لاہور میں آلودگی کا موسم طویل ہونے لگا
- لاہور بظاہر ماحولیاتی ہنگامی صورتِ حال کی ہر قسم کو اپنے نام کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے
لاہور بظاہر ماحولیاتی ہنگامی صورتِ حال کی ہر قسم کو اپنے نام کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ شہر کے لیے تازہ ترین انتباہ اس کی سالانہ موسمِ سرما کی اسموگ کا بحران پوری طرح شروع ہونے سے بھی پہلے سامنے آگیا ہے۔ یورپی یونین کی کوپرنیکس ایٹموسفیئر مانیٹرنگ سروس کے ایک نئے جائزے میں لاہور کو ان شہروں میں شامل کیا گیا ہے جہاں زمین کی سطح کے قریب اوزون کی صورتِ حال انتہائی خراب ہے۔ اس فہرست میں نئی دہلی، ڈھاکا اور چونگ چھنگ بھی شامل ہیں۔ خطرناک ذرات پر مشتمل فضائی آلودگی، طویل دورانیے کی گرمی اور تیزی سے بے ترتیب ہوتے موسم سے پہلے ہی نبرد آزما شہر کے لیے یہ نتائج صحتِ عامہ کے ایک بڑھتے ہوئے بحران کی نشان دہی کرتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے کسی اور موسمی بحران کے حکام کو مغلوب کرنے سے بہت پہلے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
زمین کی سطح کے قریب اوزون ایک خاص طور پر مشکل چیلنج ہے، کیونکہ یہ اس وقت بنتی ہے جب گاڑیوں، صنعتوں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والے آلودہ مادے سورج کی روشنی میں کیمیائی عمل سے گزرتے ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت اس کی تشکیل کے لیے سازگار ہوتا ہے، جس سے بڑھتی ہوئی گرمی اور بگڑتے ہوئے فضائی معیار کے درمیان ایک خطرناک تعلق پیدا ہوتا ہے۔ لاہور کو وقتاً فوقتاً اپنی لپیٹ میں لینے والی گھنی اسموگ کے برعکس، اوزون کی آلودگی اتنی زیادہ نقصان دہ سطح تک پہنچ سکتی ہے کہ اس کے ساتھ اسی قدر نمایاں بصری انتباہ بھی موجود نہیں ہوتا۔ اس آلودگی کی زد میں آنے سے سانس کی بیماریاں بگڑ سکتی ہیں، پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے اور فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے اثرات اسپتالوں پر پڑنے والے فوری دباؤ سے کہیں آگے تک پھیل جاتے ہیں۔
اس وسیع تر مسئلے کا حجم حکام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا چاہیے۔ جائزے کے مطابق جنوری سے ستمبر کے وسط تک دنیا کی 34 فیصد آبادی نے اوزون کی انتہائی خراب صورتِ حال کا سامنا کیا، جبکہ ایشیا خاص طور پر شدید متاثر ہوا۔ براعظم کی نصف سے زیادہ آبادی آلودگی کے بلند ترین درجے سے دوچار رہی۔ یہ نتائج اس لیے بھی تشویش ناک ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اوزون کی تشکیل کے لیے سازگار حالات پیدا کر رہی ہے، جبکہ شدید گرمی اور جنگلات میں لگنے والی آگ سے ٹرانسپورٹ اور صنعتوں کے اخراج کے اثرات مزید بڑھ رہے ہیں۔
لاہور کے لیے یہ انتباہ فضائی آلودگی کو بنیادی طور پر موسمِ سرما کا ہنگامی مسئلہ سمجھنے کی پالیسی کی ناکافی حیثیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ موسمی پابندیاں، عارضی بندشیں اور عجلت میں کیے جانے والے انتظامی اقدامات اس وقت معمول کا ردعمل بن چکے ہیں جب اسموگ ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ گرم موسم میں آلودگی کے ایک اور سنگین خطرے کا سامنے آنا زیادہ جامع حکمتِ عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ اوزون اور اس کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے آلودہ مادوں کی سال بھر قابلِ اعتماد نگرانی، گاڑیوں اور صنعتی اخراج کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد اور کھلے مقامات پر بے قابو جلانے کے خلاف مسلسل کارروائی ماحولیاتی انتظام کے مستقل اجزا ہونے چاہییں۔
حکومت کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ مسئلہ لاہور کی بلدیاتی حدود سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ آلودہ مادے صوبائی اور بین الاقوامی سرحدوں کے پار سفر کرتے ہیں، جبکہ پورا خطہ فضائی معیار کی خرابی کے ذمہ دار متعدد عوامل میں شریک ہے۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کا فضائی معلومات کے تبادلے، قبل از وقت انتباہی نظام بہتر بنانے اور اخراج میں کمی کے لیے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں واضح مشترکہ مفاد ہے۔ سیاسی اختلافات خطے میں آلودہ ہوا کی نقل و حرکت کو تبدیل نہیں کرسکتے، اور سفارتی تعلقات جیسے بھی ہوں، اس کے صحت پر اثرات سب کو برداشت کرنا پڑیں گے۔
بہتر یہی ہوگا کہ یہ تعاون محکمہ موسمیات، ماحولیاتی نگران اداروں اور سائنسی اداروں کے درمیان عملی انتظامات سے شروع کیا جائے۔ نگرانی کے یکساں معیارات، آلودگی سے متعلق پیش گوئیوں کا بروقت تبادلہ اور علاقائی آلودگی کے رجحانات پر مشترکہ تحقیق ہر ملک کی خطرناک صورتِ حال کا پیشگی اندازہ لگانے کی صلاحیت بہتر بنائے گی۔ پاکستان کو اپنے نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے انتظامات کے لیے کوشش کرنی چاہیے کہ صوبائی حکام کے پاس موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرنے کے لیے ضروری وسائل اور مہارت بھی موجود ہو۔
فوری ترجیح ہنگامی ردعمل سے آگے بڑھ کر روک تھام کی طرف جانا ہے۔ لاہور کو ایک ایسے قابلِ اعتماد پروگرام کی ضرورت ہے جس میں اخراج میں کمی کے قابلِ پیمائش اہداف، عوام کو قابلِ بھروسا انتباہات اور اداروں کی واضح ذمہ داریاں شامل ہوں۔ آلودہ ہوا کے باعث پیدا ہونے والی معاشی رکاوٹوں، بیماریوں اور عوامی پریشانیوں کا حکام پہلے ہی کافی تجربہ کرچکے ہیں۔ ایک اور انتباہ سے ان پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی تحریک ملنی چاہیے جن کے باعث یہ مسئلہ برقرار ہے۔
بظاہر لاہور میں فضائی آلودگی کا موسم اب مزید طویل اور متنوع ہوتا جارہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ یقینی بنائے کہ اس سے نمٹنے کی اس کی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026





















Comments