آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق امریکی جواب ناکافی ہے، ایران
- ستمبر کے اواخر میں تہران نے تصدیق کی تھی کہ اسے خلیج میں جنگ بندی بحال کرنے کی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوا ہے
ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی سات شرائط پر امریکا کے جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو ان معاملات کی وضاحت کرنا ہوگی جو تہران کے لیے اب بھی غیر واضح ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اتوار کو کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت شرائط پوری ہونے پر سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولی جاسکتی ہے اور سمندری آمدورفت معمول پر لائی جاسکتی ہے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران نے امریکا کے سامنے سات شرائط رکھی ہیں اور واضح کیا ہے کہ ان پر عمل درآمد تک نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ ہی مذاکرات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جواب میں بعض شرائط قبول کی گئی ہیں، تاہم دیگر معاملات اب بھی غیر واضح ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب امریکی جواب دینے کے عمل میں نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر خبر رساں ادارے رائٹرز کی درخواست پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ ستمبر کے اواخر میں تہران نے تصدیق کی تھی کہ اسے خلیج میں جنگ بندی بحال کرنے کی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوا ہے۔
قطر اور دیگر ثالث واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کررہے ہیں تاکہ تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہوسکے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

























Comments