کے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

ضابطہ کاری میں اس غفلت کے اثرات مالی فراڈ سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ یونیسیف کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 15 لاکھ ایسے بچے جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، ایک ہی سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال کی کم از کم ایک قسم کا شکار ہوئے۔

رپورٹ میں جن بدسلوکی کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ان میں جنسی نوعیت کی دھمکیاں، بلیک میلنگ، ناپسندیدہ جنسی مواد بھیجنا اور متعلقہ افراد کی رضامندی کے بغیر ان کی نجی تصاویر شیئر کرنا شامل ہیں۔

اے آئی نے اس سنگین مسئلے کو مزید خطرناک بنادیا ہے کیونکہ اس کے ذریعے جعلی جنسی تصاویر، ڈیپ فیک مواد اور بدسلوکی کی دیگر اقسام تیار کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ کوئی ملک اس وقت تک ڈیجیٹل ترقی کے بامعنی اہداف حاصل کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا، جب تک اس کے لاکھوں بچے آن لائن درندوں کے خطرے سے دوچار ہوں اور ان کے تحفظ کے نظام ان خطرات سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار رہیں۔

اس معاملے میں ذمہ داری پورے ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی نظام پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو محض ہدایات جاری کرنے اور نقصان ہو جانے کے بعد خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کرنے سے آگے بڑھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان ریگولیٹری اداروں کے ساتھ ٹیلی کام آپریٹرز، بینکوں اور دیگر کاروباری اداروں کو بھی اعلیٰ تربیت یافتہ سائبر سیکیورٹی ماہرین، شناخت کی مضبوط تصدیق، فراڈ کی فوری نشاندہی، رسائی پر سخت کنٹرول اور ایسے نظاموں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی جو رقم غائب ہونے سے پہلے ہی مشکوک لین دین کی نشاندہی کرسکیں۔ اس معاملے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قانون سازی کا خلا ان ناکامیوں کو مزید سنگین بنارہا ہے۔

پاکستان میں اب بھی ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور مخصوص قانون کا فقدان ہے جو واضح ذمہ داریاں متعین کرے، شہریوں کی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ان کے غلط استعمال کی صورت میں مؤثر قانونی چارہ جوئی کا راستہ فراہم کرے۔

سائبر جرائم سے متعلق قوانین اور ان پر عملدرآمد کے طریقۂ کار کو بھی مؤثر، مناسب وسائل سے لیس اور متاثرین کے تحفظ پر مرکوز ہونا چاہیے۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان اختیارات کو عام شہریوں کو درپیش وسیع پیمانے کے خطرات کے مقابلے میں حکام پر تنقید کرنے والوں کے خلاف زیادہ آسانی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔

پاکستان کو بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے عمر کے لحاظ سے موزوں پابندیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے، جیسا کہ آسٹریلیا اور بعض دوسرے ممالک نے اس سمت میں اقدامات شروع کیے ہیں۔ اس کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو زیادہ جواب دہ بنانے، ڈیجیٹل خواندگی بڑھانے اور شکایات درج کرانے کے آسان طریقۂ کار متعارف کرانے کی بھی ضرورت ہے۔ ریاست بچوں کو آن لائن خطرات کا سامنا کرنے کے لیے مؤثر تحفظ کے بغیر تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔

ڈیجیٹلائزیشن بذاتِ خود کوئی حتمی مقصد نہیں، بلکہ اس کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ لوگ ٹیکنالوجی کو محفوظ طریقے سے استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں۔ جب تک پاکستان سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ اور بچوں کی آن لائن سلامتی کو اضافی اقدامات کے بجائے بنیادی ڈھانچے کا لازمی حصہ نہیں سمجھتا، ٹیکنالوجی کی ترقی شہریوں کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی صلاحیتوں سے آگے نکلتی رہے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف