امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار سے قبل ڈالر دباؤ کا شکار
- گزشتہ روز 18 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی
عالمی کرنسی مارکیٹ میں بدھ کو امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان رہا، کیونکہ سرمایہ کار افراطِ زر میں مسلسل اضافے کے تناظر میں شرح سود سے متعلق امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات کے بارے میں نئے اشاروں کے منتظر ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، گزشتہ روز 18 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی۔ تیل کی قیمتوں میں نرمی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سرمایہ کاری کے رجحان کے باعث امریکی اثاثوں کی طلب کا دوبارہ جائزہ لینے سے بھی ڈالر پر دباؤ پڑا۔
ڈالر انڈیکس 0.02 فیصد کمی کے بعد 102.16 پر آگیا، جبکہ گزشتہ روز اس میں 0.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ یورو 0.04 فیصد اضافے سے 1.1203 ڈالر کا ہوگیا، جبکہ جاپانی ین کی قدر تقریباً مستحکم رہی اور ایک ڈالر 158.32 ین کا رہا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی 0.03 فیصد اضافے سے 1.3256 ڈالر پر پہنچ گیا۔
سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا کے ستمبر کے صارف اشاریہ قیمت (سی پی آئی) کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جو بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔ توقع ہے کہ ماہانہ افراطِ زر اگست کے 0.4 فیصد سے بڑھ کر 0.6 فیصد ہوجائے گا، جبکہ سالانہ شرح 3.4 فیصد سے بڑھ کر 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی حکمت عملی کی ماہر کیرول کانگ کے مطابق، بنیادی افراطِ زر توقعات سے زیادہ رہنے کی صورت میں رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات اور ڈالر کی قدر بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب، نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز نے رواں سال شرح سود میں مزید ایک اضافے کی توقع ظاہر کی ہے، تاہم ان کے مطابق 2027 میں مزید اضافے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق، سرمایہ کاروں کو 27 اور 28 اکتوبر کے اجلاس میں شرح سود برقرار رہنے کا 77 فیصد امکان نظر آرہا ہے۔ ادھر عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس بھی بنکاک میں جاری ہیں، جہاں عالمی معیشت اور مالیاتی پالیسیوں پر توجہ مرکوز ہے۔























Comments