غیر قانونی سرمایہ کاری اسکیمیں، ایس ای سی پی کا انٹیلی جنس یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ
- تصدیق شدہ معلومات مزید تحقیقات یا قانونی کارروائی کے لیے ایس ای سی پی کے متعلقہ شعبوں کو بھیجی جائیں گی
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ایک کارپوریٹ انٹیلی جنس یونٹ (سی آئی یو) قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد ایسی رجسٹرڈ کمپنیوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جن پر پونزی یا پیرامڈ اسکیمیں چلانے، مطلوبہ لائسنس کے بغیر ڈپازٹس لینے یا قرضے دینے، یا منظور شدہ مقاصد سے تجاوز کرتے ہوئے کاروبار کرنے کا شبہ ہو۔
بدھ کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ یونٹ شکایات موصول ہونے کا انتظار کیے بغیر ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے لیے عوامی طور پر دستیاب معلومات کی نگرانی کرے گا، جن میں خبروں، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اشتہارات سے حاصل ہونے والی معلومات شامل ہیں۔
تصدیق شدہ معلومات مزید تحقیقات یا قانونی کارروائی کے لیے ایس ای سی پی کے متعلقہ شعبوں کو بھیجی جائیں گی۔ مناسب صورتوں میں یہ معلومات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو (نیب) سمیت دیگر اداروں کے ساتھ بھی شیئر کی جاسکتی ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق اس یونٹ سے خطرات کی ابتدائی نشاندہی کی صلاحیت بہتر بنانے، بروقت ضابطہ جاتی کارروائی میں مدد دینے اور سرمایہ کاروں کو مزید مالی نقصان سے بچانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
مختلف عوامی ذرائع سے معلومات جمع کرکے اور بار بار سامنے آنے والے مشتبہ طریقہ کار کا جائزہ لے کر یہ یونٹ کمیشن کو ابھرتے ہوئے خطرات پر توجہ مرکوز کرنے میں بھی مدد دے گا۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ کارپوریٹ انٹیلی جنس یونٹ عوامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو تصدیق شدہ ضابطہ جاتی معلومات میں تبدیل کرکے کمیشن کی خطرات کی بنیاد پر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائے گا۔
ان کے مطابق، مشتبہ سرگرمیوں کی ابتدائی نشاندہی سے بروقت مداخلت ممکن ہوگی، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر ہوگی اور مالی نقصان بڑھنے سے پہلے سرمایہ کاروں کا تحفظ کیا جاسکے گا۔
یہ یونٹ ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کی دفعہ 20 کے تحت چیئرمین سیکریٹریٹ کے حصے کے طور پر قائم کیا جارہا ہے۔ اس کی سربراہی ڈائریکٹر یا ایڈیشنل ڈائریکٹر کریں گے، جبکہ دو افسران پر مشتمل ٹیم معاونت فراہم کرے گی۔

























Comments