مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، ڈالر ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح پر مستحکم
- ایشیا میں کاروبار کے دوران ڈالر انڈیکس معمولی کمی کے بعد 102.14 پر آگیا
عالمی مالیاتی منڈیوں میں پیر کو امریکی ڈالر کی قدر ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہی، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔ سرمایہ کار رواں ہفتے امریکا کے اہم افراط زر کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جن سے امریکی مرکزی بینک کی آئندہ شرح سود پالیسی کے بارے میں اشارے ملنے کی توقع ہے۔
ایشیا میں کاروبار کے دوران ڈالر انڈیکس معمولی کمی کے بعد 102.14 پر آگیا، تاہم یہ گزشتہ ہفتے ریکارڈ کی گئی 18 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔ جاپان میں تعطیل کے باعث کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں اور خطے میں تجارت کا حجم کم رہا۔
ادھر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے اور ہفتے کے اختتام پر دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے تقریباً ایک فیصد کمی کے بعد 103.55 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے بھی قیمتوں پر اثر ڈالا۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اب بدھ کو جاری ہونے والے امریکی صارفین کے قیمتوں کے اشاریے پر مرکوز ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی مرکزی بینک نے افراط زر پر قابو پانے کے لیے 2023 کے بعد پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا تھا۔
سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق رواں ماہ شرح سود برقرار رہنے کے امکانات 81 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو ایک ماہ قبل 51 فیصد تھے۔
دیگر کرنسیوں میں یورو 0.1 فیصد اضافے سے 1.121 ڈالر، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3245 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ بٹ کوائن 0.2 فیصد بڑھ کر 83,788.50 ڈالر پر آگیا۔

























Comments